ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی توہین عدالت بل مستردکردیا

ایکسپریس اردو  بدھ 11 جولائ 2012
بل بنیادی انسانی حقوق سمیت آئین کے آرٹیکل 2-A کی صریحاً خلاف ورزی ہے

بل بنیادی انسانی حقوق سمیت آئین کے آرٹیکل 2-A کی صریحاً خلاف ورزی ہے

کراچی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پارلیمنٹ کے پاس کردہ توہین عدالت بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل بنیادی انسانی حقوق سمیت آئین کے آرٹیکل 2-A کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اعلامیے کے مطابق چیئرمین سہیل مظفر ایڈووکیٹ،ٹرسٹیز جسٹس (ر) ڈاکٹر غوث محمد، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید، سابق چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سید عادل گیلانی نے بل کے ڈرافٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ارکان اسمبلی کی جانب سے پاس کردہ قانون بدترہے،جس کوبدنیتی سے پاس کرکے بنیادی انسانی حقوق اور آرٹیکل 2-A کی خلاف ورزی کی گئی ہے،

انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا پاس کردہ بل آئین کے آرٹیکل 25 کی بھی نفی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام افراد کے حقوق یکساں ہوں گے، انھوں نے کہا کہ یہ قانون ملکی مفاد کے خلاف ہے جس کو بدنیتی سے اس وقت پاس کیا گیا جب ایک وزیر اعظم اس قانون کا مرتکب قراردیا جاچکا ہے جبکہ بعض وزراء اسی قانون کی خلاف ورزی کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہوئے عدلیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔