شیر افضل مروت کی گرفتاری کا ڈرامائی موڑ، پی ٹی آئی کے نائب صدر نے حراست کی تردید کردی

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 8 دسمبر 2023
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

باجوڑ: پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں خیبرپختونخوا پولیس نے اغوا کرنے کی کوشش کی مگر وہ بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر شیر افضل مروت نے اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ میں باجوڑ میں ہفتے کو ہونے والے کنونشن کیلیے جارہا تھا تو چکدرہ کے قریب گل آباد میں داخل ہوتے ہی پولیس کی بھاری نفری جس میں 300 سے زائد اہلکار تھے، نے مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے (پی ٹی آئی) کے کارکنان نے سڑک بلاک کی جس کے بعد میں وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

افضل مروت نے کہا کہ ’میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ باجوڑ میں ورکرز کنونشن کی قیادت سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا، خوف کے پیچھے ہی فتح ہے‘۔ انہوں نے کارکنان اور عوام سے ورکرز کنونشن میں بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل بھی کی اور کہا کہ آپ سب ملکر پیغام دے دیں کہ ہم کسی صورت بھی سرینڈر نہیں کریں گے، ہم پاکستان کی بہتری کیلیے کوششیں جاری رکھیں گے اور کسی صورت بھی شکست کو تسلیم نہیں کریں گے۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کے وکیل اور پارٹی کے سینئر نائب صدر کو باجوڑ جاتے ہوئے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، جس کے بعد کارکنان نے چکدرہ کے مقام پر احتجاج شروع کردیا۔ ذرائع کے مطابق صوابی میں گزشتہ ہفتے کو ہونے والے ورکرز کنونشن کے بعد شیر افضل مروت اور پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف مقامی انتظامیہ کی جانب  ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ جس میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت 21 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے اس مقدمے میں شیر افضل مروت کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم حفاظتی ضمانت دیکھنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس سے قبل خیبرپختوںخوا پولیس نے شیر افضل مروت کو گرفتار کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کچھ دیر روکنے کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس نے شیر افضل مروت کو کنونشن میں شرکت سے روکتے ہوئے واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔

دریں اثنا شیر افضل مروت نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا ہے کہ محفوظ مقام پر ہوں کل باجوڑ کنونشن سے خطاب کروں گا۔ بعد ازاں باجوڑ پہنچنے کے بعد انہوں نے کارکنان کے نام بھی ویڈیو پیغام جاری کیا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔