کیسی امید

فاطمہ نقوی  منگل 3 جون 2014
fnakvi@yahoo.com

[email protected]

’’نواز شریف نے حریت پسند کشمیری لیڈروں سے ملاقات نہ کرکے کشمیر کے کاز کو نقصان پہنچایا‘‘

’’نواز شریف کے دہلی جانے سے برف پگھلی ہے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی‘‘

’’نواز شریف نے دہلی جاکر ملک کی خودداری کا سودا کیا‘‘

’’مودی نے پاکستان کے وزیر اعظم کو خاص طور پر نہیں سارک ممالک کو مدعو کیا ہے‘‘

’’مودی کبھی مسلمانوں کے حامی نہیں ہوسکتے‘‘

’’مودی کی حلف برداری کی تقریب میں حامد کرزئی کی پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی‘‘

یہ ساری وہ خبریں یا خیالات ہیں جو نریندر مودی کے دعوت نامے کے بعد سے شروع ہوئے اور نواز شریف کے دہلی جانے تک جاری رہے اور اب مزید تیزی کا رجحان پایا جاتا ہے کیونکہ وزیر اعظم صاحب نے جس بات کا حوالہ دے کر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات سے جو انکار کیا ہے اس پر اعتراض کیا جا رہا ہے ،دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی سے کسی کو انکار نہیں ہے ،خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے دو طرفہ تعلقات کی بحالی ضروری ہے مگر یکطرفہ طور پر نہیں کہ صرف ہم ہی دوستی کی چاہ کر رہے ہیں اور فریق ثانی کو پرواہ ہی نہیں کیونکہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ہر وقت پاکستان کو نقصان پہچانے کی کوششوں میں ہی لگا رہتا ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف کیا کیا زہر نہیں اگلا، بھارت روز اول سے ہی پاکستان کی سالمیت کا دشمن ہے بنگلہ دیش بننے کے بعد اندرا گاندھی کا یہ کہنا کہ آج ہم نے ہزار سالہ پرانا بدلہ لے لیا اس بات کا غماز ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ایک علیحدہ آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا بلکہ بھارتی لیڈر اور عوام اس کو ابھی تک اپنا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں اور اسی لیے بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل ریشہ دوانیاں کر رہا ہے۔

ہم ہر وقت امن کی خواہش کے گیت گاتے رہتے ہیں اور بھارت طبل جنگ بجاتا رہتا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے ثقافت کے نام پر بھی پاکستانی چینلز کو دکھانے کی اجازت نہیں دی ہے ہمارے ہاں مگر معاملہ برعکس ہے ہم وعدے تو حب الوطنی کے کرتے ہیں ہم زندہ قوم ہیں نعرے بھی لگاتے ہیں مگر بھارتی فلمیں، ڈرامے دیکھے بغیر ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ 75 فی صد بھارتی ہندو عوام بھی پاکستانی عوام سے نفرت کرتے ہیں اور بھارتی لیڈر اس نفرت کو ختم کرنے کی بجائے نفرت انگیز تقاریر کرکے ان جذبات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

نریندر مودی یہ الیکشن پاکستان مخالف پروپیگنڈہ اور بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کی وجہ سے جیتا جس پر انھیں کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے ۔ بھارت سے دوستی کی بات والوں کو اس بات پر بھی توجہ دینا ہوگی کہ کس طرح بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف پڑا رہا اور نریندر مودی نے وزیر اعظم کو 5 نکاتی ایجنڈہ یا فرمائشی پروگرام تھمادیا مگر ہم تو پانی کے ایشو پر بھی ان کے آگے اپنا مدعا نہ رکھ سکے ۔بھارت پاکستان کو صحرا بنانے پر تلا بیٹھا ہے مگر ہم بھارت کی ریشہ دوانیوں کو عالمی میڈیا کے سامنے نہیں لا رہے۔ سندھ طاس معاہدے کی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے مگر ہمارے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگ رہی جب کہ بھارت کوئی موقع ضایع نہیں کرتا کسی بھی مرحلے پر پاکستان کو نیچا دکھانے کے جنگی جنون میں مبتلا بھارت لائن آف کنٹرول پر گاہے بہ گاہے بلا اشتعال فائرنگ کرتا رہتا ہے۔

متعدد بار قیمتی جانیں ضایع ہوچکی ہیں مگر ہمارے ہاں وہی پرانا راگ بج بج کر گھس گیا ہے مگر ہم بجائے جا رہے ہیں۔ ہمارے حکمران اس طرف توجہ دینے کے بجائے کہہ رہے ہیں کہ سرمایہ دار سرمایہ کاری کریں تجارتی روابط بڑھائیں۔اس وقت آلو کی قیمت 60 سے 80 تک جا پہنچی، ٹماٹر پیاز عوام کے لیے مہنگے ہو رہے ہیں کیونکہ اس کی کھپت بھارت کو جو فراہم کی جا رہی ہے۔ تجارتی روابط بھی بڑھیں دوستانہ ماحول بھی ہو مگر برابری کے ساتھ اس لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر قسم کے تصفیہ طلب مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ سب اچھا ہونے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اپنا موقف دنیا کے سامنے واضح انداز میں پیش کرنا پڑتا ہے۔

اس وقت پاکستان کو موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے کیونکہ بھارت اور افغانستان میں جس طرح پاکستان مخالف حکومتوں کا قیام عمل میں آیا ہے ایسا نہ ہو اگر ہم اسی طرح کا طرز عمل اپناتے رہے تو خدانخواستہ پاکستان ان دونوں ممالک کے درمیان سینڈوچ نہ بن جائے اس لیے ہمیں چاہیے کہ پاکستان کو پرامن بنانے کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے عزائم کو سمجھا جائے ، ہر ہاتھ ملانے والا دوست نہیں ہوتا، اس لیے خود سے دشمنوں کے خلاف پیش قدمی نہ کریں مگر کوئی ہمیں ختم کرنا چاہے تو اپنا طرز عمل ایسا رکھیں کہ دشمن کو منہ کی کھانا پڑے۔

کل کے اخبار میں ایک خبر پڑھ کر دھچکا سا لگا کہ بھارتی انتہا پسندوں نے فجر کی اذان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ایسی صورت حال میں ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ بھارتی حکومت مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان کے ساتھ دوستانہ روابط رکھے گی ان کا تو کام ہی ہے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔کسی کو یقین نہ آئے تو وہ نریندر مودی کی تازہ بیان بازی پر غور فرمائیں جس میں انھوں نے دعوی کیا ہے کہ دنیا سے منوائیں گے بھارت سب سے بڑی طاقت ہے، کیونکہ اپنی طاقت کا احساس دلا کر ہی دنیا میں بھارت کو اس کا جائز مقام دلایا جاسکتا ہے۔ع

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔