بلوچ طلبہ بازیابی کیس، تین حساس اداروں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی قائم

ویب ڈیسک  بدھ 21 فروری 2024
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کو بھی اگلی سماعت میں طلب کرلیا—فائل: فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کو بھی اگلی سماعت میں طلب کرلیا—فائل: فوٹو

 اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتا بلوچ طلبہ کی بازیابی کے کیس میں تین حساس اداروں کے ڈائریکٹر جنرلز (ڈی جیز) پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتا بلوچ طلبہ کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی اور آخری سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ڈی جی انٹرسروسز انٹیلی جینس (آئی ایس آئی)، ڈی جی ملٹری انٹیلی جینس (ایم آئی) اور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) پر مشتمل کمیٹی ہوگی۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے حکم دیا کہ ڈی جی آئی بی کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے اور اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی کمیٹی کی معاونت کریں گے۔

عدالت نے کہا کہ کمیٹی گمشدہ افراد سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی، لاپتا بلوچ طلبہ اور نئے لاپتا ہونے والوں کے حوالے سے رپورٹ آئندہ سماعت سے پہلے پیش کرے گی۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ کمیٹی متعلقہ ضلع اور ڈویژن کے سیکٹر کمانڈر سے معلومات لے کر سربمہر لفافے میں رپورٹ پیش کرے گی اور جبری گمشدگی میں ملوث ماتحت عہدیداروں کے خلاف کارروائی کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نگران وزیراعظم، داخلہ اور دفاع کے وفاقی وزرا اور سیکریٹریز کو بھی اگلی سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔