جعلسازی سے قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں پنجاب پولیس کا افسر بھی گرفتار

یعقوب ملک  منگل 27 مئ 2014
چارسال قبل رہاکیے گئے ان قیدیوں کا حکومت کوعلم اس وقت ہواجب تین ماہ پہلے برطانوی حکومت نے اس بارے میں مراسلہ بھیجا۔  فوٹو: فائل

چارسال قبل رہاکیے گئے ان قیدیوں کا حکومت کوعلم اس وقت ہواجب تین ماہ پہلے برطانوی حکومت نے اس بارے میں مراسلہ بھیجا۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے نے برطانیہ میں سزا یافتہ تین قیدیوں کی کراچی جیل سے جعلی کاغذات پررہائی کے معاملے میں پنجاب پولیس کاایک سب انسپکٹر بھی گرفتارکرلیا ہے۔

اس حوالے سے28 مارچ کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل کی جانب سے درج ایف آئی آرنمبری 24/14 کے مطابق 3 پاکستانی شہریوں ناصرخان،اسدحبیب اوررضوان حسین کوبرطانیہ میں قتل اورمنشیات کے مقدمہ میں سزا ہوئی تھی،ناصرخان اوررضوان حسین کو بالترتیب 21 فروری 2002  اورآٹھ مارچ 2010کوقتل کے مقدمات میں عمر قید جبکہ اسدحبیب کوسات اگست 2004 کو منشیات مقدمہ میں 25سال قیدکی سزا ہوئی تھی اوران ملزمان کوسزا پاکستان میں پوری کرنے کیلیے معاہدہ کے تحت یہاں بھیجاگیا تھا۔قیدی ناصرخان کو نو ستمبر2010،رضوان حسین اوراسد حبیب کو نومبر2010 میں کراچی جیل سے رہاکیاگیا تھا۔

چارسال قبل رہاکیے گئے ان قیدیوں کا حکومت کوعلم اس وقت ہواجب تین ماہ پہلے برطانوی حکومت نے اس بارے میں مراسلہ بھیجا۔ان قیدیوںکی رہائی کیلیے سینٹرل جیل کراچی کے حکام کو مختلف اوقات میں مراسلے بھیجنے پروفاقی وزارت داخلہ کے سیکشن افسر(لا)علی محمدکواسلام آباد جبکہ رہا کیے گئے ایک ملزم اسد حبیب کوکراچی سے گرفتارکیاگیا تھا تاہم دو ملزمان ابھی تک مفرور ہیں۔سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کے عدم تعاون پر ایف آئی اے کو ان دونوں ملزمان کی گرفتاری میں مشکلات کاسامناہے۔ایف آئی اے ٹیم کواس کیس کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوکہ سب انسپکٹر ابرار نے ملزم اسدحبیب کومعمولی مقدمہ میں گرفتارکرکے لاہور جیل بھیج دیاجہاںسے اس نے ضمانت کرالی لیکن ریکارڈ میں اسے گرفتارہی ظاہرکیا جاتا رہا۔

دیگردومفرورملزمان کے پتے جعلی ہونے پرایف آئی اے ٹیم کوگرفتاری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر جلیل خان کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے سندھ حکومت کوتعاون کیلئے متعدد بارخطوط اور یاددہانی کے مراسلے بھیجے لیکن ابھی تک مثبت جواب نہیں ملا۔اس حوالے سے جب جلیل خان سے  رابطہ کیاگیاتوانھوں نے سب انسپکٹرکی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس مقدمے میں ملوث ہے، انھوں نے یہ بھی تسلیم کیاکہ سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ اورجیل خانہ جات کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا ۔انھوں نے کہا اگردومفرورملزمان گرفتار نہ ہوئے توانہیں اشتہاری قرار دلایاجائیگا۔ذرائع کے مطابق گرفتارسیکشن افسرنے اس معاملہ میں ایک اعلیٰ افسرکے ملوث  ہونے کابھی انکشاف کیاتھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔