مخلوط حکومتوں کا سیاسی تجربہ

سلمان عابد  منگل 27 فروری 2024
salmanabidpk@gmail.com

[email protected]

پاکستان کو اپنے سیاسی ، سماجی اور معاشی نظام کی بقا کے لیے ایک مضبوط حکومت کی ضرورت ہے ۔ ایسی مضبوط حکومت جو داخلی اور خارجی چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھے ۔

ہم جن بحرانوں میں گھرے ہوئے ہیں، ان کا حل ایک مضبوط حکومت کی صورت میں ہی نظر آتا ہے ۔لیکن پاکستان جیسے ملک میں مخلوط حکومتیں عموماً کمزور ہی رہتی ہیں اور اہم فیصلے نہیں کرپاتیں۔ غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت بڑھ جاتی ہے اور اس کی بنیاد پر سیاسی استحکام ممکن نہیں ہوسکتا ۔

فروری 2024کے انتخابات کے نتائج سے پہلے ہی یہ بات کئی سیاسی پنڈتوں نے لکھ دی تھی یا اپنا تجزیہ پیش کردیا تھا کہ ہم ان انتخابات کے نتائج کے بعد بھی ایک مخلوط حکومت کے تحت ہی آگے بڑھیں گے کیونکہ یہ بات کافی حد تک وزن رکھتی ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی پولرائزیشن اس حد تک چلی گئی ہے کہ کوئی ایک سیاسی جماعت فیصلہ کن اکثریت حاصل نہیں کرسکتی ۔ پی ٹی آئی کی سابق حکومت بھی مخلوط حکومت تھی، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی وجہ بھی یہی تھی کہ پی ٹی آئی کے پاس عددی طاقت کم تھی۔

پی ڈی ایم تو کئی جماعتوں کا اتحاد تھا، وہ بھی مضبوط حکومت نہیں تھی اور اب ایک پھر مخلوط حکومت بننے جارہی ہے ۔ مسلم لیگ ن وفاق میں حکومت کی قیادت کرتے ہوئے نظر آرہی ہے جب کہ اس کی حمایت میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتیں کھڑی ہوںگی ۔یہ تجربہ کوئی نیا نہیں اس سے قبل بھی ہم مخلوط اور کمزور حکومتوں کے تجربوں سے گزرے ہیں اور ایک بار پھر ہم اسی تجربے کو بنیاد بنا کر نئی حکومت کی تشکیل کو یقینی بنارہے ہیں ۔

پاکستان میں مخلوط حکومت کی کمزوری کی کئی وجوہات ہیں ۔ اول،کوئی بھی جماعت جو مخلوط حکومت میں بڑی جماعت کے ساتھ مل کر اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتی ہے تو اس کی ساری توجہ اختیارات اور بڑے عہدوں تک رسائی ہوتی ہے ۔ چھوٹی جماعتوں یا دوسری بڑی جماعت کو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری مدد کے بغیر یہ حکومت نہیں بن سکتی تو وہ حکومت سازی کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی بلیک میلنگ کی بنیاد پر اپنا حصہ زیادہ سے زیادہ وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

دوئم، جو بھی جماعت حکومت کا حصہ بنتی ہے وہ حکومت کے اچھے کاموں میں تو حصہ دار بنتی ہے مگر جہاں حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے وہاں وہ کھل کر اور واضح طور پر حکومت کے ساتھ خود کو کھڑا کرنے سے گریز نہیں کرتی ۔ اسی طرح جب بھی حکومت پر برا وقت آتا ہے تو یہ ہی اتحادی جماعتیں حکومت کو گرانے میں پس پردہ قوتوں کے کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں ۔

سوئم، جو حکومت کو سیاسی اور معاشی محاذ پر چیلنجز ہوتے ہیں تو اس میں یہ اتحادی جماعتیں تمام تر حکومتی عہدے رکھنے کے باوجود حکومت کی مشکلات میں ذمے داری لینے کے لیے تیار نہیں ہوتیں اور برملا کہتی ہے کہ یہ جو سیاسی اور معاشی بحران ہے اس کے ذمے دار ہم نہیں بلکہ حکومت کے بڑے پارٹنرز یا جن کے پاس وزارت اعظمی ہے وہ ہی اس کے ذمے دار ہیں ۔

چہارم، پاکستان کو مشکلات سے باہر نکالنے کے لیے ہمیں سخت گیر اصلاحات اور بڑے بڑے کڑوے یا سخت فیصلے درکار ہیں مگر ایک کمزور اور مخلوط حکومت سخت فیصلے یا بڑے اقدامات کرنے سے گریز بھی کرتی ہے ۔پنجم، اتحادی جماعتیں وزیر اعظم پر دباؤ ڈال کر زیادہ کی بنیاد پر اختیارات، وزارتیں ، مشیروں کے عہدے ، ترقیاتی پیکیجزسمیت دیگر مراعات چاہتی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمومی طور پر اتحادی جماعتوں کی سیاسی بلیک میلنگ کا شکار ہوتا ہے اور خود اسٹیبلیشمنٹ بھی حکومت پر ان ہی اتحادی جماعتوں کی صورت میں دباؤ ڈال کر حکومت کے ساتھ اپنی مرضی اور شرائط کی بنیاد پر کام کرتی ہے ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کا چیلنج یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ان کی اتحادی جماعت ہے ۔ لیکن پیپلز پارٹی نے ابتداء ہی میں اپنا ایسا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ن کو لگتا ہے کہ یہ گاڑی کیسے آگے بڑھے گی۔

پی ڈی ایم کی پہلے سولہ ماہ کی حکومت میں بھی پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ کی حکومتی مشکلات میں خود کو حصہ دار نہیں بنایا اور آصف زرداری، بلاول بھٹو سمیت نے تمام معاشی مشکلات کا ذمے دار مسلم لیگ ن کو ہی قرار دیا۔ اس لیے اس دفعہ بھی پیپلز پارٹی کا طرزعمل ماضی سے مختلف نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایم کیوایم کی سیاسی تاریخ بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ کبھی اچھی نہیں رہی ۔ جب بھی حکومت پر مشکل وقت آیا تو ایم کیو ایم نے اتحادیوں کو مشکل وقت میں ہی چھوڑا ہے۔

اس لیے مسلم لیگ ن کو خبردار رہنا چاہیے کہ اتحادی اچھے وقتوں کی ساتھی ہیں اور مشکل وقت میں، برا وقت صرف ن لیگ کے لیے ہی ہوگا۔ مسلم لیگ ن کا اپنا طرز عمل اتحادی سیاست کے حوالے سے اچھا نہیں رہا اور اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوئی اچھی مثالیں بھی پیش نہیں کر سکی ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں خود مسلم لیگ ن کا اپنے اتحادیوںکے ساتھ چلنا بڑا چیلنج ہوگا۔

اسی طرح مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہوگا کہ اسے مرکزی حکومت کی کامیابی کے لیے سندھ اور بلوچستان سمیت خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومتوں کی مدد درکار ہوگی۔ لیکن خیبر پختونخوا میں ان کی مخالف پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی اور ان سے ان کا ٹکراؤ کا پیدا ہونا یقینی ہوگا ۔

ادھر سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی اور وہ بھی ملک کی معاشی خرابی کی ذمے دار وفاقی حکومت کو ہی قرار دے گی اور وہ صوبائی کارڈ کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ یہ ساری صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کو چلانا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

ایک طرف اتحادی جماعتوں کی سیاسی بلیک میلنگ اور دوسری طرف پی ٹی آئی کی صورت میں ایک مضبوط اپوزیشن جو پارلیمان کے اندر بھی اور پارلیمان سے باہر بھی حکومت کے لیے روزانہ کی بنیادوں پر نئی نئی مشکلات پیدا کر کے حکومتی نظام کو چلانے میں رکاوٹیں پیدا کرے گی۔

ایک ایسے موقع پر جب ملک داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر سنگین نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے تو ایسے میں ایک کمزور اور مخلوط حکومت کیسے ان مسائل سے نمٹ سکے گی خود ایک بڑا چیلنج ہے اگر ان چیلنجز سے درست طور پر اور سیاسی حکمت عملی کے تحت نہ نمٹا گیا تو اس سے ملک میں پہلے سے موجود بحران ، محاذ آرائی، ٹکراؤ اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کا ماحول بنے گا جو حالات میں اور زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

اس لیے جو لوگ بھی یا فیصلہ ساز کمزور حکومتوں کے ماڈل کے ساتھ حکمرانی کے سیاسی دربار کو سجانا چاہتے ہیں وہ یہ بات جان لیں کہ ماضی میں بھی مخلوط حکومتوں کے طرز کے تجربے ریاستی اور سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے کمزور ثابت ہوئے ہیں۔ اس لیے وقت ہے کہ ہم ماضی کے غلط تجربوں اور غلط سیاسی حکمت عملیوں سے گریز کریں اور وہ کچھ کرنے کی کوشش کریں جو ریاستی ، سیاسی اورمعاشی نظام کو مضبوط بنا سکیں اور یہ ہی اس وقت ریاستی اور حکومتی ترجیح ہونی چاہیے کہ ہم سب کو ساتھ لے کر چل سکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔