بھارتی فلم نگری میں بھی صرف معیاری کام ہی کروں گی، سارہ لورین

قیصر افتخار  اتوار 1 جون 2014
بھارتی فلم نگری میں پروفیشنل لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، تین نئے پراجیکٹس سائن کیے ہیں،ایکسپریس سے گفتگو  فوٹو : فائل

بھارتی فلم نگری میں پروفیشنل لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، تین نئے پراجیکٹس سائن کیے ہیں،ایکسپریس سے گفتگو فوٹو : فائل

لاہور: پاکستان کی بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ وماڈل سارہ لورین نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی ہمیشہ معیاری کام کیا اوراب بھارتی فلم نگری میں بھی صرف معیاری کام ہی کرونگی، میری ڈیمانڈ تعداد نہیں بلکہ معیار ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سارہ لورین نے کہا کہ پاکستان میں کام کرتے ہوئے میں نے فیشن اور ٹی وی انڈسٹری کے لیے بہت کام کیا اور چند ہی برسوں میں اپنی ایک ایسی پہچان بنائی جس کے لیے لوگوں کو برسوں لگ جاتے ہیں، اسی مقبولیت کی وجہ سے مجھے بالی ووڈ میں اچھے کردار آفر ہوئے اور میں نے یہاں پر کام کا آغاز کیا، جونہی میں نے بھارت میں کام کرنے کا فیصلہ کیا تو بہت سے لوگوں نے منفی پراپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کہ میں صرف پاکستان میں ’اے کیٹگری‘ کو ترجیح دیتی تھی لیکن بھارت میں ’’سی اور ڈی‘‘ کیٹگری کی فلموں میں کام کرونگی، مگر ایسا نہیں ہوا، میں نے مہیش بھٹ فیملی کے ساتھ کام کیا اور میری فلم نے زبردست بزنس کیا، جس کی بدولت مجھے بہت سی آفرز ہوئیں، لیکن میں کوئی بھی پراجیکٹ اس وقت تک سائن نہیں کرتی جب تک میں اس کی کہانی اور اپنے کردار بارے مطمئن نہ ہو جاؤں۔

اس لیے بالی ووڈ کے لیڈنگ فلمساز اداروں کے تین پراجیکٹس سائن کیے ہیں لیکن ان کی تفصیلات اور اپنے کردار بارے معاہدے کی وجہ سے فی الحال کچھ نہیں بتا سکتی مگر اتنا ضرور کہہ سکتی ہوں کہ آنیوالے چند ماہ کے دوران میرے چاہنے والوں کو میں ایک منفرد انداز میں دکھائی دونگی۔ ایک سوال کے جواب میں سارہ لورین نے کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے فنکاروں پر مشتمل فلم ’’ سلطنت ‘‘ نمائش کیلیے پیش کی جائے گی، اس فلم میں، میں نے اداکاری تو نہیں کی، لیکن ایک آئٹم سانگ مجھ پر فلمبندکیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ نئے پراجیکٹس سائن کر رکھے ہیں جو آنیوالے دنوں میں ٹی وی اور فلموں میں دکھائی دینگے۔ انھوں نے کہا کہ بالی ووڈ میں پروفیشنل لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا جا رہا ہے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔