آئینی اور غیر آئینی طور ہٹائے گئے وزیر اعظم

محمد سعید آرائیں  جمعرات 30 نومبر 2023
m_saeedarain@hotmail.com

[email protected]

تین بار اقتدار سے ہٹائے گئے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ 2017 میں مجھے غیر آئینی طور پر جنھوں نے نکالا تھا، ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ ترقی کرتے ملک کی آئینی حکومت غیر آئینی طورکیوں ختم کی گئی جس کے بعد جس کو اقتدار میں لایا گیا اس نے ملک کا جو حشر کیا وہ سب کے سامنے ہے اور سزا عوام بھگت رہے ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت کو آئینی طور پر ہٹایا گیا اگر ہم ایسا نہ کرتے تو وہ وزیر اعظم 2028 تک ملک پر مسلط رہنے کا منصوبہ بنا چکا تھا جسے ہٹانا ضروری تھا ملک ڈیفالٹ کر چکا تھا اور ملک میں شدید مہنگائی کا طوفان آ جاتا اور عوام عذاب میں آجاتے۔

اس وقت ملک میں دو سابق وزراء کے ادوارکا موازنہ کیا جا رہا ہے اور دونوں کے حامی اپنے اپنے لیڈر کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔

ایک (ن) لیگ کا تجربہ کار وزیر اعظم تھا جو پہلے پنجاب کا وزیر خزانہ، وزیر اعلیٰ رہنے کے بعد وزیر اعظم منتخب ہوا تھا اور دوسرے ایک ناتجربہ کارکو 2018 میں وزیر اعظم بنوایا گیا تھا جو ایک کھلاڑی تھا اور اپنا اسپتال چلانے کا تجربہ رکھتا تھا جو 2002 میں رکن قومی اسمبلی پہلی بار منتخب ہوا مگر وہ وزیر اعظم نہ بنائے جانے پر قومی اسمبلی سے اکثر غیر حاضر رہنے کی وجہ سے پارلیمانی تجربے سے بھی محروم رہا اور پھر اس نے 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور 2011 میں تیسرے نمبر پر 2013 کے الیکشن میں آیا اور نئی حکومت آتے ہی اس نے 2014 میں اپنے اس سیاسی کزن کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا مگر حکومت نہ ہٹا سکے۔

سیاسی کزن ملک سے باہر ہی رہتے ہیں اور وہ پہلے پیپلز پارٹی اور بعد میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہٹوانے کے لیے دو بار اسلام آباد میں دھرنا دینے میں ناکام رہے تھے اور اپنا تیسرا دھرنا ناکام دیکھ کر پی ٹی آئی سے پہلے ہی دھرنا ختم کر گئے تھے۔

چیئرمین پی ٹی آئی اور کینیڈا میں مستقل رہائش رکھنے والے نے (ن) لیگی حکومت کو غیر آئینی طور ہٹانے کی بڑی کوشش کی جس کی ناکامی میں پیپلز پارٹی نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور دھرنے دینے والوں نے 5 ماہ ملک کو انتشار میں مبتلا رکھا، حکومت کو کام کرنے نہیں دیا مگر دونوں کوششوں اور بالاتروں کی سرپرستی کے باوجود ناکام رہے مگر ایک اعلیٰ عدالتی فیصلے کے ذریعے 2017 میں نواز شریف کو نااہل تو کرا دیا گیا تھا مگر پی پی حکومت کی طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی مدت ضرور پوری کر لی تھی۔

2018 کے الیکشن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل کرانے والوں نے نواز شریف کو پاناما میں ثبوت نہ ملنے پر اقامہ میں سزا دلوائی جس کا اعتراف پی ٹی آئی کے تمام سیاسی رہنما کر چکے ہیں۔

ملک میں پی ٹی آئی والوں کے سوا سب مانتے ہیں کہ نواز شریف کو غیر آئینی طور ہٹانے کے بعد انھیں غلط طور سزا دلائی گئی اور الیکشن 2018 میں نواز شریف اور اس کی بیٹی کو جبری سزا دلا کر جیل میں رکھا گیا اور بالاتروں کی سرپرستی کے باوجود پی ٹی آئی اکثریت نہ لے سکی تھی تو بالاتروں کی مدد سے دیگر پارٹیوں کو اتحادی بنوا کر ایک ناتجربہ کار، ضدی، غیر جمہوری ذہن رکھنے اور من مانیوں کے عادی کو وزیر اعظم بنوایا گیا تھا۔

پونے چار سال اقتدار میں رہنے والے وزیر اعظم نے ملک کو اچھی حکومت دینے کے بجائے نیب سے مل کر اپنے تمام سیاسی مخالفین جن میں سابق صدر، متعدد سابق وزرائے اعظم اور اپنے تمام مخالف سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں ڈلوائے، ان پر جھوٹے مقدمات بنوائے جس پر انھیں لانے والوں نے سمجھانا چاہا مگر من مانیوں کے عادی نے آمروں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا اور اپنے محسنوں کو ہی آنکھیں دکھانی شروع کردیں جس پر وزیر اعظم کو آئینی طور ہٹانے کی راہ ہموار ہوئی اور ملک میں پہلی بار وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد پیش کر کے آئینی طور پر ہٹایا گیا جس کی اجازت اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے دی تھی کیونکہ اقتدار بچانے اور تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد اس نے اپنے متنازع ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے آئینی تحریک عدم اعتماد کو قومی اسمبلی میں غیر قانونی رولنگ دے کر غیر آئینی قرار دلا دیا تھا۔

تحریک اعتماد کا اپوزیشن کا اقدام چونکہ مکمل طور پر آئینی تھا اس لیے کوئی قوت بھی وزیر اعظم کی مدد نہ کر سکی۔ آئینی طور ہٹائے گئے وزیر اعظم کو یہ آئینی اقدام منظور نہ تھا، اس لیے اس نے آئینی اقدام کو پہلے امریکی سازش قرار دیا پھر الزام بدلتے رہے پھر اداروں کو بھی نہ بخشا، نہ جانے کیا کیا کچھ کہا اور اب تک وہ اپنے ہٹائے جانے کو غلط سمجھتے ہیں حالانکہ انھیں ہٹانا مکمل طور پر آئینی اقدام تھا۔

2017 میں پاناما کے بجائے اقامہ کے غیر آئینی طور ہٹائے گئے وزیر اعظم نواز شریف کو ہٹانا، نااہل کرکے سزا دینے کو پی ٹی آئی کے سوا غلط عدالتی فیصلہ قرار دیتے ہیں جس پر سابق وزیر اعظم کا یہ واویلا درست تھا کہ مجھے کیوں ہٹایا جس پر ہٹائے جانے والوں نے انھیں سزا دے کر ان تمام سہولتوں سے محروم رکھا جو آئینی طور ہٹائے جانے والے وزیر اعظم کو آج کل جیل میں ملی ہوئی ہیں۔

انھیں پہلی گرفتاری پر چیف جسٹس پاکستان نے گڈ ٹو سی یو کہہ کر رہا کر دیا تھا اور غیر آئینی طور ہٹائے جانے والے وزیر اعظم کو جانبدار عدلیہ سے یہ جواب نہیں ملا تھا کہ مجھے کیوں ہٹایا۔ اب سابق وزیر اعظم کے سوال کا جواب ملنا چاہیے کہ 2017 میں وزیر اعظم کو کیوں ہٹایا گیا تھا؟

آئینی طور ہٹائے گئے وزیر اعظم اپنے ہٹائے جانے کو سازش سمجھتے ہیں اگر وہ سازش ہوتی تو جج بھی ان کے الزام کے حامی ہوتے اور اس کی مدت ضرور پوری کرا دیتے، اس لیے ضروری ہے کہ عدلیہ کی جانب سے ان الزامات کا نوٹس لیا جائے اور فیصلہ دیا جائیکہ غیر آئینی ہٹائے جانے والے کا الزام درست ہے یا آئینی طور ہٹایا جانے والا خود غلط ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔