دھاندلی کے بارے میں عمران کے مؤقف کی عوامی پذیرائی

 بدھ 28 مئ 2014
انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی تحریک کے دو جلسے اسلام آباد اور فیصل آباد میں کامیاب ہوئے ہیں۔   فوٹو : فائل

انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی تحریک کے دو جلسے اسلام آباد اور فیصل آباد میں کامیاب ہوئے ہیں۔ فوٹو : فائل

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 11 مئی 2013 ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے جو سخت موقف اختیار کیا ہے اسے عوامی پذیرائی ملنا شروع ہو گئی ہے اور یہ تاثر دھیرے دھیرے مضبوط اور وسیع ہو رہا ہے کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بعض انتخابی حلقوں کے حوالے سے جو ڈویلپمنٹ ہوئی اس نے بھی عمران خان کے الزامات کو تقویت دی ہے۔ عمران خان مسلسل جن چار حلقوں میں انگوٹھوں کی تصدیق کا مطالبہ کر رہے ہیں ان میں لاہور کا حلقہ این اے 122 سر فہرست ہے جو کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کا حلقہ ہے اور یہاں سے موجودہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کئے رکھا جو کئی ماہ کے بعد چند روز قبل ختم ہوا ہے۔

دوسرا حلقہ این اے 154 لودھراں ہے جہاں سے تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین نے الیکشن لڑا تھا۔ 11 اور 12 مئی 2013 ء کی درمیانی شب تک وہ کئی ہزار ووٹ کی برتری سے جیت رہے تھے مگر جب صبح کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو جہانگیر ترین کو مسلم لیگ (ن) کے صدیق بلوچ ’’شکست‘‘ دے چکے تھے۔ اس وقت سے اب تک جہانگیر ترین عدالتوں اور الیکشن ٹریبونل میں انگوٹھوں کی تصدیق کیلئے زنجیر عدل ہلا رہے ہیں لیکن صدیق بلوچ ایک کے بعد دوسرا حکم امتناعی لینے میں ’’کامیاب‘‘ہو جاتے ہیں جیسا کہ تین روز قبل الیکشن ٹریبونل نے این اے 154 میں انگوٹھوں کی تصدیق کا حکم دیا تو اگلے ہی روز صدیق بلوچ نے ہائیکورٹ سے ایک مرتبہ پھر حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے۔

عمران خان کی فہرست میں شامل چوتھا حلقہ این اے 125 ہے جہاں سے تحریک انصاف کے اہم رہنما حامد خان نے الیکشن لڑا تھا لیکن مسلم لیگ(ن) کے خواجہ سعد رفیق بھی ’’کرشماتی‘‘انداز میں کامیاب ہو گئے ۔اس حلقے کے لوگ آج تک یہ گھتی سلجھانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ہر پولنگ اسٹیشن پر تحریک انصاف چھائی ہوئی دکھائی دے رہی تھی اور ان سمیت اکثریت نے ووٹ پر مہر بلے کے نشان پر لگائی مگر ان کی مہر کی سیاہی شیر سے کیسے جا لپٹی۔

حامد خان جو کہ ملک کے نامور قانون دان بھی ہیں اور وکلاء سیاست میں عاصمہ جہانگیر کی طرح ’’کنگ میکر‘‘کی حیثیت رکھتے ہیں وہ بھی خواجہ سعد رفیق کی جانب سے عدالتوں سے لئے جانے والے حکم امتناعی کا توڑ تلاش نہیں کر سکے ہیں۔ چوتھا حلقہ این اے 110 ہے جہاں عثمان ڈار نے خواجہ آصف کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا اور ان کی پوزیشن بہت مضبوط دکھائی دے رہی تھی مگر ’’سویلین فرشتوں‘‘نے یہاں بھی شاید اپنا کام دکھا دیا ۔عثمان ڈار بھی انگوٹھوں کی تصدیق کیلئے خوار ہو رہے ہیں مگر خواجہ آصف نے بھی حکم امتناعی کی آڑ لے رکھی ہے۔

اسی طرح اٹک کا حلقہ این اے 57 بھی ایسا حلقہ ہے جہاں سے تحریک انصاف کے امیدوار ملک امین اسلم بہت مضبوط معلوم ہوتے تھے اور غیر جانبدار حلقے انہیں جیتا ہوا کہہ رہے تھے مگر ن لیگ کے شیخ آفتاب یہاں سے کامیاب ہوئے اور انہوں نے بھی عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف پنجاب کے بہت سے اہم رہنماوں کا اصرار ہے کہ عمران خان کو اس حلقے کو پانچواں حلقہ بنا کر اپنے مطالبے میں شامل کر لینا چاہیے کیونکہ اس حلقے کے بند تھیلوں میں سے جو کچھ نکلنے کی امید ہے وہ تحریک انصاف کیلئے فائدہ مند ہو گا۔ این اے 58 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ملک انتخاب نے تحریک انصاف کے امیدوار کے مقابلے میں سٹے آرڈر لے رکھا ہے۔

عمران خان کی یہ بات عام پاکستانی کو بھی متاثر کر رہی ہے کہ اگر سب کچھ شفاف ہے اور کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تو پھر ن لیگی اراکین اسمبلی نے حکم امتناعی کیوں لے رکھے ہیں۔

انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی تحریک کے دو جلسے اسلام آباد اور فیصل آباد میں کامیاب ہوئے ہیں بالخصوص فیصل آباد کے جلسے کو ناکام بنانے کیلئے وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی ہدایت پر منعقد کئے جانے والے میوزیکل کنسرٹ کے اقدام کو سنجیدہ عوامی حلقوں نے ناپسند کیا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ لاہور اور دیگر شہروں سے فیصل آباد جلسے میں شرکت کرنے والوں کو ٹرانسپورٹ کی فراہمی روکنے کیلئے ٹرانسپورٹرز پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اس کے باوجود لاہور سے اعجاز چوہدری اور عبدالعلیم خان کی سربراہی میں بہت بڑا قافلہ قذافی سٹیڈیم سے روانہ ہوا اور اس کا راستے میں جس پرجوش انداز میں استقبال ہوا اسے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ سونامی کا زور ٹوٹا نہیں ہے۔

7 جون کو سیالکوٹ میں تیسرے جلسے کیلئے عمرصار، بریگیڈیئر اسلم گھمن، عظیم نوری گھمن ، اجمل چیمہ اور عمر مائر سمیت تمام رہنما بہت محنت کر رہے ہیں۔ ان تمام افراد کا اپنے علاقوں میں بہت اثر ہے جس بناء پر سیالکوٹ کا جلسہ بہت بڑا ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ شدید گرمی کے باوجود فیصل آباد کے جلسے میں کارکنوں جن میں بڑی تعداد خواتین کی بھی شامل تھی کا جوش و خروش دیدنی تھا بلکہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ الیکشن سے پہلے والا کوئی جلسہ ہو رہا ہے۔

سیالکوٹ کے بعد سونامی کا اگلا پڑاو کب اور کہاں ہوتا ہے اسکا اعلان تو عمران خان سیالکوٹ میں ہی کریں گے تاہم آئندہ چند ہفتوں میں رمضان شروع ہوجائے گا جس کے دوران تحریک کچھ سست ہو جائے مگر رمضان کے فوری بعد تحریک انصاف کے احتجاج میں شدت آنے کا امکان ہے کیونکہ موسم بھی خوشگوار ہوجائے گا اور بجٹ بھی پیش ہو چکا ہوگا جس کو اپنے احتجاج کا حصہ بنا کر عمران خان آگے بڑھیں گے۔ اگر اس دوران عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری بھی پاکستان واپس آ گئے تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔