بہاولنگر واقعے پر کالعدم ملک دشمن تنظیم اداروں میں ٹکراؤ کا تاثر دے رہی ہے، آئی جی پنجاب

ویب ڈیسک  جمعـء 12 اپريل 2024
آئی جی پنجاب عثمان انور نے ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت پنجاب نے بھی انکوائری کمیٹی بنادی ہے—فائل: فوٹو

آئی جی پنجاب عثمان انور نے ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت پنجاب نے بھی انکوائری کمیٹی بنادی ہے—فائل: فوٹو

 لاہور: انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بہاولنگر تھانے میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پنجاب پولیس کا مورال پست ہونے کا تاثر مسترد کرتےہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ملک دشمن کالعدم تنظیم واقعے کو بنیاد بنا کر عوام میں اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بہاولنگر واقعے کے حوالے سے اہم ویڈیو پیغام میں کہا کہ پنجاب پولیس کا مورال وہ بنیاد ہے جس سے ہم دہشت گردوں، چوروں، ڈاکوؤں سے لڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہاولنگر کے واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اداروں میں ٹکراؤ کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی حالانکہ دونوں اداروں نے مشترکہ طور پر اس کا فوری ایکشن لیا اور آر پی او بہاولپور اور آرمی کی مقامی کمانڈ نے علاقے کا دورہ کیا۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ ملک دشمن کالعدم تنظیم واقعے کو بنیاد بنا کر عوام میں اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، کالعدم تنظیم یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب ہم خدانخواستہ دشمن کے پیچھے نہیں جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کے جوانوں میں مایوسی پھیلانے کے لیے بعض پرانے واقعات کی ویڈیوز بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسپیشل انیشئیٹو پولیس اسٹیشنز کے ایس او پیز کو فالو نہ کرنے کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا، دونوں اداروں نے مل کر فوری علاقے کا دورہ کیا، اجلاس منعقد کیے اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا گیا، پاکستان زندہ باد، پاک فوج اور پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق معاملے کی جوائنٹ انوسٹی گیشن انکوائری قائم کر دی گئی ہے، انکوائری کے دوران قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نے بھی واقعے میں ملوث افراد کے ذاتی عمل کی نشان دہی اور ذمہ داران کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، حکومت کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی میں مسلح افواج، پنجاب پولیس اور سول حکام شامل ہیں۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ پنجاب پولیس کی لیڈرشپ اور فورس کے درمیان فیملی جیسے رشتے کو توڑنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پنجاب پولیس کی ڈاکوؤں، چوروں، بدمعاشوں اور سماج دشمن عناصر کے ساتھ جنگ اسی جوش و جذبے کے ساتھ جاری رہے گی، پولیس اور تمام سیکیورٹی ادارے مل کر دہشت گردوں اور شرپسندوں کو نیست و نابود کرکے پاکستان کو محفوظ بنانے کے مشن پر گامزن رہیں گے۔

آئی جی نے کہا کہ فورس پر لازم ہے کہ سوشل میڈیا ٹرولنگ یا غیر ضروری تنقید پر کان نہ دھرے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو، پولیس قیادت اور فورس نے مل کر میانوالی، کچہ آپریشن، ڈی جی خان اور جڑانوالہ ہر جگہ وطن دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فورس کی ویلفیئر، 23 ہزار پروموشنز، جدید ٹریننگ، گھروں کی فراہمی، لیگل ایڈ سمیت ہر موقعے پر محکمہ اپنے اہلکاروں کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا، ملک و قوم کی خدمت اور حفاظت پولیس فورس کا نصب العین ہے، جسے بھرپور لگن کے ساتھ سر انجام دینا فورس پر لازم ہے۔

قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ واقعے کی شفاف انکوائری اور قانونی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والوں کی نشان دہی کے لیے پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ انکوائری کی جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔