آئین کے تحت خواتین پر اعتماد کیجیے

کشور زہرا  بدھ 11 جون 2014

ہم پاکستان میں جب خواتین کے استحصال کی بات کرتے ہیں تو صرف تشدد، ظلم و جبر یا غیرت کے نام پر قتل کر دینے پر ہی موقوف سمجھی جاتی ہیں جب کہ استحصال کی ایک صورت ان طبقوں میں بھی نظر آتی ہے جو روشن خیال کہلاتے ہیں۔ شریعہ، قانون اور آئین نے تو ہر طبقے کی عورت کو نا صرف تحفظ بلکہ با عزت درجہ دیا ہے یہاں تک کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل “34” میں واشگاف الفاظ میں تحریر ہے کہ قومی زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی مکمل شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ ہیں وہ الفاظ جو آئین کے تحت خواتین کو حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس پاکستان کی نصف سے زائد آبادی کے ملکی ترقی میں کردار کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ ہنر اور تعلیم سے آراستہ ہونے کے باوجود اس معراج کو نہیں پا سکیں جو اُن کا حق بنتا ہے اور عورت کی صورت میں یہ انرجی جو صرف دو ہاتھ، دو پاؤں یا صرف چہرہ اور آنکھیں ہی نہیں بلکہ ایک ذہن بھی رکھتی ہیں، جس کے اندر صرف انسان کو تخلیق کرنے کی ہی صلاحیت نہیں بلکہ گھر اور گھر سے باہر دونوں جگہ معمولاتِ زندگی میں اپنی صلاحیتوں، اور ہنر سے ایک سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں۔

اس ناعاقبت اندیش رویے کے پیچھے بھی وہی شکنجہ صفت مزاج اور سوچ کارفرما ہے جس میں اس صنف کو دوسرا درجہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستانی خواتین نے گزشتہ برسوں میں زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے حتیٰ کہ ٹیکنیکل اور دفاعی شعبوں میں بھی انتہائی خوبی سے اپنا کردار سر انجام دے رہی ہیں۔ لہٰذا ہمیں معاشرتی طور پر خواتین کو آگے آنے کے مواقعے دینے ہوں گے اور اس بندشوں والی سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا تا کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈال سکیں۔

جب تک خواتین کو ترقی کی دوڑ میں شریک نہیں کیا جا ئے گا خوشحالی کے دعوے کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ ملک کی بقاء کی خاطر اپنے روایتی رویے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسا راستہ اپنانا ہو گا جس کی منزل یقینی ہو۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل” “27 ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جس کے مطابق ’’کسی شہری کے ساتھ جو بااعتبارِ دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقرر کا اہل ہو، کسی ایسے تقرر کے سلسلے میں محض نسل، مذہب، ذات، جنس، سکونت یامقام پیدائش کی بنا پر امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔‘‘

کسی نئے قانون کے نفاذ کو چھوڑیے ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان آرٹیکلز کی خلاف ورزیاں تقریباً معمول بن چکی ہیں۔ یہ نہ صرف ہمارے معاشرے میں، خواتین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ بھی زیادتی کے مترادف ہے۔ دوسری جانب اگر سرکاری ملازمتوں پر نظر ڈالی جائے تو پورے پاکستان میں گریڈ 21 اور 22 میں انتظامی سطح پر چند گنتی کی خواتین ہی میسر ہوں گی۔

یہ بات انتہائی قابل حیرت ہے کہ پولیس کے شعبے میں گریڈ 21 تو کیا گریڈ 20 میں بھی کوئی خاتون نہیں ہے۔ اور اگر کوئی اس سے کم درجے کی آفیسر ہو گی تو اس کو ذمے داری دینے میں وہی روایتی سوچ محرک بن کر سامنے آ جاتی ہے۔ ان کارفرما عوامل کو نہ صرف گہرائی بلکہ گیرائی میں جا کر دیکھنا ہو گا کہ کس طرح ہم ایک انرجی کی نفی کر رہے ہیں۔ اور یہ تنگ دلی اب تنگ دستی بھی بنتی جا رہی ہے کیونکہ اس شدید مہنگائی کے دور میں جب کہ ایک فرد کی آمدن میں گھر چلانا مشکل ہو گیا، خاتون جو دوسری آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہے وہ یا تو اپنے ارد گرد کے ماحول کی وجہ سے گھر بیٹھ جاتی ہے یا ملازمتوں کے حوالے سے ترقی کے راستے مسدود اور امتیازی سلوک کے سبب اس کے حوصلے پست کر دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں عمومی طور پر مردوں کے حاکمانہ اور جارحیت پسند رویے اور مزاج کے سبب خواتین کو اپنے لیے کسی بھی جگہ منوانا اور اپنی اہلیت کو ثابت کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے اور اُن کی نصف سے زیادہ قوت اپنے آپ کو بچانے پر صرف ہو جاتی ہے نہ کہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے پر۔ سرکاری، نیم سرکاری دفاتر کی سازشیں اس کی مظہر ہیں جو ترقی کی راہ میں دیوار بن کر حائل ہو جاتی ہیں۔ معاشرے کی اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے ہوں گے۔ تلخ اس لیے کہ اس مردانہ بادشاہت کے سماج میں اس بات کو گلے سے اتارنا ذرا مشکل ہوتا ہے کہ عورت کی قابلیت کا اعتراف کیا جائے۔

بہرحال اس حقیقت کو تسلیم کرنے اور عورت کی اہلیت کا اعتراف کرنے میں نہ صرف خاندان بلکہ ملک کے لیے بہتری پنہاں ہے کہ جو خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں وہاں انھیں اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے استعمال کا پورا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ وہ ڈاکٹرز، انجینئر، فیشن ڈیزائنر، ایم بی اے یا درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں، اچھی ملازمتوں کے مواقعے دیے جائیں۔ اور دوسری طرف کم تعلیم یافتہ خواتین کی سیکریٹریز، ٹائپسٹ، سیلزگرل، پرسنل سیلر، بیوٹیشن یا فیکٹری ورکربننے میں قباحتوں کو دور کر کے ان کی خاطر خواہ مدد کی جائے تا کہ دورانِ ملازمت وہ کسی خوف کا شکار نہ ہوں کیونکہ جب انھیں غیر مناسب رویوں اور حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر ترقی کے کون سے امکانات انھیں آگے بڑھنا سکھائیں گے۔

وفاق اور صوبوں کو بھی ایسی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں کہ جہاں سرکاری ملازمتوں میں خواتین کو قانون و کوٹے کے مطابق ترجیحات میں شامل رکھا جائے۔ لہٰذا اداروں کو فوری طور پر سرکاری کارپوریشنز، کمپنیوں، فنون لطیفہ، ثقافت سے متعلقہ اداروں، ریگولیٹری باڈیز، خصوصی ٹاسک فورسز اور کمیٹیوں و سرکاری فاؤنڈیشن، یونیورسٹیوں، تحقیقی و ترقیاتی اداروں میں خواتین کو فیصلہ سازی میں بھرپور کردار ادا کرنے کا نہ صرف موقع دیا جائے بلکہ کسی بھی شعبے میں خواتین کے استحقاق کی نفی یا رکاوٹ پید ا کرنے والوں کو سزا دی جائے۔

خصوصی طور پر تجربہ کار خواتین کو سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، بورڈ آف مینجمنٹ، سنڈیکیٹ اور دیگر فیصلہ کن اختیارات کے حامل اہم اداروں میں متناسب نمایندگی دی جائے چند اہم پوسٹ پر خواتین ہیں تو سہی لیکن آبادی کے تناسب سے یہ تعداد غیر متوازن ہے، اسی لیے ہمارا معاشرہ بھی عدم توازن کا شکار ہے اور سست روی اس کا مقدر بن چکی ہے اس کے چنگل سے آزاد ہونے کے لیے ان زنجیروں کو کاٹ پھینکنا ہو گا جو پوری سوسائٹی کو اپنی منفی سوچ سے جکڑے ہوئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔