بھوک ہڑتال کا ہتھیار

وسعت اللہ خان  منگل 3 جون 2014

بھوک ہڑتال سیاسی مطالبات پورے کرانے کا ایک غیر متشدد ہتھیار ہے۔جس کا مقصد سامنے والے کو احساسِ جرم میں مبتلا کرنا یا اپنے کاز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔

مقدس ہندو کتاب رامائن کے مطابق پہلی بھوک ہڑتال بھرت نے تب کی جب وہ رام کو قائل کرنا چاہتے تھے کہ آپ خود ساختہ جلاوطنی ترک کرکے ریاست کا کاروبار سنبھالیں۔ تاہم رام نے بھرت کو برت توڑنے پر آمادہ کرلیا۔بیسویں صدی کے ہندوستان میں مہاتما گاندھی کو انگریزی حکومت نے 1922 سے 42ء تک چار مرتبہ لمبی قید میں ڈالا اور گاندھی جی نے ستیہ گرہ ( سول نافرمانی ) کے تحت کئی بار بھوک ہڑتال کی۔ انگریز مہاتما کے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے نہیں چاہتے تھے کہ مہاتما کو جیل میں بھوک ہڑتال کے سبب کچھ ہوجائے چنانچہ مہاتما اپنے مطالبات منوانے میں اکثر کامیاب ہوجاتے تھے۔

آزادی کے بعد بھی مہاتما نے بھوک ہڑتال کا ہتھیار ہندو مسلم فسادات رکوانے کے لیے خاصی مہارت سے استعمال کیا۔ان کے آخری برت کا سبب یہ تھا کہ حکومتِ ہند  پاکستان کو اس کے حصے کے وسائل اور سامانِ حرب دینے میں رکاوٹیں ڈال رہی تھی لیکن گاندھی جی نے برت رکھ کے نہرو اور پٹیل کو سامان بھجوانے پر آمادہ کرلیا۔اس پاکستان نوازی کا خمیازہ انھیں31 جنوری1948کو ایک جن سنگھی ناتھو رام گوڈسے کی سینے میں اترنے والی گولی کی شکل میں بھگتنا پڑا۔حکومتِ پاکستان نے قومی پرچم سرنگوں رکھا اور گورنر جنرل محمد علی جناح نے اپنے تعزیتی پیغام میں گاندھی کے لیے ’’اے گریٹ انڈین ’’ کا لقب استعمال کیا۔

برٹش دور میں ایک اور سیاسی قیدی جیتندر داس نے لاہور جیل میں اس مطالبے کے حق میں بھوک ہڑتال کی کہ سزا یافتہ قیدیوں اور ملزموں کی سہولتوں میں تفریق نہ برتی جائے۔تاہم وہ 13 ستمبر 1929کو مرن برت کے تریسٹھویں دن وفات پاگئے۔البتہ اسی زمانے میں دہشت گردی کے الزام میں قید بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی دت نے ایک سو انیس دن کی کامیاب بھوک ہڑتال کی اور جیل سے متعلق اپنے مطالبات منوانے میں جزوی کامیاب رہے۔

آزادی کے بعد گاندھی پرست سری رامولو نے 1952 میں آندھرا کو علیحدہ صوبہ بنوانے کے لیے  بھوک ہڑتال کی اور اٹھاون دن بعد دم توڑ دیا۔تاہم ان کی قربانی رائیگاں نہیں گئی اور پارلیمنٹ نے صوبوں کی تشکیل کے لیے نسلی و لسانی معیار تسلیم کرلیا۔ بعد میں کئی نئے صوبوں کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی۔

مغربی دنیا میں بہت سے سیاسی کارکنوں نے حقوق کی جنگ میں بھوک ہڑتال کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔سب سے زیادہ بھوک ہڑتالیں آئرلینڈ پر برطانوی قبضے اور وہاں پر جاری کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقہ واریت کے ردِ عمل میں ہوئیں اور سب سے زیادہ شہرت آئرش ریپبلیکن آرمی کے ایک فعال کارکن بوبی سینڈز کے حصے میں آئی۔بوبی سینڈز شمالی آئر لینڈ کے ایک عام سے کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن پروٹسٹنٹ اکثریت کے بیچ میں رہتے ہوئے انھیں اکثر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔کبھی غنڈے گھر والوں کو دھمکاتے۔کبھی کھڑکیوں پر پتھراؤ ہوجاتا۔چنانچہ بوبی سینڈز کے خاندان کو ہر چند ماہ بعد گھر بدلنا پڑتا۔ اسکول میں پروٹسٹنٹ بچوں نے کیتھولک بچوں کا سماجی بائیکاٹ کررکھا تھا مگر اساتذہ کے نزدیک یہ کوئی ایسی سنگین بات نہیں تھی۔

1969 میں جب نوجوان بوبی سینڈز نے ٹیکنیکل کالج میں داخلہ لیا تو پروٹسٹنٹ کارکنوں نے ان کا جینا دوبھر کردیا اور ایک دن اسلحے کے بل پر دھکے دے کر نکالتے ہوئے کہا کہ دوبارہ نظر آئے تو ٹانگوں پر چل کے نہیں جاؤ گے۔بوبی سینڈز اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ یوں کام نہیں چلے گا۔چنانچہ انھوں نے 1972 میں علیحدگی پسند مسلح تنظیم آئی آر اے میں شمولیت اختیار کرلی۔اگلے برس ہی غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں پانچ برس کی جیل ہوگئی مگر تین برس بعد رہا کردیا گیا۔لیکن چھ ماہ بعد ہی ایک فرنیچر کمپنی کے دفتر پر بم حملے کے الزام میں آئی آر اے کے کئی کارکن بوبی سینڈز سمیت حراست میں لے لیے گئے اور چودہ برس قید کی سزا سنا دی گئی۔ابتدائی بائیس دن انھیں ایک خالی کمرے کے ننگے فرش پر سونا پڑا۔

پندرہ دن بغیر کپڑوں کے گذارنے پڑے اور ہر خوراک کے نام پر ہر تین دن بعد ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا اور سادہ پانی ملنے لگا۔بعد میں جب جیل حکام کے خیال میں دماغ ٹھکانے پر آگیا تو کچھ معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں۔تاہم آئی آر اے کے قیدیوں کا موقف تھا کہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ سیاسی ورکر ہیں لہذا انھیں جیل میں سیاسی قیدیوں جیسی مراعات دی جائیں اور پھر بھوک ہڑتال شروع ہوگئی۔ مطالبہ یہ تھا کہ ہمیں قیدیوں کی یونیفارم پہننے سے مستثنیٰ کیا جائے۔جبری مشقت نہ لی جائے۔ہر ہفتے ایک رشتے دار سے ملاقات ، ایک خط اور ایک پارسل بھیجنے اور وصول کرنے کا حق تسلیم کیا جائے۔

اس دوران ایک آئرش قوم پرست کی وفات کے سبب برطانوی پارلیمنٹ کی ایک نشست پر ضمنی انتخاب ہوا جس میں قوم پرستوں نے بوبی سینڈز کو اپنا امیدوار نامزد کیا اور وہ جیت کر برطانوی پارلیمان کے سب سے کم عمر رکن ( ستائیس برس ) قرار پائے۔لیکن کامیابی کے صرف پچیس روز بعد بھوک ہڑتال کے چھیاسٹھویں دن بوبی سینڈز کا میز جیل میں انتقال ہوگیا۔شمالی آئرلینڈ میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔اس دوران یکے بعد دیگرے نو دیگر آئرش بھوک ہڑتالی بھی جاں بحق ہوگئے۔ بوبی سینڈز کی ہلاکت کے بعد کئی یورپی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔فرانس کے کئی قصبات میں متعدد کوچے ان کے نام سے موسوم ہوئے۔ سوویت یونین میں بوبی سینڈز کی نظموں کا ترجمہ ہوا۔نافا کی اسرائیلی جیل میں قید فلسطینیوں نے ایک تعزیتی خط کسی طرح اسمگل کرا کے بوبی سینڈز کے اہلِ خانہ تک پہنچوایا۔

امریکا میں مقیم آئرش برادری نے تعزیتی جلسے کیے۔ایرانی صدر ابو الحسن بنی صدر نے بھی ایک تعزیتی پیغام بھیجا اور تہران کی ونسٹن چرچل اسٹریٹ کا نام بوبی سینڈز اسٹریٹ رکھ دیا۔چنانچہ اس اسٹریٹ پر واقع برطانوی سفارتخانے نے اپنا صدر دروازہ بند کرکے پچھواڑے میں صدر دروازہ بنا لیا تاکہ خط و کتابت کے پتے کے طور پر بوبی سینڈز اسٹریٹ کے بجائے شاہراہِ فردوسی کا نام استعمال ہوسکے۔بھارتی لوک سبھا میں حزبِ اختلاف نے ایک منٹ کی تعزیتی خاموشی اختیار کی تاہم حکمراں کانگریس نے اس میں حصہ نہیں لیا۔لیکن طویل ترین بھوک ہڑتال کا ریکارڈ بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کی شہری و سیاسی حقوق کی بیالیس سالہ کارکن اور شاعرہ لروم شرمیلا چانو نے قائم کیا ہے۔

شرمیلا 1972 میں پیدا ہوئیں۔ان کی تعلیم صرف سات جماعت ہے۔بچپن سے ہر جمعرات کو برت ( روزہ ) رکھنے کی عادی تھیں۔منی پور میں بھارت سے علیحدگی کی تحریک لگ بھگ چالیس برس سے چل رہی ہے۔اسے دبانے کے لیے ریاست میں 1980 سے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ مجریہ 1958 نافذ ہے۔( اس ایکٹ کے تحت مسلح افواج اور نیم فوجی اداروں کو بنا وارنٹ تلاشی ، گرفتاری اور شک کی بنیاد پر گولی مار دینے کے اختیارات حاصل ہیں۔یہ ایکٹ دیگر شمال مشرقی ریاستوں ناگالینڈ ، میزو رم اور متنازعہ ریاست جموں کشمیر میں بھی نافذ ہے )۔مگر شرمیلا کا کسی بھی مسلح علیحدگی پسند گروہ سے کبھی کوئی لینا دینا نہیں رہا۔ہوا یوں کہ دو نومبر سن دو ہزار کو منی پور کے قصبے مالوم میں نیم فوجی آسام رائفلز کے جوانوں نے ایک بس اسٹاپ پر کھڑے دس شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

مرنے والوں میں ایک باسٹھ سالہ خاتون اور 1988کا سرکاری نیشنل چائلڈ بریوری ایوارڈ حاصل کرنے والی اٹھارہ سالہ سنام چندر منی بھی شامل تھیں۔لروم شرمیلا چانو کو جب خبر ملی تو انھوں نے بس اتنا کیا کہ اپنا برت طویل کردیا اور آج چودہ برس ہو چلے ہیں, ان کی بھوک ہڑتال کو۔ان کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ منی پور اور دیگر ریاستوں سے اسپیشل پاورز ایکٹ ہٹایا جائے اور شہری آزادیوں کو بحال کیا جائے۔بھوک ہڑتال کے تیسرے روز شرمیلا کو خودکشی کی کوشش کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا جس کی بھارتی قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا ایک برس ہے۔چنانچہ انھیں ہر سال یہ مدت پوری ہونے سے چند روز پہلے رہا کردیا جاتا ہے اور پھر حراست میں لے لیا جاتا ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل شرمیلا کو ضمیر کا قیدی قرار دے چکی ہے۔ شرمیلا کا مقدمہ نوبیل انعام یافتہ ایرانی شخصیت شیریں عبادی اقوام ِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل تک لے جا چکی ہیں۔خود شرمیلا کا نام دو ہزار پانچ کی نوبیل انعام کی مستحق شخصیات کی فہرست میں آچکا ہے۔ پچھلے چودہ برس سے شرمیلا نے نہ ہی کچھ کھایا نہ پیا البتہ جیل حکام نے ان کی ناک سے خوراک کی نلکی معدے تک پہنچا رکھی ہے تاکہ وہ طبی عملے کی نگرانی میں زندہ رہیں۔حالیہ انتخابات میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے انھیں لوک سبھا کا امیدوار بنانے کی پیش کش کی لیکن شرمیلا نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاستداں بے شرم ہیں۔اسپیشل پاورز ایکٹ اٹھانے کا یقین ضرور دلاتے ہیں مگر کرتے ورتے کچھ نہیں۔

اس وقت پاکستان میں بھی ایک نوجوان نے بیالیس روز سے کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ کالعدم بلوچ طلبا تنظیم بی ایس او آزاد کے کارکن لطیف جوہر کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنظیم کے سربراہ زاہد بلوچ کو بازیاب کرایا جائے جنھیں دو ماہ قبل کوئٹہ سے اغوا کرلیا گیا تاہم پولیس اب تک اس اغوا کی ایف آئی آر کاٹنے سے انکاری ہے۔لطیف جوہر کا وزن تقریباً بیس کلوگرام کم ہوچکا ہے۔بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے لطیف کے کیمپ میں آکر اپیل کی کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کردیں لیکن لطیف کا اصرار ہے کہ جنہوں نے زاہد بلوچ کو غائب کیا ہے اگر وہ ان کی گرفتاری تسلیم کرکے عدالت میں پیش کر دیں تو وہ بھوک ہڑتال ختم کرسکتے ہیں۔لیکن یہ وہ مطالبہ ہے جس پر عمل درآمد شائد وزیرِ اعلیٰ کے بھی بس میں نہیں۔لطیف کی بھوک ہڑتال تادم ِ تحریر جاری ہے۔

کچھ ایسے بھوک ہڑتالی بھی ہوتے ہیں جو علامتی بھوک ہڑتال یا پانچ گھنٹے کی بھوک ہڑتال وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں۔مقصد سنگل کالم خبر ، ایک عدد ہار پہنی تصویر کی اشاعت اور ٹی وی چینل پر پٹی چلوانے کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔اگر ایسوں کا تذکرہ شروع کردیں تو بات ہزاروں تک پہنچ جائے گی۔اور کچھ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی بھوک ہڑتال ختم کرانے جب کوئی من پسند وی آئی پی نہیں آتا تو خود ہی احتجاجاً بھوک ہڑتال ختم کردیتے ہیں۔ خداایسوںکوبھی سلامت رکھے…

( وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bcurdu.com پر کلک کیجیے )

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔