سب سے پہلے سیاسی استحکام

ذوالفقار احمد چیمہ  بدھ 21 فروری 2024
zulfiqarcheema55@gmail.com

[email protected]

کسی ملک کا آئین قوم کی اجتماعی دانش کا مظہر اور سیاسی استحکام کا ضامن ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں استحکام تب آئے گا جب کتاب آئین کی تحریر پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوگا۔

مجھے پی ٹی آئی کے چیئرمین کی بہت سی باتیں ناپسند ہیں، میں ان کی پالیسیوں اور طرزِسیاست پر سخت تنقید کرتا ہوں مگر مجھے ناانصافی بھی سخت ناپسند ہے ۔

میں کسی قسم کی ناانصافی یا دھاندلی کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔ اس حقیقت کو کون جھٹلاسکتا ہے کہ جس طرح 2018میں مسلم لیگ ن کو انتخابی مہم چلانے کے لیے مساوی مواقعے نہیں ملے تھے اور اس کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہوا تھا، اسی طرح 2024 میں پی ٹی آئی کو کھل کر انتخابی مہم چلانے کے مواقع نہیں ملے۔ ان کے لیڈروں اور ورکروں کی گرفتاریاں اور ان کے ساتھ بلاجواز سختیاں ہوتی رہیں اور انھیں جلسے کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

پولیس اور انتظامیہ کے (نیچے سے لے کر اوپر تک) تمام افسروں نے بے ضمیری کا مظاہرہ کیا اور غیر قانونی ہدایات پر عمل کرتے رہے، اس طرح انھوں نے اپنے اداروں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کردی۔

غیر قانونی گرفتاریوں، بلاجواز سختیوں اور بے وقت سزاؤں نے پی ٹی آئی کو مظلوم بنادیا اور اس کے حق میں ہمدردی کی لہر چلی۔ نوجوانوں نے شدید غصے کا اظہار کیا اور پی ٹی آئی سب پارٹیوں سے زیادہ نشستیں جیت گئی۔ عوام کا فیصلہ (چاہے غلط ہو یا نا پسند) ہر صورت تسلیم کیا جانا چاہیے، لہٰذا پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہیے، اسے حکومت کا حصہ بنائے بغیر سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔

کسی سیاسی پارٹی کو اس کے انتخابی نشان سے محروم کرنا صریحاً ناانصافی ہے۔ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن کی خامیوں کو جواز بنا کر انھیں انتخابی نشان سے محروم کیا تھا جو بادی النظر میں ایک غیر منصفانہ فیصلہ لگتا ہے، کون نہیں جانتا کہ تمام بڑی پارٹیوںکے الیکشن اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

کسی دوسری پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو اتنی سختی سے نہیں پرکھا گیا اور صرف ایک پارٹی کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کی گئی۔خیال تھا کہ ایک سیاسی پارٹی کو اس کے انتخابی نشان سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا، مگرسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مایوسی ہوئی۔

سیاسی استحکام کا ضامن صرف رُول آف لاء ہے اور معاشی استحکام سیاسی استحکام کے بغیر ناممکن ہے، اگر ہم ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام چاہتے ہیں تو پھر تمام افراد اور اداروں کو ملک کے سب سے بڑے اور مقدس قانون یعنی آئین کے آگے سرجھکانا ہوگا۔ اگر ہم اپنی اناؤں کو پالتے رہے اور ذاتی اور ادارہ جاتی مفادات کے اسیر رہے تو پھر اس ملک میں نہ سیاسی استحکام آئے گا اور نہ معاشی استحکام۔

ڈالر کی اڑان، روپے کی بے توقیری اور خودکشیوں پر مجبور کرنے والی مہنگائی اگرچہ عمران خان کے دور میں شروع ہوئی تھی مگر پی ڈی ایم کی حکومت میں اس پر کنٹرول نہ کیا جاسکا بلکہ ڈالر کی قدر اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا جس نے ایک آدم خور دیو بن کر مسلم لیگ نون کی مقبولیت کو نگل لیا، نتیجہ یہ نکلا کہ تین بار بہت بڑی اکثریت سے جیت کر وزیراعظم بننے والا مقبول رہنما اپنا قلعہ نہ بچاسکا۔ میری اطلاعات کے مطابق میاں نوازشریف نے عوام کا موڈ دیکھتے ہی کہہ دیا تھا کہ ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے۔

اب بھی وہ اپنے سیاسی سرمائے اور اپنی پارٹی کا ہر قیمت پر تحفّظ کریں اور اپنی پارٹی کو کسی بھی صورت اسلام آباد کی حکومت کا حصہ بننے کی اجازت نہ دیں اور اپوزیشن میں بیٹھ کر اپنا سیاسی اور پارلیمانی کردار ادا کریں۔

میری ان باتوں سے کچھ دوست اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان خود بھی تو اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ یہی کرواتا رہا ہے اور یہ کہ اس کے پہلے دور میں کون سی بہتری ہوئی تھی، اب اسے اقتدار ملا تو ملک کو نقصان پہنچے گا۔ یہ درست ہے کہ عمران خان صاحب واحد سیاستدان ہیں جو فوج کو غیر سیاسی یا نیوٹرل نہیں دیکھنا چاہتے، وہ ایسی فوج چاہتے ہیں جو سیاست میں حصہ لے کر ان کی مدد کرتی رہے اور آج اگر وہ نوازشریف یا زرداری کی جگہ ہوتے تو اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور ان کی پارٹی کے لیے نتائج میں ردوبدل کا دفاع کررہے ہوتے لیکن ان کی خامیوں یا غیر جمہوری سوچ کو جواز بنا کر ان کی پارٹی کو اس کے حق سے محروم کیا جائے اور اس کے لیے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کیے جائیں، تو یہ غلط، نامناسب اور ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

کمشنر پنڈی کا ’’ضمیر‘‘

دو روز پہلے راولپنڈی کے کمشنر لیاقت چٹھہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں ’’ہم نے نتائج میں ردوبدل کیا ہے اور ہارنے والے امیدواروں کو جتوانے کا جرم کیا ہے۔ لہٰذا مجھے کچہری چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے۔‘‘ اپنے اعترافِ جرم کے ساتھ اس نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان آف پاکستان پر بھی الزام لگایا ہے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس پریس کانفرنس کو تہلکہ خیز انکشافات قرار دیا ہے۔

میں نے اس کی باتیں غور سے سنیں تو مجھے اس میں انکشافات نہیں بلکہ الزامات اور اعترافات ہی نظر آئے۔ بہت سے لوگوں نے مجھ سے اس پریس کانفرنس کے بارے میں رائے مانگی، میں نے سب سے پہلے نائب تحصیل دار سے کمشنر بننے والے اس افسر کے بہت سے کولیگز سے اس کی شہرت کے بارے میں پوچھا۔ کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ اچھی شہرت کا حامل یا دیانتدار افسر تھا۔

سب نے اسے کرپٹ ، دنیادار اور نوکری باز قرار دیا ہے جو پرویز الٰہی کا بھی منظورنظر رہا، حمزہ شہباز کے بھی قریب رہا اور پھر عثمان بزدار نے اسے اپنی ڈویژن میں لگوالیا اور سب جانتے ہیں کہ بزدار کیسے افسروں کو اپنے ضلع یا ڈویژن میں لگواتا تھا۔ اینٹی کرپشن کے اداروں کے ذمے داران کے بقول اس کے والد کی بارہ ایکڑ اراضی تھی جب کہ یہ اب اربوں روپے کے اثاثوں کا مالک ہے اور اس کے خلاف گیارہ انکوائریاں چل رہی ہیں، مگر ان حقائق باوجود اس کی باتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا ضمیر بڑا کھچرا ہے جو 8فروری کو دھاندلی کی چادر اوڑھ کر سویا رہا، اور اس کے بعد بھی ایک ہفتہ آرام کرتا رہا اور جب اس نے دیکھا کہ ایک پارٹی کو بہت ووٹ پڑ گئے ہیں اور شاید ان کی حکومت بن جائے تو ریٹائرمنٹ کے چند روز قبل اور امریکی ویزہ لینے کے بعد اچانک جاگ اُٹھا۔ جن روشن ضمیر افسروں کا ضمیر زندہ ہو وہ نہ صرف خود کسی جرم میں ملوث نہیں ہوتے ہیں بلکہ اگر ان کے ضلع یا ڈویژن میں ایسا جرم یا دھاندلی ہونے لگے تو اس کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور دھاندلی کی کوششوں کو ناکام بنادیتے ہیں۔

اس سلسلے میں بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر 2010 میں گوجرانوالہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن کا ذکر کیا جب راقم وہاں کا پولیس چیف تھا۔ الیکشن میں دباؤ کے باوجود پولیس کو غیر جانبدار رکھا گیا اور دھاندلی کی کوششوں کو ناکام بنادیا گیا جس کے نتیجے میں حکومتی پارٹی ہار گئی۔

کمشنر براہِ راست الیکشن کے عمل میں ملوث نہیں ہوتا مگر سب کچھ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ اس لیے چٹھہ اگر یہ کہتا کہ پنڈی ڈویژن کے سارے ڈپٹی کمشنروں نے نتائج میں ردوبدل کیا ہے اور یہ سب کچھ میری نظروں کے سامنے ہوتا رہا اور میں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس جرم کو facilitate  کیا، لہٰذا میں اور میری ڈویژن کے تمام ڈی سی اور اے سی اور پولیس افسران مجرم ہیں اور سزا کے حقدار ہیں تو اس کی بات میں یقیناً وزن ہوتا لیکن اس کے دو فقروں نے اس کی نیت اور منصوبے کو بے نقاب کردیا۔

ایک طرف تو پی ٹی آئی جنھیں ذمے دار قرار دے رہی ہے چٹھے نے انھیں کلین چٹ دے دی، دوسری طرف اپنے آراوز وغیرہ کے نام لینے کے بجائے اس نے براہِ راست چیف جسٹس آف پاکستان (جن کا الیکشن یا گنتی کے عمل سے کوئی لینا دینا نہیں تھا) کو ملوث کرنے کی کوشش کی تو فوراً پتہ چل گیا کہ وہ دراصل چیف جسٹس فائز عیسیٰ کو scandalise  کرکےdiscredit  کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

اس کے قریبی ذرایع کے مطابق وہ چیف جسٹس کو بدنام کرکے پی ٹی آئی کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ آیندہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑسکے۔ مگر میرا خیال ہے کہ وہ شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے miscalculation کے باعث جلدی میں پریس کانفرنس کر بیٹھا اور پکڑا گیا۔

اگر وہ ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتا اور باہر جاکر ایسے الزامات لگاتا تو پھر اس کا ڈرامہ کچھ دیر چلتا رہتا۔ اگر چہ لیاقت چٹھے کی گواہی مشکوک اور پریس کانفرنسsponsored  تھی مگر ملک کے مختلف حصوں میں امیدوار فارم 45  اٹھا کر احتجاج کررہے ہیں۔ ان کی پکار سنی جانی چاہیے۔

چیف جسٹس صاحب، سپریم کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن بنادیں جو حقائق معلوم کرکے انصاف کے مطابق فیصلہ کردے۔ اس کے بغیر نہ تو ملک کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی سیاسی ابتری ختم ہوگی اور نہ ہی سیاسی استحکام حاصل ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔