پیکر وفا مخدوم محی الدین

ڈاکٹر ناصر مستحسن  اتوار 8 جون 2014

ابو سعید مخدوم محی الدین حذری، یعنی مخدوم محی الدین 4 فروری 1908 کو حیدرآباد دکن کے ضلع میدک Medak کے قصبے منمول میں پیدا ہوئے تھے اور 25 اگست 1969 کو احاطہ درگاہ حضرت شاہ خاموش شہر حیدر آباد میں مدفون ہوئے، یعنی صرف 61 سال کی زندگی پا کر اردو ادب کو مالا مال کردیا، لیکن اپنے دوستوں کو کف افسوس ملتے ہوئے چھوڑ گئے، مخدوم کا گھریلو ماحول مذہبی تھا۔

پابندی سے نماز پنجگانہ ادا کرنے کے ساتھ نمازیوں کے لیے وضو کا پانی بھرنا اور مسجد میں جاروب کشی مخدوم کے فرائض میں شامل تھا اور یہی پھر بعد میں انھوں نے انسان دشمن قوتوں کے خلاف بھی کیا یعنی ان کے کیے ہوئے ہر کام پر جاروب کشی کی، والد کے انتقال کے بعد ان کے چچا نے ان کی پرورش کی لہٰذا فطری طور پر وہ اپنے چچا سے بے حد متاثر تھے۔ چچا کی زندگی نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ مخدوم کی شاعری 1933 کے اوائل سے شروع ہوکر 1969 یعنی ان کی وفات تک جاری رہی، یعنی صرف 25 سال کی عمر میں انھوں نے باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز کیا یا ہوسکتا ہے اس سے پہلے ہی کردیا ہو، چچا بھی کوئی جاگیردار یا سرمایہ دار نہیں تھے جو تھا جیسا تھا اسی میں گزارا کرنا تھا۔ نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک محنتی انسان تھے ظاہر ہے کہ محنتی انسان کے پاس سوائے اس کی عزت نفس کے اور کون سی دولت ہوسکتی ہے۔

یہی دولت وہ مخدوم کو دے سکتے تھے ۔ یہ سب محرکات مخدوم کی ذات کا حصہ بن گئے ایسے میں یہی ان کی شرافت اور حلیم طبیعت کی نشانی ہے کہ وہ پریشانیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود لوگوں سے ہنس کر ملتے انھوں نے جو طبقاتی تضادات دیکھے جس نے بلاشبہ، ان کا ذوق مطالعہ بھی بڑھایا ہوگا اور مشاہدات بھی بڑھے ہوں گے اور دیکھیے کس طرح اپنی محرومیوں اور مایوسیوں کے اثرات کو انھوں نے اپنی چلبلی طبیعت، لطیفہ گوئی، بذلہ سنجی اور انجمن آرائیوں سے زائل کیا، مخدوم محی الدین ترقی پسند شعرا میں ایک اہم حیثیت کے مالک ہیں۔

ان کی نظموں میں ’باغی، ’زلف چلیپا، مشرق، موت کا گیت، آزادی وطن، جہان نو، حویلی، سپاہی، انقلاب، اندھیرا،جنگ آزادی، ستارے، بنگال اور دوسرے مجموعے گل تر کی نظمیں ماسکو، چاند تاروں کا بن ، احساس کی رات، وادی فردا کو اگر پڑھیں تو ان کے لہجے کی تلخی کے ساتھ ساتھ، تجربے کا زہریلا پن، حقائق سے نبرد آزما ہونے کی کوشش اور طرز اظہار میں تیزی ملے گی، ان کی نظموں میں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ فرسودہ و بے جان، اور کیف و سرور اردو شاعری میں کیسی دل آویز اور خوبصورت تبدیلی رونما ہوئی۔ عروض وقواعد اور زبان کی شرطوں کیمطابق مخدوم کوئی بڑے شاعری نہیں، استادوں کی محفل میں ان کے کلام کی خامیوں پر استادوں کی تکبر آمیز تنقید ہم نے کئی بار سنی ہے۔

ان کے خیالات سے تو اختلاف کی صورت نکالی جاسکتی ہے لیکن مخدوم کی شاعری کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا کوئی بھی مصرعہ آزاد ہے۔ عزیز احمد نے صحیح کہا تھا کہ اغلاط کے باوجود یعنی زبان، محاورے اور اوزان کے اغلاط کے باوجود مخدوم کی شاعری میں جاذبیت اور دلکشی پائی جاتی ہے۔ پڑھنے والے کو اس سطح تک لے آتی ہے کہ جب قاری آنکھیں بند کرکے ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے تخیل کے ساتھ محو سفر ہوتا ہے تو وہ، وہ مناظر بھی دیکھ لیتا ہے جو خود شاعر نے دیکھے ہوتے ہیں، ایسے میں کون شاعری کی اغلاط ڈھونڈتا ہے، اغلاط کس شاعر کے یہاں نہیں ہیں، اگر ایسا ہی ہو تو پھر فیض، راشد، اقبال، غالب سب پر حد بندیاں لگنی چاہئیں۔

مخدوم کے یہاں ان کا حسن اخلاق، ان کے حسن کلام پر حاوی نظر آتا ہے۔ ۔جنون ادب بعض اوقات عروض کی تمام تر پابندیوں کو ٹھکراتا ہوا گزر جاتا ہے، انسان پر اپنے خارجی ماحول اور اپنے گردوپیش، اپنے عصر اور اپنے زمانے کا اثر ہوتا ہے، شاعر کا کام ہی تخیل کو گرفت میں لینا ہے۔ خارجی و داخلی کیفیات اس کو مہمیز دیتی ہیں۔ عرصہ دراز سے جو ادب تخلیق ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے بارہا یہ احساس ہوا کہ جیسے پس پردہ ہم کو (قاری اور عوام) یہ نہیں بتایا جا رہا کہ روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے یا اس تصور کو قائم کرنے کے لیے جس کو غلامی کی لعنتوں سے اعلان بغاوت کرنا ہوگا یا سماج کی فرسودہ روایات کے درخت کو جڑ سمیت اکھاڑ دینا ہوگا اس کے بعد ایک روشن سویرا نمودار ہوگا۔ یہ مثلث کی طرح ہے اور اسی زاویے کی وکالت بھی زوروں پر ہے روایتی قدروں سے ہٹ کر سماج کی بوگس روایات پر ضرب کاری نہیں ہو رہی ہے یہاں پسی ہوئی عوام کو کھلی فضا میں سانس لینے تک کی آزادی نہیں، سوچ پر قدغن لگے ہوئے ہیں، آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے، محلاتی سازشیں ایک دیو کا روپ دھارن کیے ہوئے ہیں۔

ترقی پسند سوچ یا ترقی پسند شاعری اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ معاشرے میں رائج غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویوں کے خلاف صف آرا ہوکر صدائے احتجاج بلند کرے (ناکہ شاہ کا مصائب بنے)جب جب سرکار نے اپنی مشنری ایسی قوتوں کے خلاف بے دریغ استعمال کیں جو بقائے انسانی کے لیے صعوبتوں کو بھی بھلائے بیٹھے تھے جہاں چند سر پھرے اپنے ہاتھوں میں انسانیت کا علم لیے اونچے محلات سے ٹکرا جاتے تھے ۔ بقول مخدوم:

جس جگہ کٹتا ہو سر انصاف کا ایمان کا‘ روز و شب
زیست کو درس اجل دیتی ہے جس کی بارگاہ‘ قہقہہ
نیلام ہوتا ہے جہاں انسان کا
بن کر نکلتی ہے جہاں ہر ایک آہ

یہ احتجاج کے سوا اور کیا ہے زندگی کی مکروہ صورتوں کو، استحصالی قوتوں کو بے نقاب کرتی ہے۔

کوڑے کے دھبے چھپا سکتا نہیں ملبوس دیں
بھوک کے شعلے بجھا سکتا نہیں روح الامیں

انسان دوستی کے لیے غم و غصہ یہاں انسانیت کا پرچارکیا جا رہا ہے، فریاد بھی کی جاتی ہے جب اپنے بازوؤں پر اعتماد نہ ہو اس کی شعریات اور احتجاج کی شعریات دو مختلف باتیں ہیں۔ ترقی پسند شاعر کا یہ کام نہیں کہ وہ زمانے کو آگ لگاتا پھرے یا کشت و خون کے بازار گرم کرتا پھرے بلکہ امید و یاس کی شمعیں روشن کی جائیں اور عوام کو اندھیری کالی رات کے بطن سے ایک نئے سویرے کی نوید بھی سنائی جائے تاکہ راہ انقلاب سامنے آجائے۔

حیات لے کے چلو، کائنات لے کر چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

سینہ تان کر چلنے کی جو تصویر پیش کی گئی ہے اس میں سارے زمانے کو ساتھ لے کر چلنے کی ٹھانی ہے کیونکہ صدیوں سے جھوٹی روایات کے بیچ رہ کر انسان کمزور ہوگیا ہے، پورا فلسفہ انسانیت اس خیال کے پرتو اجلا اجلا سا لگتا ہے۔

ان کی نظم ’’سرخ سویرا‘‘ سے غالباً یہ سمجھا گیا کہ اس میں کمیونزم کا منظوم منشور ہوگا، سرمایہ داروں کے خلاف سخت لفظوں میں مذمت و تنقید ہوگی، بغاوتیں، ہڑتالیں اور جلسے جلوسوں کی ترغیب ہوگی مگر مخدوم پیکر وفا و خلوص رہے۔ یہی ان کی شاعری کا خاصہ بھی ہے مخدوم کا عشق و محبت کا فلسفہ جوش صاحب کے عشق و محبت کے فلسفے سے مختلف ہے، مخدوم کے یہاں عشق اپنی پوری حسیات کے ساتھ براجمان ہے، مٹی سے، دھرتی سے، ملک سے عشق، انسانوں سے اور سارے جہاں سے عشق، دوامیت، آفاقیت اور ارضیت ہی ان کے یہاں عشق کے عناصر ہیں جو پوری گھن گرج کے ساتھ ہم کو نظر آتے ہیں۔

عشق انسانیت کی اعلیٰ ترین قدر ہے وہ تلازمہ خیال اور امیجنری (Imaginary) کو کمال فن کے ساتھ لفظی پیکر دینے میں ملکہ رکھتے ہیں۔ فیض صاحب کی شاعری جہاں اپنے اندر وہ سوزوگداز رکھتی ہے اسلوب کا وہ رنگ و حسن جو فیض کے یہاں پایا جاتا ہے وہ مخدوم کی شاعری میں نہیں ملتا۔ مخدوم اپنے خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈنے کے لیے کہیں دور چلے گئے بلکہ فیض نے خواب دیکھے اور زمین سے جڑے رہے۔ فیض نے ہتھیارچھوڑ کر قلم اٹھالیا تو مخدوم نے قلم چھوڑ کر ہتھیاراٹھالیا۔

ہمیں سے اپنی نوا‘ ہم کلام ہوتی رہی
یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی

تیغ اپنے لہو میں نیام ہونا، لب اظہار پر جبر کا کیا نیا استعارہ ہے، لیکن دو شعراء مخدوم اور فیض کی شاعری میں جو بات محسوس کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں کی شاعری میں احساس زیاں نمایاں ہے دونوں نے اپنے اپنے ملک میں، ملک کے لیے ایک خواب دیکھا اور دونوں ہی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

اس گل اندام کی چاہت میں بھی کیا کیا نہ ہوا
درد پیدا ہوا‘ درماں کوئی پیدا نہ ہوا
(مخدوم)
بہت ملا نہ ملا زندگی سے غم کیا ہے
متاع درد بہم ہے تو پیش و کم کیا ہے
(فیض)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔