چینی کمپنی نے بشام حملے کے بعد دیامر-بھاشا ڈیم پر کام دوبارہ شروع کردیا

ویب ڈیسک  بدھ 3 اپريل 2024
چینی کمپنیوں نے بشام حملے کے بعد ڈیم کا کام روک دیا تھا—فائل: فوٹو: اے ایف پی

چینی کمپنیوں نے بشام حملے کے بعد ڈیم کا کام روک دیا تھا—فائل: فوٹو: اے ایف پی

دیامر: خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں گزشتہ ماہ ہونے والے خود کش حملے کے بعد حکومت کی جانب سے سخت سیکیورٹی میں دیامر-بھاشا ڈیم پر کام دوبارہ شروع کردیا۔

غیرملکی خبرایجنسی اے ایف پی کو منصوبے کے ترجمان نزاکت حسین نے بتایا کہ پاور چائنا نے پیر کو ڈیم کا کام دوبارہ شروع کردیا ہے اور سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا ور گلگت بلتستان کے علاقوں میں زیر تعمیر دیامر-بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم میں سیکڑوں چینی باشندے کام کر رہے ہیں تاہم مارچ کے آخر میں بشام کے قریب چینی انجینئروں کی گاڑی پر حملہ ہوا تھا جو اسلام آباد سے ڈیم کی طرف جا رہی تھی۔

پاور چائنا اور چائنا گیزھوبا کمپنی نے اس حملے کے بعد ڈیم کا کام روک دیا تھا۔

اے ایف پی کی سیکیورٹی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کو توقع ہے کہ چائنا گیزھوبا گروپ کمپنی اگلے ہفتے داسو ڈیم کا کام شروع کردے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے اور علاقے میں گشت کرنے والی سیکیورٹی ٹیموں کو بھی پھیلا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پولیس نے بشام خود حملے کی تحقیقات کے دوران 12 سے زائد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔

بشام میں خود کش حملے سے ایک روز قبل ہی دہشت گردوں نے بلوچستان میں گوادر پورٹ پر حملہ کیا تھا، جس سے یہ تاثر ابھرا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی باشندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے چینی باشندوں پر حملے کی مکمل تحقیقات کا یقین دلایا تھا اور اظہار یک جہتی کے لیے مذکورہ علاقے کا دورہ کیا تھا اور ملزمان کو سزا دینے کا وعدہ کیا تھا۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔