میرعلی میں دہشت گردی

ایڈیٹوریل  پير 18 مارچ 2024
پاک فوج کے دو افسران مادر وطن پر قربان ہوگئے، دونوں شہداء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ فوٹو: فائل

پاک فوج کے دو افسران مادر وطن پر قربان ہوگئے، دونوں شہداء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت سات فوجی اہلکار شہید ہوگئے، جوابی کارروائی میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔

پاک فوج کے دو افسران مادر وطن پر قربان ہوگئے، دونوں شہداء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ صدر آصف علی زرداری، آرمی چیف، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی اسٹاف، سینئر حاضر سروس فوجی اور سول افسران، شہداء کے رشتے داروں اور علاقے کے مقامی لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہدا کی عظیم قربانی ہمارے بہادر بیٹوں کے غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے جنھوں نے ہماری مادر وطن کے دفاع کے لیے قربانی پیش کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

بلاشبہ قوم کو اپنے شہدا پر فخر ہے کہ جنھوں نے ملکی دفاع و سلامتی کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ پاکستان دشمن عناصر ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کے لیے ایک بار پھر سرگرم عمل ہیں اور ہماری سیکیورٹی فورسز ان کے ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ افغان طالبان چونکہ افغانستان پر بغیر انتخابی اور جمہوری عمل کے قابض ہوئے ہیں، اسی لیے وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

یہ خیال درست ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کی واپسی کی وجہ سے وہ دہشت گرد عناصر متحرک ہوگئے ہیں جن کے ٹھکانے سرحد پار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے تانے بانے سرحد پار جا ملتے ہیں، لیکن یہ ماضی میں اپنائی گئی پالیسیوں کا خمیازہ ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں۔

سابق پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے طالبان حکومت کے دباؤ میں کیے گئے، امن معاہدے کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں مسلح عسکریت پسندوں کو اپنے قبائلی علاقوں میں واپسی کی اجازت دی گئی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں کالعدم تحریکِ طالبان کو ایک بار پھر اس خطے میں متحرک ہونے کا موقع ملا۔ بہت سے شر پسند تو ان علاقوں میں واپس آچکے ہیں لیکن ان کی قیادت اب بھی افغانستان میں اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہے جہاں وہ طالبان حکومت کے تحفظ میں ہیں۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے دھڑوں کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سے دہشت گرد حملوں میں کئی پاکستانی فوجی شہید ہوچکے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کے بعد، اب بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔

پاکستان گزشتہ 25 برس سے خوفناک دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے، دہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنے کے لیے افواج پاکستان نے وسیع تر امن کے قیام کے لیے ضرب عضب اور رد الفساد ایسے نہایت موثر آپریشن کیے جن میں بہت اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں اور انتہائی مطلوب دہشت گرد مارے گئے، گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی نے ایک بار پھر ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ دہشت گردوں کا ایک بار پھر منظم اور فعال ہوکر سیکیورٹی فورسز پر حملے کرنا لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ جیتی تھی وہ افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد ایک بار پھر شروع ہو چکی ہے۔

اس وقت سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ملک میں ان دہشت گردوں کو جو لوگ سپورٹ کرتے ہیں، انھیں پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں، ان کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں، ان سب کو نہایت سرعت کے ساتھ بے نقاب کر کے عوام کے سامنے لایا جائے، انھیں قانون کے شکنجے میں کس کر کڑی سے کڑی سزا دی جائے، ویسے بھی ملک دشمنوں کے ساتھ کسی بھی ملک اور معاشرے میں رعایت نہیں برتی جاتی ورنہ یہ جب بھی موقع ملے سر اٹھانے میں تاخیر نہیں کرتے۔

اس وقت افغانستان میں قائم حکومت کی کارکردگی اور رویے کے حوالے سے متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں۔ افغان طالبان کی موجودہ حکومت جسے پاکستان نے ہر قدم پر سہارا دیا، اس مقام تک پہنچایا، انھیں عالمی اداروں اور بڑی طاقتوں کے سامنے بٹھایا تاکہ مسئلہ افغانستان کے حل کی راہ ہموار ہو، دوحہ امن مذاکرات میں سہولت کاری کی تاکہ افغانستان میں امن قائم ہو، وہاں کی تباہ شدہ معیشت بحال ہو، مگر ان تمام کاوشوں کے بدلے میں افغانستان کی موجودہ حکومت نے جواب میں ہمیں کیا دیا، دہشت گردی، الزام تراشی اور ہمارے دشمنوں کی درپردہ حمایت۔

افغان طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پورے افغانستان پر حکومت قائم ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان حکومت کی رٹ کہاں ہے؟ آخر پاکستانی طالبان جو افغانستان سے آکر یہاں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں اور پھر فرار ہوجاتے ہیں، انھیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی سہولت کیوں میسر ہے، جہاں سے وہ ہماری سرحدوں کے محافظوں کو اور شہری و دیہی علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں، اگر افغانستان کی موجودہ حکومت مخلص ہو تو کسی نام نہاد فسادی تنظیم میں طاقت نہیں ہے کہ وہ افغان علاقے سے پاکستانی علاقوں کو نشانہ بنائے۔

یہاں پر افغانستان حکومت کی خاموشی بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان کی طرف سے کسی بھی قسم کے رد عمل کا اظہار سفارتی سطح پر نہیں کیا جا رہا ہے، اگر افغان طالبان کی گرفت کسی علاقے پر کمزور ہے تو پھر وہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرکے کوئی لائحہ عمل ترتیب دینے سے کیوں اجتناب برت رہی ہے؟ افغانستان میں طالبان کی اس بار حکومت قائم ہونے کے بعد یہ تاثر قائم ہوا تھا کہ دنیا طالبان کو تسلیم کر لے گی، مگر ایسا ہرگز نہ ہوا۔

افغان طالبان نے حکومت میں آتے ہی پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا تھا اور تحریک طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دی تھیں، مذاکرات کے بعد ان معاہدوں پر توسیع ہوتی رہی اور مختلف تاریخیں، اور سیز فائر کی جاتی رہی، بظاہر افغان طالبان یہ کہتے تھے کہ تحریک طالبان پاکستان کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ پاکستانی طالبان ہیں مگر ان کو وہ روکتے بھی نہیں اور ان کا مرکز بھی افغانستان ہے، جب بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہوتا ہے تو تحریک طالبان جو پاکستانی طالبان ہیں وہ پاکستان میں سرحدوں پر شدت پسندی اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ امن کو اہمیت دی اور افغان ٹریڈ کو تسلسل کے ساتھ نرم شرائط پر جاری رکھا اور باڈر پر بھی لوگوں کے پاکستان آنے کے لیے نرمی کی یہاں تک کہ سابقہ حکومت کے دور میں انڈیا کو بھی افغانستان تک رسائی، پاکستان کے ذریعے افغانستان تک راہداری دی گئی تاکہ وہاں سے گندم اور دیگر کھانے پینے کی اشیا افغانستان میں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جا سکیں۔ ان تمام مراعات کے باوجود بھی طالبان باز نہیں آئے اور مختلف طریقوں سے پاکستان پر دباؤ بڑھاتے گئے اور ساتھ ساتھ انڈیا کے ساتھ بھی اپنے روابط بڑھاتے گئے حتیٰ کہ افغان آرمی اور پولیس کی ٹریننگ بھی انڈین کر رہے ہیں۔

امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد اور طالبان کی افغانستان میں حکومت قائم ہونے کا بظاہر بھارت کو سب سے زیادہ نقصان ہوا تھا اور وہاں اس کے بنائے ہوئے سفارتی مشن اور دیگر پاکستان مخالف مشنز کا بھی قلع قمع ہوا تھا اور وہاں سے بھارت کی خفیہ ایجنسی را اپنا ساز و سامان چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ پاکستان کے ساتھ افغان طالبان نے یہ معاہدہ بھی کیا تھا کہ افغانستان کی حکومت کسی بھی طرح بھارت کو پاکستان میں افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے شرپسندی کی اجازت نہیں دے گی مگر اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔

پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک نے افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا تو اس حکومت کے ساتھ سفارتکاری کیسے کر سکتے ہیں، یہی وہ اہم ترین نکتہ ہے، جس پر افغانستان حکومت کے سرکردہ رہنماؤں کو سرجوڑ کر بیٹھ ہونا ہوگا، فہم و فراست اور تدبر سے ایسے فیصلے کرنے ہوں گے، جن سے ان کے معاشی حالات درست ہوسکیں، افغانستان کے اندر موجود  دہشت گردوں کی ٹھکانوں کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ افغان طالبان جتنی جلدی اس بات کا ادراک کرلیں کہ کوئی بھی ملک دنیا سے کٹ کر یا لاتعلق رہ کر ترقی و خوشحالی کا سفر طے نہیں کرسکتا۔

سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی مزید بہتر اور منظم بنانا ہوگی، سرحدوں کے نگرانی اور اہم سول و عسکری تنصیبات کی سیکیورٹی فول پروف بنانا ہوگی، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورک کو مزید موثر بنانا ہوگا۔ پاکستان پہلے بھی دہشت گردی کے جن کو قابو کرچکا ہے اور اس بار بھی ان شاء اللہ جلد اس کا خاتمہ ہوگا، کوئی دہشت گرد اور ان کا سہولت کار نہیں بچے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔