مودی اور میاں (آخری حصہ)

زاہدہ حنا  منگل 27 مئ 2014
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ساری دنیا اس وقت سانس روکے اس نئے ہندوستان کی پیدائش کو دیکھ رہی ہے جس کے بارے میں کچھ دنوں پہلے تک کوئی گمان بھی نہیں کرسکتا تھا۔ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ آزادی کے بعدکانگریس نے نیم فاقہ کش اور فرقہ وارانہ قتل عام سے نڈھال ہندوستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس نے دنیا میں جاری قومی آزادی کی تحریکوں کا کھل کر ساتھ دیا اور ان کی بھرپور حمایت کی۔ سرد جنگ میں غیر وابستہ خارجہ پالیسی پر عمل کیا‘ ملک کو مغرب کی منڈی بننے سے روکا‘ مقامی تاجروں ‘ صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی۔

معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچہ بنایا اور بھاری صنعتیں قائم کیں‘ روٹی سے محروم ہندوستانی عوام کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے انھیں سستا چاول اور اجناس فراہم کیں‘ چھوٹے کاشتکاروں کو بجلی ،ٹریکٹر،زرعی ادویات‘ کھاد اور بیجوں کے لیے بھاری زر تلافی دی، زرعی اجناس کی سرکاری خریداری کا نظام بنایا‘ پسماندہ اور نچلی ذاتوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں کوٹا مختص کیا‘ سخت درآمدی قوانین بناکر مقامی صنعتوں کو تحفظ دیا اور قومی یک جہتی کے استحکام کے لیے سیکولر ازم پر عمل کر کے مسلمانوں کی خوشامد کرنے والی جماعت ہونے کے طعنے برداشت کیے ۔نوآبادیاتی غلامی سے آزادی اور آزادی کے بعد ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ہندوستان کو انڈین نیشنل کانگریس کی ضرورت تھی۔

یوں کہہ لیجیے کہ یہ جماعت آزادی کے بعد ہندوستان کے لیے ایک تاریخی اور ناگزیر ضرورت تھی۔یہ باتیں اپنی جگہ لیکن ایک اٹل حقیقت یہ بھی ہے کہ وقت آگے کی طرف سفر کرتا ہے اور سیاست‘ معیشت‘ معاشرت اور نظریات کو نئے رنگ روپ میں ڈھالتا جاتا ہے۔آپ وقت کے ساتھ چلیں‘اس کے مطالبات پورے کریں اور اس کے تقاضوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرتے رہیں تو وقت آپ پر مہربان رہتا ہے۔ جہاں ان کاموں میں کسی نے دیر لگائی وہیں اس نے اپنی نگاہیں پھیر لیں۔ یہ مسئلہ فرد ‘گروہ‘ قوموں اور ملکوں سب کو درپیش رہتا ہے۔

انڈین نیشنل کانگریس جیسی128 برس پرانی ایک مخصوص سیاسی فکر‘ نظریہ اور اقدار رکھنے والی جماعت کے کارکنوں اور رہنمائوں کے لیے اس قدر تیز رفتاری سے اپنے آپ کو بدلنا ممکن نہیں تھا جس تیزی رفتاری سے آج کی دنیا بدل رہی ہے۔ وہ جماعت جس کی نظریاتی اور سیاسی آبیاری کرنے والوں میں گاندھی‘نہرو‘ آزاد اور سروجنی نائیڈو جیسی درجنوں آدرش وادی شخصیات شامل رہی ہوں وہ اپنی مکمل قلب ماہیت کیسے کر سکتی تھی؟ پنڈت جواہر لعل نہرو نے کانگریس کو بائیں بازو کا رنگ دیا‘ وہ ایک رومانوی سوشلسٹ تھے‘ انھوں نے 1947 سے لے کر 1964 یعنی زندگی کی آخری سانس تک ہندوستان پر حکومت کی ۔

نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی لیکن سرکاری معیشت کے شعبے کو بھی مضبوط کیا اور ایک ملی جلی معیشت کی بنیاد ڈالی ۔ ان کی کتابیں Gilmpses of The World History , Discovery of India    جیل سے اپنی 10سالہ بیٹی‘ اندرا کے نام لکھے گئے خطوط‘ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے سیاسی رہنمائوں کی پسندیدہ کتابیں رہی ہیں ۔ آج کے بارے میں نہیں معلوم لیکن گزشتہ نصف صدی کے دوران جب قومی آزادی اور سوشلسٹ انقلاب کی تحریکیں اپنے عروج پر تھیں تو کون سا ایسا سیاسی کارکن یا دانش ور تھا جس نے ان کتابوں کو نہ پڑھا ہو ۔

یہ بات کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس رہنما کی فکر نے عالمی سطح پر سیاسی کارکنوں کو اتنا متاثر کیا، اس کی چھاپ کانگریس پر کس قدر گہری ہوگی!کیا ایسی جماعت کے لیے یہ تصور بھی ممکن ہے کہ کسانوں اور عوام سے زر تلافی چھین لی جائے ‘ معیشت کے سرکاری شعبے کو زمیں بوس کردیا جائے‘ وہ چھوٹے دکاندار اور تاجر جو اس کے کارکن رہے ہوں ان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے وال مارٹ جیسے کثیر القومی ریٹیل سپر اسٹوروں کو ان کے مقابل لاکھڑا کیا جائے اور رائٹ سائزنگ کے نام پر محنت کشوں کو بے روزگار کردیا جائے۔ جس سیاسی جماعت کے رہنما ایک ایسی معمولی سی ایمبیسیڈر کار میں بیٹھنا فخر سمجھتے ہوں جسے خریدنے کے لیے ہمارا ایک رشوت خور کلرک بھی کبھی تیار نہیں ہوگا‘ ان سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ ہندوستان کو عالمی کارپوریٹ سیکٹر کے ناخدائوں کے حوالے کردیں گے۔

انڈین نیشنل کانگریس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے انقلاب کے اس جدید دور کے مطابق اصلاحات کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ایک حد سے آگے جانا اس کے لیے ممکن ہی نہیں تھا۔ کانگریس نے معیشت کے بند دروازے کھولے‘ بیرونی سرمائے اور مصنوعات کو ہندوستان کی منڈی میں رسائی دی جس کا فائدہ ہندوستانی معیشت نے اٹھایا اوروہ تیزی سے ابھرتی ہوئی ایک عالمی معاشی طاقت کے طور پر ابھرنے لگی ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سیلاب کو روکنے والا دروازہ جب تک بند رہے بہ ظاہر سب ٹھیک رہتا ہے لیکن ایک مرتبہ یہ دروازہ کھل جائے تو پھر سیلاب کے خوف ناک بہائو کو روکنا ممکن نہیں رہتا ۔ یہی کانگریس کے ساتھ ہوا ۔ اس کی اصلاحات سے معیشت کو جو اٹھان ملی اس کے بہرطور اپنے تقاضے تھے وہ انھیں پورا نہیں کر پائی اور اقتدار سے رخصت کردی گئی ۔

نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے یہ بھانپ لیا تھا کہ ہندوستان کے کارپوریٹ سیکٹر کو ایک متبادل حکومت کی ضرورت ہے ۔ اس کام کے لیے انھوں نے خود کو پیش کردیا ۔ نریندر مودی کارپوریٹ دوست ہیں ‘ وہ سخت سرکاری ضابطوں میں جکڑی ہوئی ہندوستانی معیشت کو زیادہ تیزی سے آزاد کریں گے ۔ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کاروبار شروع کرنے کے بہتر ماحول کی درجہ بندی کے حوالے سے دنیا میں179  نمبر پر ہے ۔ نریندر مودی اس صورتحال میں بہتری لاسکتے ہیں ۔ وہ گجرات سے سرخ فیتے کی لعنت ختم کرچکے ہیں ۔

اس ریاست کی جی ڈی پی گزشتہ آٹھ برسوں سے 10% کی شرح سے ترقی کررہی ہے ۔ ہندوستان کے سب سے بڑے تجارتی گروپ کے سابق سربراہ رتن ٹاٹا کا کہنا ہے کہ انھوں نے کار بنانے کا پلانٹ لگانے کے لیے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے رابطہ کیا تھا لیکن جو کام نریندر مودی نے صرف 3 دنوں میں کردیا اس کے بارے میں دوسرے وزرائے اعلیٰ مہینوں غور ہی کرتے رہ گئے ۔ نریندر مودی کو اب بالخصوص ہندوستان کے اس کارپوریٹ شعبے کی نمایندگی کرنی ہوگی جس کے لیے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی امن اور استحکام کا قیام انتہائی ضروری ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا میں انھوں نے اپنی تقریر میں پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی بلکہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔ ہندوستانی سرمایہ عالمی سرمائے کے اشتراک سے آگے بڑھنا چاہتا ہے‘ اس مقصد کے لیے امریکا اور مغرب سے بہترین تعلقات قائم کرنا مودی کی اولین ترجیح ہوگی جس کی وجہ سے انھیں ملک کے اندر بنیادی انسانی حقوق کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا اور وہ کسی بھی مذہبی اقلیت سے امتیازی سلوک نہیں کریں گے اور مستقبل میںپارلیمنٹ اور سیکولر آئین کا احترام کریں گے ۔

مودی کے بعد اب چند باتیں میاں صاحب کے بارے میں ہوجائیں ۔ ان کو اقتدار میں آئے ہوئے ایک سال ہونے والا ہے ۔ اس دوران ان کی معاشی‘ سیاسی اور خارجی پالیسیوں کے خدوخال پوری طرح واضح ہوچکے ہیں۔ انھوں نے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی جس پر انھیں بعض حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران میاں صاحب نے دونوں پڑوسی ملکوں کی سرحدوں پر کشیدگی کو کم سے کم رکھنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور بار بار اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کو باہمی تجارت میں اضافہ کرنے کے ساتھ تنازعات کے حل کی کوششوں کو بھی جاری رکھنا چاہیے۔

نواز شریف کو بھی اپنے ملک کے کارپوریٹ سیکٹر اور دیگر کاروباری طبقات کی بھرپور حمایت حاصل ہے ۔ ان کا وژن ہے کہ پاکستان کے بہترین جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اس خطے کا معاشی اور تجارتی مرکز بنادیا جائے‘ اس حوالے سے خنجراب سے گوادر تک کا مجوزہ عظیم معاشی کوریڈور انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس سے خطے کے 3ارب لوگوں کا فائدہ ہوگا۔ چین اور دیگر ممالک کی طرح ہندوستان بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔

ہندوستان اور پاکستان میں مودی اور میاں کے اقتدار میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں تیزی سے ابھرتا ہوا کارپوریٹ سیکٹر ‘ تاجر طبقہ ‘ زرعی شعبہ‘ مضبوط مڈل کلاس اور سول سوسائٹی اس خطے میں کشیدگی کے بجائے امن‘ استحکام اور باہمی تجارت کی خواہاں ہے ۔ سیاسی طور پر مودی اور میاں دونوں کے لیے یہ سراسر فائدے کا سودا ہے ۔ معاشی ترقی کا عمل تیز تر ہوگا تو غربت اوربے روزگاری ختم ہوگی‘ تعلیم اور صحت کے لیے زیادہ سرمایہ میسر آئے گا۔ متوسط طبقے کی تعداد اور آمدنی بڑھے گی اورعام لوگوں کے معیار زندگی میں اضافہ ہوگا ۔ایسا ہوا تو دہشت گردی اور بدامنی کا خاتمہ ہوگا ۔ دونوں کارپوریٹ اور کاروبار دوست تصورکیے جاتے ہیں لہٰذا یہ امید ذرا کم ہے کہ یہ دونوں رہنما اپنے اپنے ملکوں کے لیے گھاٹے کا کوئی سودا کریں گے ۔

نریندر مودی کی دعوت پر نواز شریف ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرچکے۔ انہونی ہوچکی ہے اور یہ شرکت اس خطے کا مقدر بدلنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔