اردو یونیورسٹی؛ وائس چانسلر کے عہدے کے لیے’ پروفیسر‘ کی شرط ختم

صفدر رضوی  جمعرات 7 دسمبر 2023
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

  کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کے تقرر کے لیے قائم تلاش کمیٹی نے مذکورہ منصب کے امیدواروں کے لیے ’’ پروفیسر‘‘  ہونے  کی شرط ختم کردی ہے اور دو روز بعد شائع ہونے والے اشتہار میں’’امیدوار برائے پروفیسر پر ایچ ای سی کی تمام شرائط عائد ہوں گی‘‘ سے متعلق سطر شامل ہی نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ایچ ای سی کے قواعد کے تحت پروفیسر کے لیے 15 برس کا تدریسی تجربہ اور آخری 5 برسوں میں 5 تحقیقی مقالوں کی اشاعت لازمی ہوتی ہے تاہم اردو یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے امیدواروں کے لیے پروفیسر کی شرط ختم کرنے سے امیدوار اب ان دو مذکورہ تکنیکی شرائط سے آزاد ہوگئے ہیں۔

اب ایسے امیدوار بھی وائس چانسلر کے منصب کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جو اسٹنٹ پروفیسر یا ایسوسی ایٹ پروفیسر رہے ہوں یا پھر وہ اس تدریسی کیٹیگری سے باہر ہوں، تاہم تلاش کمیٹی نے امیدوار کے لیے 15 تحقیقی مقالوں اور 20 برس کے تدریسی/انتظامی تجربے کی مجموعی شرط شامل کی ہے لیکن علیحدہ سے تدریسی تجربے کی شرط عائد نہیں کی گئی۔

امیدوار کی عمر کی حد 65 برس رکھی گئی ہے جس کے لیے پی ایچ ڈی ہونا لازمی ہوگا،  یہ فیصلے ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کی کنوینر شپ میں منعقدہ تلاش کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں شریک ایک رکن نے’’ ایکسپریس ‘‘ کو بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر کافی بحث ہوئی کہ امیدوار کے لیے پی ایچ ڈی اور پروفیسر کی لازمی شرط ختم کردی جائے تاہم اکثر اراکین پی ایچ ڈی کی شرط ختم کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک سینیئر رکن کا اصرار تھا کہ یونیورسٹی کو ریسرچر نہیں ایڈمنسٹریٹر درکار ہے لہٰذا پروفیسر کی شرط ختم کردی جائے اور مذکورہ رکن کے اصرار پر یہ شرط ختم کردی گئی۔

علاوہ ازیں اجلاس میں اردو یونیورسٹی کی پرنسپل سیٹ(وائس چانسلر و دیگر کلیدی انتظامی دفاتر) کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے حوالے سے غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی تاہم اس موقع پر کہا گیا کہ فی الوقت یہ بات چھوڑ دیں یہ ہمارا کام ہے ہم اسے بعد میں دیکھیں گے۔

’’ ایکسپریس‘‘ کے ایک سوال پر چیئرمین ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی ایکٹ میں پرنسپل سیٹ اسلام آباد لکھی گئی ہے تو اسے وہیں ہونا بھی چاہیے،  چیئرمین ایچ ای سی نے اپنی بات کی تائید میں مثال دیتے ہوئے کہا کہ ورچوئل یونیورسٹی کا وائس چانسلر آفس بھی پہلے لاہور میں ہوا کرتا تھا تاہم اسے بعد میں اسلام آباد منتقل کردیا گیا تو اردو یونیورسٹی کا کیوں نہیں ہوسکتا۔

واضح رہے کہ تلاش کمیٹی کا یہ اجلاس ایچ ای سی کے ریجنل دفتر کراچی میں منعقد ہوا تھا جس میں پروفیسر ڈاکٹر اے کیو مغل ، شاہد شفیق ، پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، ڈاکٹر سید اخلاق حسین اور شیخ کاشف رفعت شریک ہوئے۔

اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق تلاش کمیٹی 6 ہفتے میں اپنا کام مکمل کر لے گی تاکہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں جلد از جلد مستقل شیخ الجامعہ کا تقرر ہو سکے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔