جی-7 اجلاس؛ اسرائیل کی مکمل حمایت اور ایران پر پابندیوں کا فیصلہ

ویب ڈیسک  پير 15 اپريل 2024
غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کیساتھ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل کیلیے کام کرتے رہیں گے

غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کیساتھ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل کیلیے کام کرتے رہیں گے

روم: جی-7 ممالک کے ہنگامی اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان نے ایران کے حملے کے جواب میں اسرائیل کو اپنی مکمل حمایت کی پیشکش کرتے ہوئے ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد جی-7 ممالک امریکا، جاپان، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی اور کینیڈا کے سربراہان کے ورچوئل اجلاس میں ایران کی مذمت کی گئی اور اسرائیل سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اسرائیل پر حملے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ ایران اور اس کے پراکسی حملے بند کریں ورنہ سخت پابندیوں کے لیے تیار رہیں۔

یہ خبر پڑھیں : سلامتی کونسل کا بے نتیجہ اجلاس؛ امریکا اور اسرائیل کی ایران کو دھمکیاں

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ ایران پر ڈرون اور میزائل پروگراموں سمیت اضافی پابندیاں عائد کرسکتے ہیں۔

جی-7 ممالک کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک غزہ بحران کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط کریں گے جس میں فوری اور مستقل جنگ بندی کے علاوہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور ضرورت مند فلسطینیوں کو انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : امریکا نے فوجی کارروائی کی تو رد عمل دیں گے، ایران

یاد رہے کہ ایران کے اسرائیل پر حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی ہوا تھا جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ملتوی کردیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں بھی ایران کی مذمت اور اسرائیل کی حمایت کی گئی۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔