پیوست

وجاہت علی عباسی  اتوار 1 جون 2014
wabbasi@yahoo.com

[email protected]

1995 میں امریکا کے مشہور رسالے نیوز ویک نے ایک مضمون چھاپا تھا جس کا موضوع تھا انٹرنیٹ ایک بے کار چیز ہے اسے عام لوگ کبھی استعمال نہیں کریں گے لیکن نیوز ویک اپنی اس پیش گوئی میں بالکل غلط ثابت ہوا۔ جب 1997 تک انٹرنیٹ پر ایک ملین سائٹس بن چکی تھیں۔

’’6 ڈگریز ڈاٹ کام‘‘ وہ پہلی ویب سائٹ تھی جس پر لوگ اپنے پروفائلز بناسکتے اور اپنے فرینڈز کو اپنی لسٹ میں شامل کرسکتے جس کے بعد ’’فرینڈز ری یونائیٹ‘‘ اور درجنوں ایسی ویب سائٹس انٹرنیٹ پر آگئیں۔ سال 2000 تک انٹرنیٹ سے ستر ملین کمپیوٹرز دنیا بھر سے رابطے میں تھے۔

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ’’فرینڈسٹرز‘‘ 2002 میں یو ایس اے میں کھولی گئی اور صرف تین مہینے میں تین ملین USERS تک پہنچ گئی، اس کی کامیابی دیکھ بالکل ایسی ہی ہو بہو سائٹ ’’مائی اسپیس‘‘ 2003 میں بنی اور اس سے ملتی جلتی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ 2004 میں بنی، یہ پہلے کالج کے طلبا کے لیے تھی اس لیے اسے لوگ ’’اسٹوڈنٹس کا فرینڈسٹرز‘‘ کے نام سے بھی پکارتے تھے۔

2006 تک دنیا کی سب سے مقبول اور نمبر ون ویب سائٹ ’’مائی اسپیس‘‘ تھی لیکن 2008 تک فیس بک نمبر ون ہوگئی، 2007 میں ایپل نے پہلا اسمارٹ فون آئی فون ریلیز کیا جس کے بعد USERS اب اپنے فون سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کو کھول سکتے تھے یعنی اب سوشل نیٹ ورک آپ کی جیب میں ہے۔

آج انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورک ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں جو لوگ عام طور پر باقاعدگی سے انٹرنیٹ نہیں استعمال کرتے وہ بھی فیس بک باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت فیس بک پر 1.1 بلین ایکٹیو یوزرز ہیں۔

جہاں پہلے لوگ سوشل نیٹ ورکنگ کو بچوں کا کھیل اور وقت کا زیاں سمجھتے تھے وہیں وقت گزرنے کے ساتھ اس سوچ میں کئی اہم بدلاؤ آنے لگے۔

یہ سوشل میڈیا ہی تھا جس کی وجہ سے اوباما تیزی سے مقبول ہوئے۔ وہ جو تین سو سال میں نہیں ہوا وہ امریکا نے سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے کچھ مہینوں میں ممکن کردیا۔ ایک افریقن امریکن پہلی بار امریکا کا صدر بنا، اگر اوباما کی کیمپین پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ فیس بک، ٹوئٹر کے ذریعے انھوں نے عوام خصوصاً نوجوانوں سے براہ راست رابطہ قائم کیا، بیشتر وہ لڑکے لڑکیاں جو پہلی بار ووٹ دے رہے تھے، اوباما خود سے فیس بک پر Message کرتے اور لوگوں کا جواب بھی دیتے، ان کی بیشتر ریلیز فیس بک پر ہی پلان کی گئیں اور ہزاروں لوگ ان میں موجود ہوتے۔

مصر کے انقلاب کے بارے میں آج سب جانتے ہیں لیکن جو سب نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ یہ سارا انقلاب فیس بک کے ایک صفحے سے شروع ہوا تھا، جب دبئی میں رہنے والے ایک مصری گوگل مارکیٹنگ Executive ویل گوہنم (Wael Ghonim) نے جون آٹھ 2010 میں اپنے گھر میں انٹرنیٹ پر ایک چھبیس سالہ نوجوان کی تصویر دیکھی جسے مصری پولیس نے تشدد کرکے مار ڈالا تھا اس واقعے کی مذمت کرنے کے لیے ویل گوہنم نے فیس بک پر ایک پیج بنایا جس کے دس منٹ میں تین سو ممبر بن گئے۔

اس فیس بک پیج کے بہت جلد ہزاروں ممبر بن گئے اور ایک ایسی تحریک کا آغاز ہوگیا جس کا کوئی پہلے تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے بعد مصر میں کیا ہوا؟ یہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پچھلے دس سال میں دنیا کی سیاست کی وجہ سے جن ملکوں کو سب سے زیادہ دھچکا پہنچا ہے ان میں ایک افغانستان ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو پچھلی جنگ سے ہی نہیں سنبھل پایا تھا کہ نائن الیون کے بعد ایک عجیب سے موڑ پر آکھڑا ہوا۔ دنیا ان کے مسئلے سمجھنے کے بجائے الٹا ان پر ٹوٹ پڑی، ملک کی غلطی نہیں تھی ہاں شاید کچھ گنتی کے لوگ غلط کاموں میں ضرور ملوث تھے لیکن نائن الیون کی وجہ سے پورے ملک اور وہاں کے رہنے والوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

پچھلے دس سال میں امریکا بلین آف ڈالرز خرچ کرچکا ہے کہ کس طرح افغانستان اور دنیا کے بیچ امن کے راستے ہموار کرے۔ وہ امن قائم ہوسکے جس کا انتظار افغانیوں کو بھی ہے لیکن اب تک کی ہر کوشش ناکام رہی۔

جہاں دنیا بھر کے لوگ سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بناچکے تھے وہیں افغانستان ان چیزوں سے بہت دور تھا لیکن کچھ سال پہلے امریکا کی ہی فنڈنگ سے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا جس کا نام تھا ’’پیوست‘‘ یعنی ’’جڑجانا‘‘ یہ ایک سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ تھی جو افغانستان میں فیس بک کی طرح کامیاب ہوگئی جب کہ امریکا نے دوسرے ملکوں جیسے کیوبا میں بھی پروجیکٹس شروع کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔

ہیلری کلنٹن نے کچھ سال پہلے جب مصر اور تیونیشیا میں سوشل میڈیا کا استعمال دیکھا تو فیصلہ کیا کہ افغانستان میں بھی اس طرح کی سائٹ بنائی جائے گی جس کے بعد ’’پیوست‘‘ بنی لیکن 2011 میں امریکا نے اس کی فنڈنگ روک دی۔

افغانستان میں پیوست کی شہرت بڑھتی گئی اور اس وقت 1.6 ملین یوزرز اس ویب سائٹ کو روز استعمال کر رہے ہیں لیکن کیوں کہ اب اس کو چلانے والی کمپنی کے پاس امریکن فنڈز نہیں تھے اس وجہ سے انھوں نے سروس کے لیے یوزرز سے چارج کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے کئی لوگوں نے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنا چھوڑ دیا۔ کمپنی والے مجبور ہیں پیسے لینے کے لیے Consumers سے ورنہ وہ آپریشن نہیں چلا سکتے تھے۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ وہ ملک جو دوسروں کے حساب سے ترقی یافتہ نہیں وہاں کے 1.5 ملین سے زیادہ لوگ انٹرنیٹ کے ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں جو دنیا سے براہ راست رابطے میں رہ سکتے ہیں، انٹرنیٹ ترقی کر رہا ہے اور سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹس کی مقبولیت پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ جب مصر میں فیس بک کے صرف ایک پیج سے انقلاب آسکتا ہے تو افغانستان میں ایک ویب سائٹ سے کیوں نہیں؟

’’پیوست‘‘ افغانستان کا فیس بک ہے جسے دنیا نظر انداز کر رہی ہے۔ امریکا کو چاہیے اربوں ڈالر دوسری چیزوں پر خرچ کرنے کے بجائے کچھ فنڈز پیوست پر لگائے تاکہ یہ سروس مفت ہوسکے اور مزید لوگ اسے جوائن کریں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں افغانستان کا وہ مجمع جمع ہو رہا ہے جسے امریکا پچھلے دس سال میں جمع نہیں کر پایا، ایک دفعہ یہ مجمع جمع ہوگیا تو ان سے بات کرنا آسان ہوگی یہ امریکا کو سمجھنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔