خان کو الیکشن سوٹ نہیں کرتے

جاوید چوہدری  جمعرات 7 دسمبر 2023
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

دسمبر 2022 میں عمران خان زمان پارک میں تھے اور باہر کارکنوں‘ پولیس اور رینجرز کا پہرہ تھا‘ خان صاحب نے پنجاب اور کے پی میں اپنی حکومتیں ختم کرنے کا اعلان کر رکھا تھا بس تاریخ باقی تھی‘ چوہدری پرویز الٰہی حکومت نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔

یہ 15 سال بعد بڑی مشکل سے اقتدار میں آئے تھے اور یہ اسے انجوائے کرنا چاہتے تھے‘ دوسرا یہ جانتے تھے ہم حکومت کی وجہ سے اپنے گھرمیں بیٹھے ہیں جس دن اقتدار ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔

اس دن ہمارے گھر کے سامنے کھڑی پولیس ہی ہمیں گرفتار کر لے گی‘ ہم پھر اپنے گھر میں رہنے کے قابل نہیں رہیں گے چناں چہ یہ خود بھی خان صاحب کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور مختلف لوگوں کو بھی زمان پارک بھجوا رہے تھے مگر دوسری طرف ایک ہی فیصلہ تھا‘ ہم نے دونوں صوبوں کی اسمبلیاں توڑنی ہیں‘ عمران خان کا خیال تھا پنجاب اور کے پی میں اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد سپریم کورٹ ایکٹو ہو جائے گی۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال الیکشن کا حکم دیں گے اور یوں پورے ملک میں الیکشن ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ‘ افراتفری کے اس دور میں پی ٹی آئی کے ایک اہم اور سینئر رکن عمران خان کو سمجھانے کے لیے زمان پارک گئے‘ خان صاحب نے جواب میں طویل تقریر کر دی لیکن وہ صاحب انھیں بار بار سمجھاتے رہے‘ ان کا کہنا تھا یہ سیدھی سادی خودکشی ہے۔

پوری پارٹی جیلوں اور سڑکوں پر رُل جائے گی مگر خان صاحب جب اپنی آئی پر آ جاتے ہیں تو پھر یہ پہاڑ سے بھی کود کر رہتے ہیں لہٰذا مکالمہ طویل ہو گیا‘ خان صاحب نے آخر میں کہا ’’میں یہاں چھپ کر بیٹھا ہوں‘ گھر سے باہر نہیں نکل سکتا‘ بنی گالا نہیں جا سکتا اور پرویز الٰہی اور محمود خان موجیں کر رہے ہیں‘ یہ فوج کو اپنی وفاداری کا حلف دے رہے ہیں‘ میں اپنی کاسٹ پر انھیں مزے کیوں کرنے دوں؟‘‘ اس دلیل کے بعد ڈائیلاگ ختم ہو گیا۔

یہ مکالمہ صرف مکالمہ نہیں تھا‘ یہ بنیادی طور پر عمران خان کا مائینڈ سیٹ تھا‘ خان صاحب اپنی کاسٹ پر کسی شخص کو موجیں نہیں کرنے دیتے‘ اس میںکوئی شک نہیں یہ شخص قدرت سے کوئی اسپیشل مقدر لکھوا کر آیا ہے‘ پچاس سال سے لائم لائیٹ میں ہے۔

اس آدھی صدی میں اس نے کیا کیا نہیں کیا اور اس کا کس کس کے ساتھ سکینڈل نہیں بنا‘ زینت امان سے لے کر ہاجرہ خان تک ایک لمبی فہرست ہے‘ یہ خود اپنے منہ سے کہتا تھا ’’میں پلے بوائے تھا‘‘ اس کے منہ سے بھی کیا کیا غلط الفاظ نہیں نکلے‘ اس نے کیا کیا یوٹرن نہیں لیے‘ ٹیریان وائیٹ کی عمر اس وقت 31 سال ہے اور یہ عمران خان کے نام کا ٹیگ گلے میں لٹکا کر پوری دنیا میں پھر رہی ہے۔

اس کی پرورش بھی جمائما خان نے کی اور یہ عمران خان کے بیٹوں کے ساتھ پل کر جوان ہوئی‘ یہ سکینڈل بھی 1996سے خان کا پیچھا کر رہا ہے مگر آج تک اس کا بال تک بیکا نہیں ہوا‘ کرکٹ کے بعد شوکت خانم کینسر اسپتال‘ اسپتال کے بعد نمل یونیورسٹی‘ نمل یونیورسٹی کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور پھر وزارت عظمیٰ اور آخر میں ساری ریاست ایک سائیڈ پر اور خان بلا پکڑ کر دوسری سائیڈ پر‘اس شخص کا ساڑھے تین سال کی انتہائی بری پرفارمنس بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی۔

لوگ آج بھی ان کے جھوٹ پر اپنے سارے سچ قربان کر دیتے ہیں‘ بشریٰ بی بی سے عدت میں نکاح بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا‘ یہ غلطی اگر اس ملک میں کسی دوسرے سے سرزد ہوئی ہوتی تو اس کی لاش چوک پر لٹکی ہوتی اور کوئی اس کی تدفین تک کے لیے تیار نہ ہوتا‘ یہ خان کا آہنی مقدر ہے جس پر کوئی تیر‘ کوئی گولی اثر نہیں کرتی‘ میں بہرحال اسے خان کی خوش قسمتی نہیں بلکہ پوری قوم کی بدقسمتی سمجھتا ہوں‘ اللہ جب کسی قوم کی مت مارتا ہے تو پھر اسے سامنے پڑی حقیقتیں بھی نظر نہیں آتیں اور اللہ نے ہماری مت مار دی ہے چناں چہ آپ نتیجہ دیکھ لیں‘ میں ایشو کی طرف واپس آتا ہوں۔

عمران خان اپنی قیمت پر کسی شخص کو موجیں نہیں مارنے دیتا ‘ یہ قومی اسمبلی سے نکلا تو اس نے اپنے بعد اپنے ایم این ایز کو قومی اسمبلی نہیں جانے دیا‘ اس نے اپنے بعد محمود خان اور پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ نہیں رہنے دیا اور اپنی جیل کے بعد کسی دوست‘ کسی پارٹی لیڈر کو بھی گھر میں نہیں بسنے دیا‘ یہ سب دربدر ہوئے یا جیلوں میں فرشوں پر سو رہے ہیں‘ اب سوال یہ ہے کیا ایسے خان صاحب چاہیں گے یہ جیل میں رہیں۔

میڈیا میں ان کی تصویر اور نام پر پابندی ہو‘ یہ زمین پر سوتے رہیں اور گوہر خان ان کی پارٹی کی قیادت کے مزے لوٹتے رہیں‘ لوگ ٹکٹ اور عہدوں کے لالچ میں ان کے اردگرد پھرتے رہیں۔

دوسرا جب الیکشن ہوں تو پارٹی کے تمام سینئر سیاستدان مثلاً شاہ محمود قریشی‘ چوہدری پرویز الٰہی‘ علی محمد خان‘ میاں محمود الرشید‘ یاسمین راشد‘ عمرسرفراز چیمہ‘ اعظم سواتی‘ اسد قیصر اور مراد سعید الیکشن نہ لڑ سکیں اور پی ٹی آئی کی طرف سے نوجوان وکیل اسمبلیوں میں بیٹھے ہوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر خان صاحب کا مزید بیڑہ غرق کر رہے ہوں اور اگر قوم واقعی پی ٹی آئی کے کھمبوں کو ووٹ دے دیں اور گوہر خان کی قیادت میں پی ٹی آئی سنگل لارجسٹ پارٹی بن جائے یا دو تہائی اکثریت حاصل کر لے جب کہ خان صاحب جیلوں میں پڑے رہیں۔

یہ سائفر کیس میں عمر قید بھگت رہے ہوں یا عدت میں نکاح کے جرم میں اسلامی تعزیرات کا سامنا کر رہے ہوں اور نوجوان وکلاء اور گوہر خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہے ہوں‘ یہ ایک پیج پر ہوں‘ کیا عمران خان کو یہ سوٹ کرے گا؟ ہرگز نہیں‘ یہ عمران کا شو ہے‘ پارٹی عمران خان کی ہے۔

جدوجہد بھی خان کی اور مار بھی خان کھا رہا ہے لہٰذا یہ کسی قیمت پر کسی دوسرے کو اپنی کاسٹ پر مزے نہیں کرنے دے گا‘ خان یہ بھی جانتا ہے 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک کے بعد ریاست نے فیصلہ کیا تھا ہم آیندہ ججز اور وکلاء کو نہیں چھیڑیں گے اور ریاست ابھی تک اپنے اس فیصلے پر قائم ہے‘ جنرل فیض حمید نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بنوایا لیکن قاضی صاحب اپنے گھر میں رہے اور یہ روزانہ پیدل گھر سے دفتر آتے جاتے تھے۔

کسی نے انھیں گرفتار کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی‘ جسٹس عمر عطاء بندیال نے بھی اسٹیبلشمنٹ کو زچ کر دیا تھا لیکن ان کے خلاف بھی آڈیو لیکس سے زیادہ کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور یہ بھی اب ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔

خان صاحب نے بھی پچھلے ڈیڑھ سال سے وکلاء کو اپنا اوپننگ بیٹسمین بنا رکھا ہے اور ابھی تک کوئی وکیل گرفتار ہوا اور نہ کسی کو نقصان پہنچا یہاں تک کہ نو اور دس مئی کے واقعات میں بھی وکیل گرفتار نہیں ہوئے‘ خان صاحب ریاست کی اس کم زوری سے واقف ہیں چناں چہ یہ اپنی پارٹی وکلاء کے حوالے کر کے صورت حال کو انجوائے کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود سوال یہ ہے کیا یہ وکلاء کو اسمبلیوں تک جانے کی اجازت دیں گے۔

کیا یہ انھیں حکومت بنانے اور چلانے کا موقع دیں گے؟ جی نہیں‘ ہرگز نہیں‘ ہم جس عمران خان کو جانتے ہیں وہ یہ نہیں ہونے دے گا لہٰذا اس صورت حال میں صرف ایک شخص ہے جسے فروری 2024 میں الیکشن سوٹ نہیں کرتے اور وہ شخص ہے عمران خان‘ یہ نہیں چاہے گا میں جیل میں سڑتار ہوں اور دوسرے کھلاڑی میچ کو انجوائے کرتے رہیں۔

میں دل سے سمجھتا ہوں الیکشن ہر صورت ہونے چاہییں اور 8 فروری ہی کو ہونے چاہییں‘ کیوں؟ کیوں کہ ملک الیکشن کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکے گا‘ ملک میں اس وقت بے شک معاشی استحکام ہے‘ ڈالر کنٹرول ہے‘ اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے‘ سڑکوں پر بھی کسی قسم کی افراتفری نہیں‘ باہر سے سرمایہ کاری بھی ہو رہی ہے۔

آئی ایم ایف بھی مطمئن ہے اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں اور یہ تمام کام نگران حکومت نے کیے‘ میں یہاں وزیرتجارت وصنعت گوہر اعجاز کا ذکر ضرور کروں گا‘ اس شخص نے ایکسپورٹس میں ماہانہ ایک اعشاریہ ایک بلین ڈالر اضافہ کر دیا اور یہ اندیشہ بھی موجود ہے الیکشن اس استحکام کو ایک بار پھر ہلا دیں گے۔

اسٹاک ایکسچینج بھی نیچے آئے گی اور ڈالر بھی دوبارہ تین سو سے اوپر جائے گا اور کھلتی ہوئی انڈسٹری بھی ایک بار بند ہو گی لیکن اس کے باوجود ہمارے پاس الیکشن کے سوا کوئی آپشن نہیں‘ ملک کو زیادہ دیر تک ایڈہاک پر نہیں چلایا جا سکتا اور ہمیں بہرحال الیکشن کا رسک لینا ہوگا اور دوسرا سپریم کورٹ کا واضح حکم بھی آ چکا ہے۔

اس حکم کے بعد بھی اگر الیکشن نہیں ہوتے تو پھر سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کی رٹ متاثر ہو گی اور ہم سردست یہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے چناں چہ الیکشن ضرور ہونے چاہییں اور 8 فروری ہی کو ہونے چاہییں مگر سوال یہ ہے کیا عمران خان یہ ہونے دیں گے‘ میرا خیال ہے خان کو الیکشن سوٹ نہیں کرتے‘ ان کی خواہش ہو گی الیکشن سال بھر آگے کھسک جائیں اور اس دوران وہ معجزہ ہو جائے جس کی نوید انھیں روحانی طاقتیں دے چکی ہیں۔

یہ اس معجزے کے بعد جیل سے باعزت رہا ہو کر بنی گالا آئیں‘ الیکشن ہوں اور یہ براہ راست وزیراعظم بن جائیں‘ یہ اس وقت کا انتظار کرنا چاہیں گے چناں چہ اس وقت اگر الیکشن کو کسی سے خطرہ ہے تو وہ ہمارے محبوب قائد ہمارے محترم کپتان ہیںاور یہ اس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔

نوٹ:دسمبر کے تیسرے ہفتے میںہمارا گروپ اُردن جا رہا ہے‘ آپ اس گروپ کا حصہ بننے کے لیے ان نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

+92 301 3334562, +92 331 5637981,+92 331 3334562

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔