کراچی مییں سفید کرولا گینگ پھرمتحرک، عمرے سے واپس آئی فیملی گھر کی دہلیز پر لٹ گئی

منور خان  پير 26 فروری 2024
واقعہ چند روز قبل  گلشن اقبال بلاک 8 بنگلہ نمبر بی 82 کی رہائشی فیملی کے ساتھ پیش آیا تھا، پولیس (فوٹو: اسکرین گریب)

واقعہ چند روز قبل گلشن اقبال بلاک 8 بنگلہ نمبر بی 82 کی رہائشی فیملی کے ساتھ پیش آیا تھا، پولیس (فوٹو: اسکرین گریب)

  کراچی: سفید کرولا گینگ شہر میں پھر متحرک ہوگیا، گلشن اقبال میں عمرے کی آدائیگی کے بعد گھر پہنچنے والی فیملی کو گھر کی دہلیر پر لوٹ لیا ، واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

گلشن اقبال میں بیرون ملک سے آنے والے شہریوں سے لوٹ مار کرنے والا سفید  کرولا کار گینگ دہشت کی علامت بن گیا ، گینگ میں شامل ڈاکوؤں نے گلشن اقبال میں عمرے کی ادائیگی کے بعد گھر پہنچنے والی فیملی کو گھر کی دہلیر پر لوٹ لیا اور موقع سے بہ آسانی فرار ہوگئے۔

واردات کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گلی میں کھڑی سرخ رنگ کی کار سے بیگوں کو نکال کر گھر میں لے جایا جا رہا تھا کہ اس دوران فیملی کے دیگر افراد جو  سلور رنگ کی کار میں سوار تھے وہ بھی گھر پہنچتے ہیں۔

اسی اثنا میں ان کے تعاقب میں آنے والی سفید رنگ کی کار بھی آکر رکتی ہے اور اس میں سے مسلح ڈاکو انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ سلور کار میں سوار افراد سے لوٹ مار کرتے ہیں بلکہ کار سے 2 بیگ بھی نکال کر اپنی سفید کار میں ڈال کر فرار ہو جاتے ہیں۔

واردات کے دوران ڈاکوؤں کا ساتھی جو گاڑی چلا رہا تھا انتہائی مہارت کے ساتھ گاڑی کا رخ موڑ کر مخالف سمت کی جانب کرلیتا ہے جس کے بعد اس کے دیگر 3 ساتھی گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوجاتے ہیں۔

اس حوالے حوالے سے ایس ایچ او عزیز بھٹی قربان علی نے بتایا کہ واقعہ چند روز قبل صبح کے وقت گلشن اقبال بلاک 8 بنگلہ نمبر بی 82 کی رہائشی فیملی کے ساتھ پیش آیا تھا جو عمرے کی ادائیگی کے بعد گھر پہنچے تھے جبکہ چھینے جانے والے سامان میں 6 پاسپورٹ اور ایک شناختی کارڈ کے علاوہ کپڑے اور دیگر سامان شامل تھا۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ  متاثرہ افراد نے واقعے کے حوالے سے تھانے میں تحریری درخواست جمع کرا دی ہے مگر وہ مقدمہ درج کرانے سے گریز کر رہے ہیں تاہم پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ڈاکوؤں کا سراغ لگانے کی کوششیں کر رہی ہے جنھیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔