وائٹ بال کپتان کی تبدیلی اسٹریٹجک اقدام قرار

اسپورٹس ڈیسک  پير 1 اپريل 2024
میں کپتانی کے لمحات کو ہمیشہ یاداور بابر کی مدد کروں گا، شاہین آفریدی۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

میں کپتانی کے لمحات کو ہمیشہ یاداور بابر کی مدد کروں گا، شاہین آفریدی۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ نے وائٹ بال کپتان کی تبدیلی کو اسٹریٹجک اقدام قرار دے دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے وائٹ بال کپتان کی تبدیلی کے حوالے سے جاری اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ یہ ایک اسٹریٹجک اقدام جس کا مقصد کھلاڑیوں کی اعلیٰ کارکردگی کو یقینی بنانا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے وائٹ بال کی قیادت کو تبدیل کیا ہے، شاہین نے بلاشبہ خود کو ایک اسٹار فاسٹ بولر ثابت کیا، پاکستان بورڈ ان کی بہترین کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے روٹیشن اور آرام کی اہمیت کو سمجھتا ہے، یہ فیصلہ کھلاڑیوں کے لمبے کیریئراور خاص کر فاسٹ بولرز کو انجریز سے بچانے کے ضمن میں بورڈ کے عزم سے مطابقت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابراعظم کو وائٹ بال فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی مل گئی

ورک لوڈ منیجمنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ پی سی بی کے اہم بولرز اپنے کھیل میں نمایاں رہیں، بورڈ نہیں چاہتا کہ قومی ٹیم بولنگ کے وسائل کے حوالے سے انجریز کے بحران سے دوچار ہو جیسا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 سے پہلے دیکھا گیا تھا جہاں شاہین کی دیکھ بھال کرنی پڑی اورون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں ٹیم کونسیم شاہ کی خدمات حاصل نہیں تھیں ۔

اس حوالے سے شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کی کپتانی کرنا ایک اعزاز کی بات تھی۔ میں ہمیشہ ان لمحات کو یاد رکھوں گا، ٹیم کا کھلاڑی ہونے کے ناطے یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے کپتان بابر اعظم کی حمایت کروں۔ میں ان کی کپتانی میں کھیلا ہوں اور ان کے لیے احترام موجود ہے۔ میں میدان کے اندر اور باہر ان کی مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہین کو کپتانی سے ہٹانے پر شاہد آفریدی کا ردعمل سامنے آگیا

بابر اعظم کا کہنا ہے کہ حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاہین کی قیادت میں کھیلنا خوشی کی بات ہے، وہ ابھی جوان اور لیڈر کے طور پر ہر روز بہتر ہو رہے ہیں، باحیثیت کپتان میں نے ہمیشہ ان کے مشوروں کی قدر کی اور اہم فیصلوں کے لیے ان سے مشورہ کرتا رہوں گا۔ ہمیں کھیل کے بارے میں ان کی اسٹریٹجک سمجھ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمارا مشترکہ مقصد اس ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیم بنانا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔