رات کو دوران نیند آنکھ کھلنے کی وجوہات

رانا نسیم  اتوار 3 مارچ 2024
 جن پر قابو پا کر نیند اور نتیجتاً صحت کی خرابی سے بچا جا سکتا ہے ۔فوٹو : فائل

 جن پر قابو پا کر نیند اور نتیجتاً صحت کی خرابی سے بچا جا سکتا ہے ۔فوٹو : فائل

پڑوسیوں کے گھر سے شادی بیاہ یا کسی جھگڑے کی وجہ سے پیدا ہونے والے شور یا گلی میں کھڑی گاڑی کے الارم بجنے کے باعث گہری نیند سے اچانک آنکھ کا کھلنا اگرچہ ایک عمومی بات ہے، لیکن یہ نہایت اذیت ناک ثابت ہوسکتی ہے، کیوں کہ ہم سے اکثر کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر ایک بار آنکھ کھل گئی تو پھر نہ صرف ساری رات کھلی آنکھوں میں گزرتی ہے بلکہ اگلا دن بھی زیادہ تر خراب ہو جاتا ہے۔

اگرچہ نیند خراب ہونے کی ان وجوہات میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہوتا، جس کے باعث ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ سوتے ہوئے ان سب معاملات سے خود کو دور رکھیں، جس میں ہماری اکثریت کامیاب بھی رہتی ہے لیکن گہری نیند کے دوران آنکھ کھلنے کی صرف یہی بیرونی وجوہات نہیں ہوتیں، بلکہ کچھ وجوہات ایسی بھی ہیں، جن کے ہم خود ذمہ دار ہو سکتے ہیں اور ہم شائد ان وجوہات سے ناواقف بھی ہیں، تو اسی ناواقفیت کو ہم یہاں وافقیت میں بدلنے کی سعی کر رہے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو ایسی چند وجوہات کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں، جن کے باعث آپ گہری نیند سے اچانک بیدار ہو سکتے ہیں اور پھر ساری رات گھڑی کو دیکھتے گزرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

جلدی خارش یا جلن

جلدی خارش یا جلن آپ کی نیند کو خراب کرنے کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فینبگ سکول آف میڈیسن میں ڈرمیٹالوجی اور میڈکل سوشل سائنسز (شکاگو) سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر جاناتھن سلور برگ کہتے ہیں کہ ’’ جلدی بیماری مریضوں کے معیار زندگی اور مجموعی صحت یعنی جسمانی و ذہنی طور پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ جلدی بیماری انسان کے مدافعتی نظام میں تبدیلیاں لاتے ہوئے اس میں اشتعال انگیز ردعمل پیدا کر سکتی ہے، جو نیند میں رکاوٹ کی بہت بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

پھر خارش میں مبتلا مریضوں کے مرض میں عمومی طور پر شام یا رات کے اوقات میں شدت آ جاتی ہے، جس سے وہ اچھی طرح سو نہیں پاتے، لہٰذا اگر آپ جلد کے حوالے سے کسی بھی قسم کی الرجی کا شکار ہیں تو فوری طور پر اپنے معالج سے رابطہ کریں کیوں کہ مرض کی طوالت سے نہ صرف آپ کی نیند متاثر ہو رہی ہے بلکہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ آپ کو ذہنی عوارض کا بھی شکار کر سکتی ہے۔

ٹانگوں کا کھچاؤ

نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن (امریکا) کے مطابق ہر دس میں سے ایک امریکی کو بے آرام ٹانگوں کا سنڈروم ہے جو کہ نیند سے متعلق حرکت کا عارضہ ہے یعنی بلاوجہ بے چین ٹانگیں آپ کو نیند کی شدید خواہش کے دوران نہایت پریشان کرتی ہیں۔

معروف امریکی نیورولوجسٹ ویلیم اونڈو، جو ہوسٹن میتھوڈیسٹ ہسپتال، ہوسٹن کے مینجنگ ڈائریکٹر ہے، کا کہنا ہے کہ بے آرام تھکی ہوئی ٹانگوں کی وجہ سے نیند آنے میں ہی بہت دشواری ہوتی ہے اور اگر آنکھ لگ بھی جائے تو رات کو کسی بھی وقت کھل سکتی ہے، لہٰذا آپ کو فوری طور پر اپنے معالج سے ملنا چاہیے یا جسم میں مختلف وٹامنز کی کمی کے بارے میں ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ آپ کو اس پریشانی سے نجات مل سکے۔

ضرورت سے زیادہ گرم بیڈروم

سونے والے کمرے کا درجہ حرات اور رات کی اچھی نیند ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، نیند کے آغاز کے لئے آپ کے جسم کو جسمانی درجہ حرارت میں کمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بہت گرم کمرہ آپ کو سونے کے لئے نیند آنے میں تاخیر یا آدھی رات کو جاگنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

اس ضمن میں نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن تجویز کرتی ہے کہ آپ کسی ایسے ٹھنڈے کمرے میں سوئیں جس کا درجہ حرارت 65 ڈگری ہو کیوں کہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ درجہ حرارت عام طور پر رات کے لئے نہایت موزوں ہوتا ہے۔ ماہرین کی تحقیق کو اس بات سے بھی قوت ملتی ہے کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ یہ بات دہراتے نظر آتے ہیں کہ گرمی کا موسم آنے والا ہے اور نیندیں اڑنے لگیں گی اور سردیوں میں ہم خوب سونے سے لطف اٹھاتے ہیں۔

سخت گدا

عمومی طور پر ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اچھی نیند اور بستر کے درمیان ایک حقیقی تعلق ہے، کیوں کہ اگر بستر اچھا نہیں تو آپ کبھی بھی اچھی نیند نہیں لے سکتے۔ سلیپ سائنس اینڈ ریسرچ (امریکا) کے نائب صدر پیٹ بلز کا کہنا ہے کہ ’’سونے کے لئے ہمیشہ ایسے گدے کا استعمال کرنا ضروری ہے، جو آپ کی جسمانی ساخت سے مطابقت رکھتا ہو یعنی سوتے ہوئے سر، گردن اور کندھے مناسب حالت میں ہونے چاہیے۔

جو گدے حد سے زیادہ سخت ہوتے ہیں، وہ کولہوں اور کندھوں میں ہائی پریشر پوائنٹس بناتے ہیں، اور کمر کے نچلے حصے میں ناقص سپورٹ کا باعث ہوتے ہیں اور یہی چیز نیند کی خرابی کا باعث بنتی ہے‘‘ لہٰذا سونے والا گدا خریدتے وقت کبھی بھی سخت چیز کا انتخاب مت کریں اور دوسری جانب کئی سال پرانے گدوں کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کریں کیوں کہ زیادہ استعمال کے باعث وہ مختلف جگہوں سے بیٹھ جاتے ہیں اور آپ اچھی نیند نہیں لے پاتے، علاوہ ازیں اس کے باعث آپ کمر کے درد جیسے مسائل کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔

نیند کی کمی(کے باعث خراٹے لینا)

اگر آپ کو رات رات بھر جاگنے کی عادت ہے، تو ایسا ممکن ہے کہ آپ کو نیند کی کمی کی یہ علامت ہوں۔ اس حالت میں عام طور پر اونچی آواز میں خراٹے لینا شامل ہوتا ہے، اکثر نیند کے دوران سانس لینے کے وقفے کے لمحات کے دوران آپ کو مشکل پیش آتی ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے گلے کے پچھلے حصے کے پٹھے اس حد تک آرام کرتے ہیں کہ صحیح سانس واپس نہیں لے پاتے۔ آپ کا دماغ سانس لینے کے اس مسئلے کو اٹھا لیتا ہے اور مناسب طریقے سے آپ کی سانس لینے کی نالی کو کھولنے کی کوشش میں آپ کو بیدار کر دیتا ہے۔

جس کے بعد اکثر پھر وہی ہوتا ہے کہ آپ شدید تھکاوٹ یا نیند کے باوجود دوبارہ سو نہیں پاتے اور ساری رات آنکھوں میں ہی گزر جاتی ہے۔ پھر خراٹوں کی وجہ سے اس پریشانی کا صرف آپ ہی شکار نہیں ہوتے بلکہ آپ کے ساتھ والے بھی اس اذیت کو سہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور ایسا ہونے کی ایک وجہ جہاں نیند کی کمی ہے وہاں دن میں زیادہ دیر تک سونا بھی شامل ہے۔ لہٰذا ایسی مشکل میں آپ کو فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہیے، جو آپ کے سوتے وقت بلڈ آکسیجن لیول ٹیسٹ کروا سکتا ہے یا آپ کو آپ کے سانس لینے کے پیٹرن، آکسیجن کی سطح اور دل کی دھڑکن جیسی چیزوں کی نگرانی کے لیے گھر پر نیند کا ٹیسٹ کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

ذہنی تناؤ

ذہنی تناؤ بے خوابی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے، نوکری، مالی معاملات یا کسی بھی اور وجہ سے (ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشی کے مواقعوں کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے) اگر آپ بہت زیادہ سوچتے ہیں تو ایسے میں رات کو بار بار آپ کی آنکھ کھل سکتی ہے، لہٰذا ذہنی تناؤ میں کمی لانے کے لئے باقاعدگی سے ورزش کریں، جس کے لئے ضروری ہے کہ آپ دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد 10 منٹ تک ضرور سیر کریں، کیوں کہ پریوینٹیو میڈیسن کی ایک تحقیق کے مطابق ورزش نیند کے معیار یا دورانے کو بہتر بنانے میں نہایت معاون ہے۔ لہٰذا خود کو پرسکون رکھنے کے لئے اقدامات کو یقینی بنائیں۔

سونے سے پہلے پیشاب کرنا

آدھی رات کو پیشاب کرنے کی ضرورت یقینی طور پر آپ کی نیند کو برباد کر سکتی ہے کیوں کہ ایک بار اگر پیشاب کی وجہ سے آپ کی آنکھ کھل گئی تو پھر ساری رات آنکھوں میں ہی گزرنے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا اس پریشانی سے بچنے کے لئے رات کو سونے سے پہلے ضرور باتھ روم ہو کر سوئیں۔ دوسرا وہ لوگ جو ذیابیطس کے مرض یا پیشاب کی نالی میں انفیکشن کا شکار ہیں تو ایسی صورت میں اپنی معمول کی ادویات کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

سونے سے پہلے الکوحل کا استعمال

2019ء میں امریکی تحقیقی جریدے سلیپ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سونے سے چار گھنٹے کے اندر الکوحل کا استعمال نیند کو سبوتاژ کر سکتا ہے کیوں کہ الکوحل کے استعمال سے آپ کو نیند آنے کے وقت میں کمی واقع ہو جائے گی لیکن سونے کے دوران آپ کی نیند میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسرا الکوحل کا استعمال ویسے بھی متعدد بیماریوں کے جنم کا باعث بنتا ہے، لہٰذا الکوحل سے خود کو دور رکھیں۔

سکرین کو دیکھنے کا دورانیہ

اگر آپ سونے سے قبل اپنے موبائل فون کو اسکرول کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی نیند کا شیڈول سنگین طور پر گڑبڑ ہو سکتا ہے، جس کی وجہ موبائل فون، لیپ ٹاپ یا ٹیلی ویژن سے نکلنی والی وہ نیلی روشنی ہے، جو یہ تمام آلات خارج کرتے ہیں۔ یہ نیلی روشنی دراصل میلاٹونن (ایک ہارمون جو نیند لانے کا باعث ہے) کو دباتی ہے، جس سے آپ کا دماغ متحرک ہو جاتا ہے اور نیند اڑ جاتی ہے۔ لہٰذا رات کو موبائل فون، لیپ ٹاپ یا ٹیلی ویژن کی سکرین سے خود کو دور رکھیں تاکہ آپ ایک بھرپور نیند لے سکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔