ایک انوکھا اظہارِ عشق

تنویر قیصر شاہد  منگل 27 مئ 2014
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

کتاب ذہنی کشادگی کا پیام ہے۔ حرفِ مطبوعہ ہمیشہ روشنی و تبدیلی کا استعارہ اور اشارہ رہا ہے۔ ہمارا قومی رویہ کتاب بے زاری ہے۔ ہمارے حکمران تو الا ماشاء اللہ کتاب خریدنے اور پڑھنے کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب کرامت اللہ غوری کی شایع ہونے والی یادداشتوں (’’بارِ شناسائی‘‘) میں حیرت انگیز واقعہ لکھا گیا ہے۔ پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انھوں نے جلد ہی ترکی کا دورہ کیا۔ مشرف صاحب کے بطور حکمران ترکی وزٹ کے موقعے پر کرامت اللہ غوری صاحب وہاں پاکستان کے سفیر تھے۔ کرامت صاحب کے گھر میں ان کی وسیع ذاتی لائبریری دیکھ اور یہ جان کر کہ انھیں مطالعے کا بے پناہ شوق ہے، مشرف صاحب نے کندھے اچکائے اور کہا: ’’مجھے تو پڑھنے کا شوق نہیں۔‘‘

یہ واقعہ اس لیے یاد آیا ہے کہ ابھی ابھی میں نے ترکی اور اتاترک کے بارے میں پیٹرک کنراس (Patrik  Kinross) کی لکھی گئی کتاب (Ataturk:  The  Rebirth  of  a  Nation) پڑھ کر ختم کی ہے۔ اردو میں اس کتاب کاترجمہ ہما انور نے کیا ہے اور اب یہ کتاب ’’اتاترک: قوم اور جمہوریہ کا ظہور‘‘ کے زیر عنوان شایع ہوئی ہے۔ترجمہ شدہ یہ کتاب، جس کا پیش لفظ برادرم فرخ سہیل گویندی نے لکھا ہے، مَیں مسلسل دس دن تک پڑھتا رہا ہوں۔ اس نے میرے ’’چودہ طبق‘‘ روشن کیے ہیں اور اتاترک کے بارے میں بہت سے اشکالات بھی دور ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر اتاترک کا ایک مسجد میں بروز جمعہ کھڑے ہوکر قرآن پاک کی عظمت اور اللہ کے آخری نبیؐ کی شان مبارک میں تقریر کرنا۔ مجھے تو اس تقریر کے لفظ لفظ سے وہ اسلام کے سچے خادم اور عاشق لگے۔ وہ دین اسلام کے نہیں، ملائیت کے مخالف تھے۔ اتاترک کے بارے میں یہ پڑھ کر بھی دل باغ باغ ہوگیا کہ وہ گھر سے نکلنے سے قبل اپنی والدہ محترمہ کے ہاتھ چومنا کبھی نہ بھولتے۔ کیا ایسا شخص دین مخالف ہوسکتا ہے جس نے والدین سے محبت کا حکم اور سبق قرآن مجید اور ارشاداتِ رسولؐ سے سیکھا ہو؟

پیٹرک کنراس کی کتاب ’’اتاترک: قوم اور جمہوریہ کا ظہور‘‘ کے مطالعہ سے جہاں ترکی کے بابائے قوم کی وسعتِ نظر ہوتی ہے، وہیں مجھے قائداعظمؒ بھی یاد آتے رہے۔ وہ بھی تو اتاترک سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔

قائداعظمؒ کے تقریباً ہر سوانح نگار نے لکھا ہے کہ قائداعظمؒ مصطفی کمال پاشا عرف اتاترک کو بے پناہ پسند کرتے تھے، اسی لیے اتاترک کی حیات و خیالات پر آر مسٹرانگ کی تحریر کردہ کتاب Gray  Wolf,  Kemal  Ataturk ان کو بے حد پسند رہی۔ قائداعظمؒ کی ترکی کے بابائے قوم سے رغبت و محبت کی گواہی جناب رفیق ذکریا نے بھی اپنی تحقیقی کتاب Gandhi  and  the  Break-up  of  India میں دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ محمد علی جناحؒ ہندوستانی سیاست سے مایوس ہوکر جب واپس لندن چلے گئے تھے تو وہ اس وقت اتاترک پر لکھی گئی یہ کتاب (گرے وولف) کا مطالعہ کرچکے تھے اور اس کا ذکر بڑے ہی والہانہ انداز میں اپنی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح اور اپنی اکلوتی صاحبزادی محترمہ ڈینا جناح سے کرتے رہتے تھے؛ حتیٰ کہ ڈینا جناح پیار بھرے انداز میں کبھی کبھی اپنے والد گرامی کو ’’مائی گرے وولف‘‘ بھی کہہ کر پکار لیا کرتی تھیں۔

رفیق ذکریا لکھتے ہیں: ’’جناح صاحب اتاترک کی شخصیت و نظریات سے بہت متاثر تھے۔ وہ مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک کی طرح اسلامیانِ ہند کو بھی ملّا کی گرفت سے نجات دلانے کے آرزو مند تھے۔‘‘ واقعہ یہ ہے کہ پیٹرک کنراس کی لکھی اور ہما انور کی ترجمہ کی گئی کتاب ’’اتاترک: قوم اور جمہوریہ‘‘ کے مقابلے میں ’’گرے وولف‘‘ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ پاسنگ بھی نہیں۔ قائداعظمؒ کی زندگی میں کنراس کی یہ کتاب شایع ہوتی تو وہ اسے ’’گرے وولف‘‘ پر یقینا ترجیح دیتے۔

آج ہمارا ملک جس بری طرح انتہا پسندی کے عفریت کی گرفت میں کراہ رہا ہے، کسی پاکستانی ’’اتاترک‘‘ کی آمدکی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ اس ’’پاکستانی اتاترک‘‘ کا ہمیں من حیث المجموع کیا فائدہ پہنچے گا، اس کا اندازہ لگانے کے لیے زیرِ نظر کتاب ’’اتاترک: قوم اور جمہوریہ کا ظہور‘‘ کا مطالعہ از بس ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ممتاز اور نو عمر اشاعتی ادارے ’’جمہوری پبلی کیشنز‘‘ (2۔ ایوانِ تجارت روڈ لاہور) نے یہ کتاب شایع کرکے ہم سب پر احسانِ عظیم کیا ہے۔

مقتدر شریف خاندان جس سُرعت کے ساتھ موجودہ ترک حکمرانوں کا قرب حاصل کرتے جارہے ہیں، اس حوالے سے ہم سب ترکی سے تو آشنا ہوہی چکے ہیں لیکن ہمیں بہر حال موجودہ ترک حکمرانوں (عبداللہ گُل اور طیب اردگان) کی طرح کا کوئی صاحب نہیں چاہیے کہ یہ لوگ تو اتاترک شکنی کے مرتکب بھی ہورہے ہیں اور اپنے مرشد و محسن (فتح اللہ گولن) کی بے حرمتی بھی کررہے ہیں۔ آج کے ترک حکمران مذہب کے نام پر ترک عوام کی شخصی آزادیوں کو سلب کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اس کوشش میں وہ انٹرنیٹ اور ٹوئیٹر کو بھی نہیں بخش رہے۔

ہمارے سیاستدانوں کو بھی ذہنی بالیدگی اور قلبی وسعت کے لیے یہ کتاب (اتاترک: قوم اور جمہویہ کا ظہور) ضرور پڑھنی چاہیے مگر ہمارے ہاں ایسے سیاستدان کتنے ہوں گے جنھیں کتاب سے محبت ہے؟ بی بی شہید کے بعد کتنے؟ بھٹو صاحب تو کتاب کے رسیا تھے کہ ان کی ذاتی شاندار لائبریری اس امر کی گواہ ہے۔ بی بی صاحبہ بھی کتاب سے عشق کرتی تھیں اور اس کی گواہی ان کی مصنفہ بھتیجی محترمہ فاطمہ بھٹو یوں دیتی ہیں: ’’پھوپھی (بے نظیر) جب بھی آتیں، میرے لیے تحفے میں ٹوکری بھر کتابیں لاتیں۔‘‘

دراصل ہمارا ہر سیاستدان میکاولی کی طرح شاطر اور چانکیہ کی طرح چالاک تو بننا چاہتا ہے لیکن ان میں سے کبھی کوئی میکاولی کی The  Prince اور چانکیہ کی ’’ارتھ شاستر‘‘ پڑھنے کی تکلیف گوارا نہیں کرے گا۔ ادارہ جمہوری پبلی کیشنز کے تحت شایع ہونے والی زیر تبصرہ یہ معرکہ آرا کتاب ’’اتاترک: قوم اور جمہویہ کا ظہور‘‘ ہمارے بہت سے سیاستدانوں کے لیے مفید اور راہ کی کشادگی کا باعث بن سکتی ہے۔ سیاسیات اور ابلاغیات کے طالب علموں اور اساتذہ کے لیے بھی اس کا مطالعہ ضروری ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کے لیے یہ کتاب شاید ندامت کا باعث بنے، خصوصاً جناب اتاترک کی وصیت پڑھ کر۔ جدید ترکی کے اس قابلِ فخر بانی نے موت سے قبل اپنے وکیل کو بلایا اور وصیت لکھوائی: ’’مَیں اپنی ساری جائیداد اپنے وطن کے نام کرتا ہوں اور میری بچت کی ہوئی تمام ذاتی رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے۔‘‘

ہمارا کوئی سیاستدان اور حکمران وطن سے بے پناہ محبت کا ثبوت دیتے ہوئے ایسی وصیت کرنے کی جرأت کر سکتا ہے؟ مَیں کتاب کے پبلشر فرخ سہیل گویندی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے ترکی اور اتاترک سے اپنے عشق کا اظہار کردیا ہے۔ اس انوکھے اظہارِ عشق سے یہ بھی عیاں ہوا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسے شاندار انداز میں کتاب شایع ہوسکتی ہے۔ اس پُراثر اور روح افزا کتاب کی قیمت بائیس سو روپے ہے لیکن کتاب کی وقعت اور اس کے مندرجات کے سامنے یہ دو، سوا دو ہزار روپے کچھ بھی نہیں۔ ایک دن کڑاہی گوشت نہ کھایا جائے تو یہ کتاب آسانی سے خریدی جاسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔