پاکستان اور افغانستان …چند حقائق

لطیف چوہدری  اتوار 3 دسمبر 2023
latifch@express.com.pk

[email protected]

آج کل کی نوجوان نسل پاک افغان تعلقات کی نوعیت کے بارے میں حقائق سے آگاہ نہیں ہے بلکہ میرا تو خیال ہے کہ میری پیڑھی کے لوگ بھی لاعلم ہیں‘ آج کسی بیوروکریٹ‘صحافی ‘ٹی وی اینکراور تجزیہ کار کی معلومات بھی سطحی ہوں گی۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد کی مختصر سی تاریخ کا مطالعہ کریں تو افغانستان کے حکمران طبقات کے نظریات و خیالات سے کچھ نہ کچھ آگاہی ہو جاتی ہے اور انھی کی مدد سے یہ جانا جا سکتا ہے کہ آخر افغانستان کا حکمران طبقہ پاکستان سے مخاصمت کیوں رکھتا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت افغانستان پر ایک خاندان کی حکمرانی کا غلبہ تھا۔ اقتدار کے دوسرے اسٹیک ہولڈرز اس خاندان کے اتحادی تھے۔ ظاہر شاہ افغانستان کا مطلق العنان حکمران تھا جس کے لیے بادشا ہ کا ٹائٹل استعمال ہوتا تھا۔ ظاہر شاہ بادشاہ تھا‘ وزیراعظم سردارمحمد ہاشم اختیارات کا اصل سر چشمہ تھا ‘ یہ 1933 میں وزیراعظم بنا اور 1946 تک اس عہدے پر رہا۔

پاکستان کے بارے میں افغانستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال ‘اس دور میں ہی تیار ہوئے ہیں۔سردار محمد ہاشم کے بعد اس کا بھائی سردار شاہ محمود افغانستان کا وزیراعظم بنا جب کہ بادشاہ ظاہر شاہ ہی تھا۔ سردار شاہ محمود مئی 1946 میں وزیراعظم بنا اور 1953 تک اس عہدے پر رہا۔ پاکستان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کی مخالفت سردار شاہ محمود شاہ کی وزارت عظمیٰ میں کی گئی ‘اس حوالے سے ظاہر شاہ اور دیگر طاقتور حکمرانوں کی یہ متفقہ حکمت عملی تھی۔

دنیا کے کسی ملک نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت نہیں کی حتیٰ کہ ہندوستان نے بھی نہیں کی۔ واحد ملک افغانستان ہے جس کے حکمرانوں نے اقوام متحدہ میں مسلمانوں کے نئے ملک پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی۔ پاکستان کے شمال مغربی سرحد کو متنازعہ بنانے کی حکمت عملی بھی افغان اشرافیہ کی اسی سوچ کا شاخسانہ ہے۔عالمی صف بندی میں اس دور کو’گریٹ پاورز‘ کا دور کہا جاتا ہے جب کہ ان پاورز کی باہمی چپقلش کو’ گریٹ گیم ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

گریٹ گیم کے دور میں افغانستان کا حکمران طبقہ مغربی روایات کا حامل تھا‘روس کے اثرات بھی یہاں موجود تھے‘افغانستان کا یہ حکمران طبقہ سیکولر کیپٹل ازم کا حامی تھا لیکن سیاسی اعتبار سے میسولینی اور ہٹلرازم کے تحت سیکولر آمریت کا قائل تھا‘اسی سوچ کے تحت افغانستان کے سیکولر پرو نازی پلس فاشسٹ حکمران اشرافیہ نے پاکستان کی مخالفت اور اسے غیرمستحکم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔افغانستان میںسوشلسٹ انقلاب نے اس طبقے کی حکمرانی کا دور تمام کر دیا۔افغانستان کا صدرمحمد دائود افغانستان کے سوشلسٹ انقلابیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

افغانستان کے کیمونسٹ حکمرانوں اور وہاں کے دائیں بازو کی اشرافیہ کے درمیان مسلح چپقلش کا آغاز ہوا‘افغانستان کی دائیں بازو کی اشرافیہ امریکا اور نیٹو اتحاد کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی ‘پاکستان کا اس وقت کا حکمران طبقہ بھی اس اتحاد کا حصہ بنا ‘یوں افغانستان میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی ‘ افغان کیمونسٹ کے اقتدار کو بچانے کے لیے سوویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان میں بھیج دیں۔ اس کے بعد افغانستان میں انٹرنیشنل کیپٹل ازم اور انٹرنیشنل سوشل ازم آمنے سامنے آ گیا اور سرد جنگ کا آخری رائونڈ شروع ہوا جس کا اختتام سوویت یونین کی تحلیل کی صورت میں ہوا۔

یہ طویل پس منظر رقم کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ افغانستان کے سیاسی انتشار‘خانہ جنگی اور اس ملک کی تباہی کا ذمے دار پاکستان نہیں ہے بلکہ افغانستان کے مقتدر طبقے کی باہمی لڑائی نے افغانستان کواس حال میں پہنچایا ہے۔پاکستان میںنسلی منافرت پھیلانے کا ایجنڈا افغانستان کے حکمرانوں کی شرارت تھا‘اس وقت بھی افغانستان کے حکمران گریٹ گیم کے کھلاڑیوں کے لیے 12ویں کھلاڑی کا درجہ پانے کے لیے پنڈولیم کے دونوں جانب گھومنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسی دو عملی کی قیمت سردار محمد دائودنے اپنے اقتدارکے خاتمے اور اپنے خاندان کی جانیں دے کر ادا کی۔سردار دائود نے اقتدار بھی گریٹ گیم کی سازش کا حصہ بن کر حاصل کیا تھا اور ظاہر شاہ کا اقتدار ختم کر دیا تھا۔

افغانستان کی ہر حکومت نے پاکستان کے حوالے سے ماضی کی پالیسی کوقائم و دائم رکھا ہے۔ آج طالبان کی حکومت بھی اسی پالیسی کے تحت چل رہی ہے‘ اسے اگر ڈبل کراس پالیسی کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے افغان حکومتوں نے کبھی پشتونستان کی حکمت عملی اختیار کی‘ کبھی طبقاتی تقسیم کا ماسک پہنا اور اب بیک وقت ’’لور افغان ‘‘اورمذہب کا ماسک پہن کر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اس پس منظر کو سامنے رکھیں تو پاکستان میں دہشت گردوں کی کارروائیاں نئی نہیں لگیں گی۔ پاکستان سیکیورٹی فورسزسات دہائیوں سے شمال مغربی سرحد پر مسائل کا سامنا کرتی آ رہی ہے۔لہٰذا حالیہ مسائل بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی جو کھیل کھیل رہے ہیں‘اس گیم کو جیتنا پاکستان کے لیے کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ دہشت گرد کون ہیں؟ کہاں سے آتے ہیں؟کہاں قیام پذیر ہوتے ہیں اور کس ملک کی سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں؟

یہ حقائق اب کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ پاکستان کے سسٹم میں موجود وہ کون سے بااثر لوگ ہیں جو دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں؟ حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں‘ دہشت گردوں کو گلوری فائی کرتے ہیں، انھیں معلومات فراہم کرتے ہیں؟ پاکستان کے اندر وہ کونسے گروہ ہیں جن کے کاروباری اور مالی مفادات دہشت گردوں کے سرپرستوں، نگہبانوں اورہنڈلرز کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں؟ان حوالوں سے کئی شک دور ہوچکے ہیں، جو شکوک تاحال موجود ہیں، وہ بھی جلد دور ہوجائیں گے۔

کالعدم ٹی ٹی پی، پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کو کھلے عام تسلیم کررہی ہے، اس گروہ کی وفاداری کہاں ہے؟اس کے عزائم کیا ہیں؟اس کے فنانشنل سورسز کون سے ہیں اور اس گروہ کی فنانشل لائف لائن کہاں کہاں سے گزر کر اس تک پہنچتی ہے؟افغانستان کی عبوری حکومت کس طرح دو عملی کا مظاہرہ کر رہی ہے‘ افغانستان کے طالبان ٹی ٹی پی کے ذریعے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں‘مذہبی جنگجو گروپوں اور جرائم پیشہ وائٹ کالر کریمنلز کس نقطے پر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں‘ ان چھپے ہوئے رازوں سے پردہ آہستہ آہستہ سرک رہا ہے‘ کئی حقائق سامنے آ گئے ہیں‘ باقی حقائق پالیسی سازوں کی ٹیبل پر موجود ہیں۔

افغانستان کی عبوری طالبان حکومت اور پاکستان میں موجودانتہا پسندطبقہ جتنا جلدحقائق آشنا ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ورنہ تباہی اور بربادی کا آپشن تو سب کے لیے کھلا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔