الیکشن 2018ء میں بھی نتائج تاخیر سے مرتب ہوئے تھے، نگراں وزیراعظم

ویب ڈیسک  پير 12 فروری 2024
الیکشن ختم ہونے کے فوری بعد ہی میڈیا پر تاثر پھیلا دیا گیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوگئی، انوارالحق کاکڑ

الیکشن ختم ہونے کے فوری بعد ہی میڈیا پر تاثر پھیلا دیا گیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوگئی، انوارالحق کاکڑ

 اسلام آباد: نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں، الیکشن 2018ء میں نتائج 66 گھنٹوں میں مرتب ہوئے تھے اس بار 36 گھنٹوں میں مکمل ہوگئے، یہاں تو صرف چند گھنٹوں بعد ہی کہہ دیا گیا کہ نتائج تبدیل ہوگئے۔

نگران وزیراعظم نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چیلنجزکےباوجودجمہوری تسلسل خوش آئندہے، انتخابات کےکامیاب انعقادپرسیکیورٹی اداروں نےاہم کرداراداکیا، پاکستان اب بھی دہشت گردی کاسامناکررہاہے، دہشتگردی کےخطرات کےباوجودپرامن انتخابات کاانعقادہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کی رپورٹس کی بنیاد پر الیکشن والے دن موبائل فون سروس بند کی گئی تھی لیکن انٹرنیٹ نہیں بند کیا گیا۔ پورے ملک میں براڈ بینڈ سروس کام کرتی رہی۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میڈیا نے انتخابی نتائج نشر کرنے میں کچھ زیادہ جلد بازی کی، ترقی یافتہ ممالک میں ووٹوں کی گنتی میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں، 2018 میں الیکشن کے نتائج 66 گھنٹوں میں مرتب ہوئے تھے، ہمارے یہاں 2024 میں الیکشن کے نتائج 36 گھنٹوں میں مکمل ہوئے، یہاں تو صرف چند گھنٹوں بعد ہی کہہ دیا گیا کہ نتائج تبدیل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہیں الیکشن کے نتائج میں بے قاعدگی ہوئی ہو، میں اس کا انکار نہیں کررہا، اس کےلیے متعلقہ فورم موجود ہے، الیکشن نتائج کی ایک ڈور ہوتی ہے، الیکشن نتائج میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن ختم ہونے کے فوری بعد ہی سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ تاثر پھیلا دیا گیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوگئی اور نتائج بدل دیے گئے اور ملک میں انقلاب کو روک لیا گیا، کہا جاتا تھا پاکستان ڈھاکا بن جائے گا، ایسی بات سوچی بھی نہیں جا سکتی کہ پاکستان ڈھاکا بن جائیگا۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ پُرامن احتجاج سیاسی کارکنوں کا حق ہے، کوئی حکومت انار کی اجازت نہیں دیتی، نہ ہم دیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔