ملازمت پیشہ خواتین سے شادی

شیخ جابر  اتوار 1 جون 2014
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

لڑکیوں کے رشتے طے کرتے ہوئے یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ دولہا کماؤ پوت ہو۔ ایک عرصے سے ایسا ہی چلا آرہا ہے۔ لیکن حقوق نسواں کے میدان میں آتے ہی خواتین نے بھی ’’کماؤ پوت‘‘ بننا شروع کردیا۔ وہ بھی معاشی ترقی میں مردوں کے شانہ بہ شانہ نظر آنے لگیں۔ اس تبدیلی کے بعد رشتوں ناتوں میں بھی تبدیلیوں کا عمل شروع ہوا تھا جو ناخوب بہ تدریج وہی خوب ہوا۔ رشتے طے کرتے ہوئے دیگر بہت سی خواہشات کے ساتھ یہ خواہش بھی جاگنے لگی اور کی جانے لگی کہ لڑکی برسر روزگار ہو۔ معاشیات کا دور ہے۔

کون ہوگا جو اس معاشی ترقی میں پیچھے رہ جانا چاہتا ہو۔ ہر فرد زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے۔ بے حساب ترقی ’’سکائی از دا لمٹ‘‘۔ ایسے میں اگر خاندان کے معاش کی گاڑی کو محض ایک پہیے سے گھسیٹنے کی کوشش کی جائے تو لامحالہ وہ رفتار نہیں ہوسکتی جو دو پہیوں کے گھسیٹنے سے ممکن ہے۔ لہٰذا یہ خواہش بجا نظر آنے لگی کہ اب خواتین کو بھی ’’کماؤپوت‘‘ ہی ہونا چاہیے۔ اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر دو ایک دوسرے کے دکھ درد کو زیادہ بہتر محسوس کرسکتے ہیں اور نسبتاً زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ ذہنی ہم آہنگی گزشتہ جوڑوں سے زیادہ ہوگی وغیرہ۔

ہمارے ہاں اس قسم کے تمام تر افکارات ظاہر ہے کہ دیسی نہیں ہیں مغرب سے درآمد کیے گئے ہیں۔ اس درآمدگی کے بعد ہم نے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ خود مغرب میں کیا کچھ ہو رہا ہے اور وہاں کیا کہا جا رہا ہے۔ معروف انگریزی جریدے ’’فوربس‘‘ کے 2006 کے شمارے میں اس حوالے سے ایک دلچسپ مضمون پر نظر پڑی۔ یہ مضمون 22 اگست 2006 کو شایع ہوا تھا اور اس کے لکھنے والے ہیں ’’مائیکل نوئر‘‘ (21 مارچ 1969) آپ ’’فوربس‘‘ اور ’’ویرڈ‘‘ جرائد میں ’’بزنس رائٹر‘‘ اور مدیر ہیں۔ مضمون کا عنوان ہے ’’ملازمت پیشہ خواتین سے شادی مت کرو‘‘۔

مضمون کی ابتدا ہی وہ اس نصیحت سے کرتے ہیں کہ خوب صورت یا بدصورت لمبی یا کوتاہ قامت، کالی یا گوری، موٹی یا دبلی غرض کسی بھی عورت سے شادی کرلینا لیکن کبھی کسی ملازمت پیشہ خاتون سے شادی مت کرنا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بہت سارے معاشرتی سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین سے شادی کے بعد آپ کی شادی شدید قسم کے خطرات سے دوچار رہتی ہے۔ نوئر لکھتے ہیں کہ ہر فرد واقف ہے کہ شادی شدہ زندگی کے اپنے تناؤ ہیں لیکن جدید مطالعات بتاتے ہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ (غالباً ٹائم میگزین کا حالیہ شمارہ اسی موضوع پر اعداد و شمار پیش کر رہا ہے) نہ صرف یہ کہ ان کی جانب سے طلاق کا مطالبہ ہونے کا زیادہ امکان ہے بلکہ اس امر کا امکان بھی زیادہ ہے کہ وہ دھوکا نہ دیں۔ انھیں بچوں کا ہونا نہیں بھاتا، اگر کسی طور بچے ہو بھی جائیں تو اس کا امکان ہے کہ وہ خوش نہیں رہتیں۔

یہ کوئی اچھا نتیجہ نہیں ہے۔ خاص کر مردوں کے لیے یا ان مردوں کے لیے جو کامیاب ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایسی ہی خواتین میں دلچسپی محسوس کریں گے جو ان ہی جیسے اہداف اور خیالات رکھتی ہوں اور کیوں نہ ہو آخر کو آپ کی ملازمت پیشہ منگیتر ایک پڑھی لکھی، سمجھ دار، پرامنگ اور جدید دنیا سے واقف ہے۔ بہ ظاہر یہ سب کچھ بہت عمدہ ہے۔ ٹھیک۔۔۔۔ لیکن صرف اسی وقت تک جب تک آپ شادی نہیں کرلیتے۔ اب ذرا حقائق کی دنیا میں آجائیں۔ خاتون جتنی کامیاب ہوں گی وہ اتنا ہی آپ سے غیر مطمئن ہوں گی۔ یقیناً یہ جملہ بہت سے افراد کو حسب حال لگتا ہوگا۔

ایک کامیاب ازدواجی زندگی کے بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کی نصف بہتر کے والدین کی ازدواجیات بھی۔ اگر ان میں علیحدگی ہوچکی ہے تو اس کا امکان اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ ان کی بیٹی میں علیحدگی ہو۔ پہلی شادی کی عمر، نسل، مذہب، عقائد اور معاشرتی ومعاشی مقام اور یقینی طور پر بہت سی ملازمت پیشہ خواتین بہت عمدہ ملازمت کے ساتھ بہت عمدہ ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں۔ لیکن یہاں ہم موازنہ پیش کر رہے ہیں ان خواتین سے جو غیر ملازمت پیشہ ہیں یعنی جو صرف گھر میں رہتی ہیں اور گھر کے کام کاج وغیرہ ہی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ہم اس حوالے سے اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ واضح رہنا چاہیے کہ ہم کسی ہائی اسکول کی لڑکی یا ہائی اسکول تک پڑھی ہوئی خاتون کی بات نہیں کر رہے۔ ہماری ملازمت پیشہ لڑکی یونیورسٹی تک یا اس سے بھی زیادہ کی تعلیم یافتہ ہے۔ جو ایک ہفتے میں 35 گھنٹے یا اس سے زیادہ ملازمت کرتی ہے اور گھر سے باہر رہتی ہے۔ اس کی سالانہ آمدنی 30 ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ ہے۔

بے شمار مطالعات اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان سے شادی کرنا خود کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ ملازمت چھوڑ دیں اور گھر بیٹھ کر بچوں کو سنبھالیں تو یہ بہت ناخوش رہتی ہیں (جرنل آف میرج اینڈ فیملی 2003)۔ یہ اس وقت بھی خوش نہیں ہوتیں جب یہ آپ سے زیادہ پیسے کمانے لگ جائیں۔ (سوشل فورسز 2006) نیز اگر یہ آپ سے زیادہ آمدنی کی حامل ہوجائیں تو یہ بات آپ کو پسند نہیں آتی (جرنل آف میرج اینڈ فیملی 2001) اس کا زیادہ امکان ہے کہ آپ بیمار پڑجائیں (امریکن جرنل اوف سوشیالوجی) یہاں تک کہ آپ کا گھر بھی گندا رہتا ہے (انسٹیٹیوٹ آف سوشل ریسرچ)۔

کیوں؟ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس حقیقت کے باوصف کہ ملازمت، عورت اور شرح طلاق میں براہ راست تعلق ہے، یہ ایک پیچیدہ اور متنازع مسئلہ بھی ہے۔ زیادہ تر دلائل کا تعلق معاشی نظریات سے ہے اور تھوڑا بہت کامن سنس سے۔ کلاسیکل معیشتوں میں یا روایتی معاشروں میں مرد عام طور پر گھر کے باہر کے کام کیا کرتا ہے اور ذریعہ معاش اور آمدنی کے معاملات اس کی ذمے داری ہوتے ہیں۔ جب کہ عورت باہر کی ذمے داریوں سے علیحدہ ہوکر گھر اور بچوں کو دیکھتی ہے۔

نوبل انعام یافتہ ’’گیری ایس بیکر‘‘ کہتے ہیں کہ جب شادی شدہ افراد اپنے اپنے دائروں اور کاموں سے باہر آنے لگتے ہیں یا ان میں کمی بیشی کے مرتکب ہوں یا مثال کے طور پر اگر دونوں میاں بیوی ملازمت کرنے لگ جائیں تو ان کی شادی کی کل ’’ویلیو‘‘ دونوں کے لیے کم ہوجائے گی۔ کیوں کہ جو کام کیا جانا تھا دونوں اس میں کمی لائے اس سے دونوں کی زندگی مشکل ہوجاتی ہے اور طلاق کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صرف اس ہی کا نتیجہ نہیں ’’تجرباتی مطالعات‘‘ کے نتائج بھی عین اسی طرح کے ہیں۔

2004 میں جان ایچ جانسنز اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ ’’سروے آف انکم اینڈ پروگرام پارٹی سسپیشن‘‘ آپ نے نتیجہ اخذ کیا کہ جنس کام کے اوقات اور شرح طلاق پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے۔ جو خواتین بہت زیادہ وقت ملازمت کو دیتی ہیں ان میں شرح طلاق اتنی ہی زیادہ ہوا کرتی ہے۔ اس کے برعکس مردوں کے کام کے اوقات بڑھ جانے سے طلاق کی شرح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

نوئر لکھتے ہیں کہ شادی پر اثرانداز ہونے والا ایک امر یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو یا منگیتر کو دفتر کے کسی صاحب کے ساتھ دیکھ لیا اور غلط فہمیوں یا صحیح فہمیوں میں مبتلا ہوگئے۔ یا خود خاتون ہی کو 12,8 گھنٹے کسی اور صاحب اور صاحبان کے ساتھ گزار کر اپنے شوہر سے زیادہ ذہنی ہم آہنگی والا کوئی فرد مل گیا۔ نوئر کا خیال ہے کہ ان عوامل کی بنا پر بھی ملازمت پیشہ یا کارپوریٹ خواتین میں شرح طلاق بڑھ جاتی ہے۔ نوئر کے بہت سے مباحث اور اعداد و شمار ظاہر ہے کہ امریکا سے ہیں اور وہ جس معاشرے کی بات کر رہے ہیں وہ ایک مکمل مغربی معاشرہ ہی ہے۔

ہم عمومی طور پر دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں ملازمت پیشہ خواتین میں شرح طلاق مغرب کے مقابلے میں کہیں کم نظر آتی ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ہماری خواتین اور ہم اب تک ایک معاشی معاشرے کے شہری نہیں ہیں۔ ہماری روایات اور اقدار ابھی بہت کچھ باقی ہیں۔ ان روایات کے سبب اگرچہ ہماری ملازمت پیشہ خواتین کو ملازمت کے بعد گھر کی اور بچوں کی تمام تر ذمے داریاں بحسن و خوبی ہی انجام دینی پڑتی ہیں لیکن وہ اسے خوش دلی سے انجام دیتی ہیں۔

ایک مطالعے کے مطابق پاکستانی ملازمت پیشہ خواتین کی اکثریت 88 فیصد اپنی ملازمتوں کو مارے باندھے جاری رکھے ہوتی ہیں (ان میں خواتین اساتذہ شامل نہیں)۔ انھیں باہر کی دنیا کا تجربہ کرلینے کے بعد گھر کی دنیا اور گھر کی رانی بن کے رہنا زیادہ پسند ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی تجربہ ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کو مشرقی روایات کے عین مطابق دفتر میں بھی اور گھر میں ایک خاص عزت، مقام، مان اور مرتبہ ملتا ہے جس کا مغرب میں تصور بھی محال ہے۔

یقیناً ہمارے ہاں بھی تعلیم اور ملازمت شادیوں میں رکاوٹ اور شرح طلاق میں اضافے کا سبب ہے لیکن صبر، عمل، تربیت، روایت، رشتے داریاں اور بچوں کا اٹوٹ رشتہ اس بندھن کو مالا میں پروئے رکھتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔