دنیا کے سب سے زیادہ رحم دل کہے جانےوالے جج فرینک کیپریو سرطان کا شکار ہوگئے

ویب ڈیسک  بدھ 13 دسمبر 2023
فوٹو:فائل

فوٹو:فائل

دنیا کے سب سے زیادہ رحم دل کہے جانے والے امریکی جج فرینک کیپریو سرطان کا شکار ہوگئے۔

عالمی میڈیا میں  شائع ہونےو الی رپورٹوں کے  مطابق امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے دارالحکومت پروویڈینس کی میونسپل کورٹ سے رواں برس جنوری  میں چیف جج کے طور پر ریٹائر ہونے والے فرینک کیپریو لبلبے کے سرطان کا شکار ہوگئے ہیں۔

87 سالہ جج نے انسٹاگرام پر جاری کی گئی  جذباتی ویڈیو میں اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے  لوگوں سے اپنی صحت یابی کے لیے  دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

فرینک کیپریو نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ اس مرض کا انکشاف ان کی سالگرہ ( 24 نومبر ) کے قریب  ہوا چنانچہ اس بار یہ سالگرہ ان کے لیے ماضی سے  بہت مختلف ہے۔

سابق چیف جج  کے مطابق بوسٹن کے ڈانا فاربر کینسر انسٹی  ٹیوٹ اور روڈ آئی لینڈ کی میڈیکل ٹیم ان کا علاج کررہی ہےا ور وہ اس موذی مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

فرینک کیپریو 1985 سے جنوری 2023 تک پروویڈینس کی میونسپل  کورٹ کے جج اور پھر چیف  جج رہے۔ ان کی عدالت میں ٹریفک، پارکنگ وغیرہ جیسے مسائل سے متعلق مقدمات سنے جاتے تھے۔

ان مقدمات کے دوران  فرینک کیپریو دل چسپ ریمارکس اور رولنگز دیتے تھے۔ ان کا رویہ ہمدردانہ ہوتا تھا جس کی وجہ سے وہ مقبول ہوتے چلے گئے، اور پھر ان کی عدالتی کارروائی پر مبنی ایک ٹیلی ویژن شو کا آغاز ہوا جس کا ٹائٹل ’ کاٹ ان پروویڈنس‘ تھا۔

american-judge1

اس شو میں عدالتی کارروائی دکھائی جاتی تھی۔ بتدریج یہ ٹیلی ویـژن سیریز مقبول ہوتی چلی گئی اور چیف جج فرینک کیپریو اپنے ریمارکس اور ملزمان کے ساتھ ہمدردانہ رویے کی وجہ سے عوام الناس کے دلوں میں گھر  کرتے چلے گئے۔

فرینک کیپریو کے ہمدردانہ رویے کی وجہ سے انہیں دنیا کا سب سے زیادہ رحم دل جج کہا جانے لگا۔

فرینک کیپریو نے کئی اعزازات بھی حاصل کیے۔ ستمبر 2023 میں انہیں متحدہ عرب امارات میں منعقدہ  دسویں  شارجہ گورنمنٹ کمیونی کیشن ایوارڈ میں ’ بیسٹ سوشل امپیکٹ ڈرائیور‘ کا اعزاز دیا گیا۔

ریٹائرڈ چیف جج نے اپنے ویڈیو پیغام میں اپنے چاہنےو الوں سے اپیل کی ہے کہ ان  کی صحت کے لیے دعا کریں۔ ان کی ویڈیو کے ردعمل میں دنیا بھر سے  مداح ان  کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیہ کلمات پر مبنی پیغامات پوسٹ کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔