برطانیہ؛ جنگِ عظیم میں قربانیاں دینے والے مسلمانوں کی یادگار کی تعمیر کا فیصلہ

ویب ڈیسک  جمعرات 7 مارچ 2024
جنگ عظیم اوّل اور دوم میں ساڑھے سات لاکھ مسلمان فوجیوں نے برطانیہ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، فوٹو: فائل

جنگ عظیم اوّل اور دوم میں ساڑھے سات لاکھ مسلمان فوجیوں نے برطانیہ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، فوٹو: فائل

 لندن: برطانیہ کے نئے مالی سال کے بجٹ میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ عظیم میں قربانیاں دینے والے مسلمانوں کی یادگار کی تعمیر کے لیے 10 لاکھ پاؤنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ کے نئے مالی سال کا بجٹ چانسلرجیریمی ہنٹ نے پیش کرتے ہوئے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں “آزادی اور جمہوریت کی راہ میں” برطانیہ کے لیے قربانیاں دینے والے مسلمانوں کی یادگار کے حوالے سے تفصیلات بھی پیش کیں۔

چانسلرجیریمی ہنٹ نے برطانیہ کے لیے قربانیاں پیش کرنے والے  ساڑھے سات لاکھ مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں لیکن ہمیں جس طرح اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا، نہیں کیا گیا۔

جیریمی ہنٹ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے مسلمانوں کی قربانیوں کو دستاویزی اور تاریخ کا حصہ بنانے کے لیے نیشنل میموریل آربورٹم میں ایک یادگار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے بجٹ میں 10 لاکھ پاؤنڈز رکھے گئے ہیں۔

چانسلر جیریمی ہنٹ کی اس تجویز کو ارکان اسمبلی نے سراہا اور ڈیسک بجا کر خیر مقدم کیا۔

خیال رہے کہ مسلمانوں کی قربانیوں پر یادگار بنانے کی تعمیر کے منصوبے میں سابق وزیر برائے صحت اور سماجی امور ساجد جاوید نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یہ یادگار ورلڈ وارز مسلم میموریل ٹرسٹ کے تعاون سے تعمیر کی جائے گی جو برصغیر پاک و ہند، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے اُن مسلمان فوجیوں کو اعزاز دینے کی کوشش کرتا ہے جو دو عالمی جنگوں میں مارے گئے تھے۔

ٹرسٹ کے چیئرمین سر ولیم بلیک برن نے کہا کہ ہم حکومت کے تعاون کے لیے بہت شکر گزار ہیں۔ ہمارا منصوبہ نوآبادیاتی تاریخ کے وسیع پیمانے پر از سر نو جائزہ اور ایک متحرک اور بدلتے ہوئے جدید برطانیہ میں مسلمانوں کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

چیئرمین سر ولیم نے مزید کہا کہ ہم مشترکہ قربانیوں، ایک مشترکہ تاریخ و اقدار اور برطانیہ میں تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے تعلیم کے ایک جامع پروگرام پر بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔