(میڈیا واچ ڈاگ) - پاکستان کی انارکلی فرزانہ پروین۔۔

رانا محمد عدنان  ہفتہ 31 مئ 2014
اگراکبر بادشاہ کے زمانے میں پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا ہوتا تو یقیناً انار کلی کے بھی بچنے کے امکانات روشن ہوتے. فوٹو فائل

اگراکبر بادشاہ کے زمانے میں پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا ہوتا تو یقیناً انار کلی کے بھی بچنے کے امکانات روشن ہوتے. فوٹو فائل

سنا تھا کہ انار کلی اکبر بادشاہ کے دربار میں ایک کنیز تھی۔  جب اکبر بادشاہ کو شک ہوا کہ انارکلی کے افعال کی وجہ سے شہزادہ سلیم کے اخلاق بگڑنے کا خدشہ ہے تو اکبر نے انارکلی کو دیوار میں چنوایا۔ جبکہ کچھ مورخین کو اختلاف ہے کہ انار کلی کو دیواروں میں نہیں چنا گیا تھا بلکہ انہیں زندہ جلادیا تھا۔  کچھ لکھتے ہیں کہ اسے  کال کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا تھا اور  بعد میں وہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگراکبر بادشاہ کے زمانے میں پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا ہوتا تو یقیناًانار کلی کے بچنے کے امکانات روشن ہوتے یا  پھر انار کلی اکیلے حالات کی چکی میں نہ پستی۔ کیونکہ میڈیا ایک ایسی طاقت ہے جو کسی بھی معاشرے کی اچھائی اور ہر طرح کی برائی کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

ذرا سوچئے اگر اکبر بادشاہ کے زمانے میں میڈیا  اتنا آزاد ہوتا جتنا کے آج ہے تو   جب اکبر شہزادہ سلیم کو انارکلی سے بچائے کے لئے اسے دیوار میں چنوانے کا حکم دینا   اور کوئی درباری چپکے سے یہ خبر میڈیا تک پہنچادیتا تو پوری دنیا میں اکبر بادشاہ کے ظلم و ستم کی داستان مشہور ہوجاتی ۔ پھر مجبورا  بادشاہ کو اپنا حکم معطل کرنا پڑتا  یا انار کلی کے ساتھ ساتھ پورے میڈیا کو بھی کو دیواروں میں چنوانا پڑتا ۔ ظاہر ہے جو کہ ناممکنات میں سے ہے۔ اس  طرح انار کلی بچاری بچ جاتی یا پھر مسئلے کا کوئی اور حل نکل آتا۔ خیر چھوڑئیے جو انارکلی کے ساتھ ہونی تھی ہوگئی جو اکبر بادشاہ کو کرنا تھا اس نے کرلیا مگر یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ آج اکیسویں صدی میں میڈیا کا کردار کیا ہے؟؟ کیا ہمارا میڈیا کسی مظلوم کو انصاف دلا رہا ہے؟ کسی کی فریاد سن رہا ہے؟ نہیں۔۔۔

اب بھی کچھ نہیں بدلا،آج بھی وہی حالات ہیں جو پہلے زمانے میں تھے۔ کیوں آپ کو یقین نہیں آرہا  ۔ لگتا ہے آپ نے چند روز قبل پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر غور نہیں کیا ۔ چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ چند دن پہلے خبر آئی تھی کہ   فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی فرزانہ نے اقبال نامی شخص سے پسند کی شادی کی تھی اور جب اپنے مقدمے کی سماعت کے لئے لاہور ہائی کورٹ پہنچی تو پہلے سے گھات لگائے اس کے بھائیوں نے اس پر اینٹوں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں فرزانہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی جب کہ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے  موقع پر پہنچ کر لڑکی کو اسپتال منتقل کردیا تھا   لیکن ڈاکٹرز کے مطابق سر میں شدید چوٹیں لگنے کے  باعث لڑکی کی موت واقع ہوچکی ہے۔

یہ خبر سن کر مجھےبے حد افسوس ہوا ۔ ہم اکیسویں صدی سے بھی آگے نکل چکے ہیں لیکن آج بھی کچھ نہیں بدلا۔ ہمارے  ملک میں ظلم و ستم کی داستانیں  معمول بن چکی ہیں ۔  لیکن اس بار تو حد ہی کردی ،کیونکہ  فرزانہ عدالت میں انصاف کیلئے آئی تھی ،لیکن اس بیچاری کو انصاف تو نہ مل سکا بلکہ  انصاف کی دہلیز پر پہنچ کر یہ دنیا چھوڑ گئی ،اور مزید حیرت تو یہ کہ پولیس ملزمان کو اب تک گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

مجھے مزید دکھ تب ہوا جو این جی اوز خواتین کے نام پر عیش کررہی ہیں انہوں نے بھی اس واقعہ کیخلاف کوئی احتجاج یا ریلی نہیں نکالی ،اور نہ ہی وکلا برادری نے اپنا کردار ادا کیا۔   ۔حالانکہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ ہر شخص کی آنکھ اشکبار ہوگئی ،لیکن کسی نے بھی آگے بڑھ کر کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ مجھے تمام لوگوں سے صرف ایک ہی جواب  چاہئے کیوں؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں اتنی خاموشی کیوں ہے؟

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔