بڑھتا درجہ حرارت مچھلیوں کے وزن میں کمی کی وجہ قرار

ویب ڈیسک  جمعرات 29 فروری 2024

ٹوکیو: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے مچھلیوں کے وزن میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو میں کی جانے والی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بڑھتے درجہ حرارت کے سبب گرم ہوتے پانی کے  نتیجے میں سمندر کی سطح پر تیرتے پلینکٹن (مچھلیوں کی خوراک) کا حجم چھوٹا ہوتا جا رہا ہے جس کو کھا کر مچھلیوں کو مطلوبہ غذائیت نہیں مل رہی۔

مطالعے میں محققین نے مچھلیوں کی 13 اقسام کا مجموعی بائیو ماس اور انفرادی وزن کا تجزیہ کیا اور 1978 سے 2018 تک مچھلیوں کے چار خاندانوں کی چھ اقسام کے متعلق حاصل ہونے والے ڈیٹا کو دیکھا۔

تحقیق میں 1982 سے 2014 کے درمیان سمندر کے پانی کے درجہ حرارت کا مطالعہ بھی کیا گیا تاکہ درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلی سے سمندر کی سطح اور اس سے نچلی سطح پر ہونے والے کسی قسم کے اثر کو دیکھا جاسکے۔

جرنل فِش اینڈ فشریز میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج مطابق دو ادوار میں مچھلیوں کے وزن میں کمی دیکھی گئی، ایک 1980 کی دہائی میں جبکہ دوسری 2010 کی دہائی میں۔

ابتداء میں وزن میں کمی در اصل جاپانی سارڈین کی تعداد میں اضافے کے سبب ہونا شروع ہوئی، جس کی وجہ سے دیگر اقسام کے غذا کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ گیا۔

تاہم، مزید تجزیے میں معلوم ہوا کہ موسمیاتی تغیر کے سبب گرم ہوتے سمندروں کے نتیجے میں غذا کے لیے مقابلے میں اضافہ ہوا کیوں کہ ٹھنڈا، اجزء سے بھرپور پانی باآسانی اوپر سطح پر نہیں آپاتا۔

جامعہ کے پروفیسر شِش-اِچی اِٹو کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت کے زیادہ ہونے سے سمندر کی اوپر کی سطح مزید ایک تہہ بناتی ہے اور ماضی کے مطالعے سے بات معلوم ہوئی ہے کہ بڑے پلینکٹن کی جگہ چھوٹے پلینکٹن اور کم غذائیت والی جیلی فش جیسی گیلیٹینیئس قسم نے لے لی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔