اکبر ایس بابر کا اچانک آنا پی ٹی آئی کو انتخابات سے دور رکھنے کی سازش ہے، ترجمان تحریک انصاف

ویب ڈیسک  منگل 5 دسمبر 2023
فوٹو:فائل

فوٹو:فائل

 لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے اکبر ایس بابر کے انٹرا پارٹی انتخابات کو چلینج کرنے کے فیصلے کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل پی ٹی آئی کو انتخابات سے دور رکھنے کی سازش ہوگا اور اچانک ایسے شخص کا منظر عام پر آنا  بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی پریس کانفرنس اور انٹرا پارٹی انتخابات کو چلینج کرنے کے فیصلے پر تحریک انصاف کے ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور بحرانوں سے نجات کی راہ صاف شفاف انتخابات میں مضمر ہے۔

تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ ملک میں ساکھ اور حیثیت کے حامل انتخابات کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کی انتخابی عمل میں یکساں اور مساوی انداز میں شرکت ناگزیر ہے ، پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی، کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔

ترجمان نے کہا کہ تحریک انصاف یا اس کی قیادت کے بغیر شفاف انتخابات کا کوئی تصور ممکن ہے نہ عوام اسے قبول کریں گے، تحریک انصاف کو سیاسی عمل سے باہر کرنے کی ریاستی کوششوں سے قوم پوری طرح واقف ہے اور اکبر ایس بابر کا اچانک منظر عام پر آنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

مزید پڑھیں: اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیے

پی ٹی آئی نے ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کیلئے اپنی غیرجانبداری برقرار رکھنا دستور و جمہوریت کے استحکام اور انتخابات کی ساکھ و شفافیت کیلئے لازم ہے، الیکشن کمیشن فتنہ گروں کے گمراہ کن بیانیوں اور کرائے کے نامعلوم درخواست گزاروں کی جانب سے انتشار کے بیج بونے کی حوصلہ شکنی کرے۔

تحریک انصاف نے کہا کہ ستمبر 2011 سے پورے قانونی عمل کے ذریعے جماعت سے نکالے جانے اور جماعت کی بنیادی رکنیت سے محروم ایک کینہ پرور اور شرانگیز ٹاؤٹ کی درخواست کمیشن کو الجھانے کی گھناؤنی سازش ہے، جھوٹے اور جعل ساز کو کمیشن کے روبرو زیرِالتوا معاملے پر بیان بازی سے روکنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

تحریک انصاف کے ترجمان نے مزید کہا کہ تحفظات کے باوجود پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی کے آئین اور قانون کے مطابق انٹراپارٹی انتخابات کا انعقاد کرایا اور پھر قانونی کارروائی کو مکمل کر کے دستاویزات متعلقہ ادارے کے روبرو جمع کروا دی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔