اچھا جیون ساتھی

راضیہ سید  ہفتہ 23 دسمبر 2023
میاں بیوی کا رشتہ پائیدار بھی ہے اور اسی حد تک کمزور بھی ہے۔ (فوٹو: فائل)

میاں بیوی کا رشتہ پائیدار بھی ہے اور اسی حد تک کمزور بھی ہے۔ (فوٹو: فائل)

شادی کرکے گھر بسانا کسی بھی سلجھے ہوئے معاشرے کی ایک خوبی ہوا کرتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی مذہب میں شادی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا گیا بلکہ ہمیشہ ایک خاندان کے بنانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ معاشرے میں کسی قسم کے بگاڑ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

میاں بیوی کا رشتہ پائیدار بھی ہے اور اسی حد تک کمزور بھی، کیونکہ زندگی کے اس حصے کی ابتدا کا تعلق مختلف ماحول اور جنس مخالف سے ہے۔ دنیا کے باقی رشتے تو کسی طور چلتے ہیں لیکن اس رشتے میں بطور خاص مدو جزر آتا ہی رہتا ہے کیونکہ اس کو بنائے رکھنے کی ذمy داری کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ دونوں کی ہوتی ہے۔ یہ رشتہ قربانی اور سمجھوتے کا متقاضی بھی ہوتا ہے۔ گویا پیار کو محبت بننے میں بہت دیر لگتی ہے اور سمجھوتہ بھی ایسا جو دل سے کیا جائے اور قربانی بھی وہ جو دل سے دی جائے۔

اس رشتے میں سب سے پہلے کیونکہ عزت آتی ہے تو اگر آپ اپنے شوہر اور بیوی دونوں کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں تو یقینی طور پر یہ رشتہ بہت اچھے طریقے سے نبھایا جاسکتا ہے۔ شادی کی زندگی میں آئیڈیل وائیڈیل کچھ نہیں ہوتا کیونکہ ہم سب انسان ہیں اور خوابوں کی زندگی حقیقت سے بہت الگ ہوتی ہے۔ اگرچہ کہ آج کل کسی کو آئیڈیل نہیں ملتا لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ اگر آپ کے جیون ساتھی میں یہ چند خوبیاں ہوں تو شکر ضرور کرنا چاہیے کہ جیون کی کشتی کسی حد تک تو پار لگی اور زندگی کا لطف آنے لگا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ پیسہ کچھ نہیں اور پیار ہی سب کچھ ہے تو اس سے تو بڑا بے وقوف کوئی نہیں، کیونکہ غریبی جب دروازے پر دستک دیتی ہے تو پیار کا پرندہ پُھر سے اڑ جاتا ہے۔

اس لیے پہلی بات ہے کہ کم سے کم آپ کی مادی ضروریات ایک حد تک اچھے طریقے سے پوری ہورہی ہیں (میں خواہشات کی بات نہیں کررہی) تو یقین مانیے آپ بہت خوش قسمت ہیں کیونکہ آج کل کے دور میں اگر عزت سے دال روٹی پوری ہورہی ہے تو یہ اللہ کے کرم کے بعد آپ کے شوہر کی مہربانی ہی ہے۔ کئی گھرانوں میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔

ایک اچھے شوہر یا بیوی کو ایک اچھا سامع بھی ہونا چاہیے، وہ چھوٹی سی چھوٹی بات کو دھیان سے سنتا یا سنتی ہے۔ کیونکہ توجہ ملنا کسے ناپسند ہوتا ہے اور پھر وہ بھی اپنی زندگی کے ساتھی سے۔ تو یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے لہٰذا اگر آپ کو ایک اچھا سامع میسر آگیا ہے تو یہ بھی قدرت کا بہت بڑا انعام ہے۔ ایک اچھا جیون ساتھی آپ کو ہر صورت میں قبول کرتا ہے، یعنی جیسا کہ آپ ہوتے ہیں، چاہے معصوم ہوں، نٹ کھٹ، شرارتی، چالاک، باتونی یا خاموش۔ وہ آپ کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ہاں لیکن اگر آپ میں کوئی بری عادت ہو تو وہ الگ سے سمجھانے کی کوشش ضرور کرتا ہے اور سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے گریز کرتا ہے۔ یاد رکھیے کہ برداشت کرنے اور قبول کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ایک مثالی شوہر یا بیوی آپ کو قبول کرتے ہیں، برداشت نہیں۔

اچھے میاں بیوی ایک دوسرے کی رائے کو ہمیشہ اہمیت دیتے اور ایک دوسرے کے مشورے سے ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کوالٹی ٹائم گزارتے ہیں، اپنی پروفیشنل اور پرسنل لائف کو کبھی مکس نہیں کرتے بلکہ گھر اور بچوں کی ذمے داریاں مل کر سنبھالتے ہیں۔ مثالی میاں بیوی ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا خاص خیال کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کوئی بات مخاطب کو ناگوار نہ گزرے۔ وہ زندگی کے سفر کو آسان بناتے ہیں، مل جل کر ہر مشکل کا سامنا کرتے اور اپنے رشتے کو ہر لحاظ سے خوشگوار بناتے ہیں۔ انھیں ایک دوسرے کے جنم دن بھی یاد ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں۔

آج کی اس مصنوعی دنیا میں اگر آپ کو ایسا شریک سفر میسر آیا ہے جس میں یہ سب نہیں ایک دو بھی خوبیاں ہیں تو رب تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے۔ زندگی کسی کی مکمل نہیں ہوتی، کہیں نہ کہیں کمی ضرور ہوتی ہے اور اسی کمی کو جاننا ہی انسانیت کی حد ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راضیہ سید

راضیہ سید

بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ بیس سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔ بلاگز کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔