’’پرتھ ٹیسٹ؛ عثمان خواجہ فلسطینیوں کی حمایت کردہ جوتے نہیں پہنیں گے‘‘

ویب ڈیسک  بدھ 13 دسمبر 2023
آسٹریلوی کپتان نے تصدیق کردی (فوٹو: ایکسپریس ویب)

آسٹریلوی کپتان نے تصدیق کردی (فوٹو: ایکسپریس ویب)

آسٹریلوی ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز کا کہنا ہے کہ اوپنر عثمان خواجہ پاکستان کیخلاف پرتھ ٹیسٹ میچ میں فلسطینیوں کی حمایت میں تحریر شدہ جوتے نہیں پہنیں گے۔

پاکستان کے خلاف میچ سے قبل ٹریننگ سیشن کے دوران عثمان خواجہ نے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے جوتے (اسپائکس) پہنے تھے، جس پر انہوں نے لکھا ہوا تھا کہ آزادی سب کا حق اور تمام زندگیاں برابر ہیں۔

آسٹریلوی اوپنر نے ٹریننگ سیشن سے قبل کرکٹ آسٹریلیا اور ساتھیوں کو جوتے پر لکھے پیغام سے متعلق آگاہ نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیں: عثمان خواجہ نے ٹریننگ سیشن کے دوران فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کردی

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر (ایکس) پر بھی کرکٹر نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت پر ٹوئٹس کو ری پوسٹ کیا تھا، سوشل میڈیا پر انکی پوسٹیں آئی سی سی کے قوانین کی خلاف ورزی پر نہیں آتیں اس وجہ سے ورلڈکپ کے دوران ٹوئٹ کے ذریعے محمد رضوان نے اپنا ایوارڈ بچوں اور بززگوں کے نام کیا تھا جس پر بھارت اور اسرائیل نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کا دباؤ ڈالا تھا تاہم کرکٹر ثابت قدم رہے اور آئی سی سی نے بھی انہیں کوئی سزا نہیں دی تھی۔
آئی سی سی قوانین کے تحت کوئی بھی کرکٹر مبینہ سیاسی پیغام یا اسکی تشہیر نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں: رضوان کے فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی پر صہیونی ریاست آگ بگولہ

واضح رہے کہ سال 2014 میں انگلش کرکٹر معین علی کو ٹیسٹ میچ کے دوران “غزہ کو بچاؤ” اور “فلسطین کو آزاد کرو” کے نعرے والے بینڈ کو اتروادیا تھا۔

دوسری جانب آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے میچ سے قبل پریس کانفرس میں کہا کہ میچ سے قبل عثمان خواجہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ دورانِ ٹیسٹ فلسطینیوں کی حمایت والے جوتے نہیں پہنیں گے۔

مزید پڑھیں: فلسطینیوں کی حمایت! عثمان خواجہ کے ردعمل پر کرکٹ آسٹریلیا کا جواب آگیا

کمنز نے کہا کہ خواجہ کے جوتے پر کوئی متنازع بیان درج نہیں تھا، مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو واقعی اس کے بارے میں بہت زیادہ شکایات ہوسکتی ہیں۔

قبل ازیں کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بورڈ کرکٹرز کی ذاتی رائے کی حمایت کرتا ہے، اس حوالے سے آئی سی سی کے قوانین موجود ہیں، جو ذاتی پیغامات کے اظہار سے منع کرتے ہیں ہم توقع رکھتے ہیں کہ کھلاڑی قوانین پر عمل کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔