پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات؛ اسپیکراور وزیراعظم کیلیے ووٹ مانگ لیے

ویب ڈیسک  جمعرات 29 فروری 2024
—فائل فوٹو

—فائل فوٹو

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان سے قومی اسمبلی میں اپنے نامزد کردہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے لیے ووٹ مانگ لیے۔  

عمرایوب، اسد قیصر اور جنید اکبر پر مشتمل پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کے ملکر چلنے کو خوش آئند قرار دیا۔

 

ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی ہوئی ہے، اسد قیصر

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسد قیصر نے کہا کہ ہم فارم 45 کے نتائج کے لئے ملک گیر الائنس بنانے پر کام کررہے ہیں کیونکہ اس الیکشن میں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی ہوئی ہے۔

کس نے یہ دھاندلی کروائی ہے؟ سے متعلق سوال کے جواب میں اسد قیصر نے کہا کہ ‎جس نے یہ سب سسٹم چلایا ہے اس کا سب کو پتا ہے۔

علاوہ ازیں سنی اتحاد کونسل کے نامزد امیدوا ر برائے وزیر اعظم عمرایوب خان اور نامزد امیدوار برائے اسپیکر ملک عامر ڈوگر نے میڈیا سے گفتگومیں کہا ہم نے اپنا مؤقف مولانا فضل الرحمان کے سامنے رکھا ہے۔

’’فارم 45کے مطابق جو بھی نتیجہ بنتا ہے وہ دیا جائے‘‘

انہوں نے کہا کہ فارم 45کے مطابق جو بھی نتیجہ بنتا ہے وہ دیا جائے، فری الیکشن کا تقاضا پامال کیا گیا ہے یہ پاکستان کا دھاندلی زدہ الیکشن ہوا ہے آج جن ارکان نے حلف اٹھایا ہے ان کی اخلاقی حیثت کیا ہے؟ ہم نے مولانا سے صرف ووٹ کی بات نہیں کی ہم اسمبلی میں اس ایشو پر اکٹھے بات کریں گے۔

عمر ایوب خان نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم مسلم لیگ ن کے علاوہ سب جماعتوں کو فارم 45کے تحت نتائج چاہتے ہیں۔ جس پر اسد قیصر نے وضاحت کی کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم نے بھی مینڈیٹ چرایا ہے اس لئے ان کے علاوہ باقی جماعتوں سے بات کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو معلوم ہے کہ ہم مولانا فضل الرحمان سے قومی اسمبلی میں اپنے نامزد کردہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کے لیے ووٹ مانگنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف جبکہ سنی اتحاد کونسل نے عمرایوب کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔