سائفر کیس؛ ایف آئی اے کو دلائل کیلئے لمبا وقت چاہیے تو سزا معطل کردیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

ویب ڈیسک  منگل 16 اپريل 2024
کیا اعظم خان کے غائب ہونے کے بعد واپس آ کر بیان دینے کا کوئی اثر ہوگا؟چیف جسٹس عامر فاروق

کیا اعظم خان کے غائب ہونے کے بعد واپس آ کر بیان دینے کا کوئی اثر ہوگا؟چیف جسٹس عامر فاروق

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے کہا ہے کہ کل آپ دلائل شروع کریں، اگر آپ کو لمبا وقت چاہیے تو سزا معطل کر دیتے ہیں۔

ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ پیش ہوئے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ فائیو ون سی اور ون ڈی میں سے ایک چارج لگنا ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ سائفر اعظم خان کی کسٹڈی میں تھا، انہوں نے سائفر وصول کیا، سائفر وزیراعظم کو دیا گیا یا نہیں ؟ وزیر اعظم نے لیا یا نہیں ؟ یہ پراسیکیوشن کے ثبوت میں نہیں آیا ، میری پوزیشن یہ ہے کہ سائفر کاپی وزیر اعظم آفس سے گم ہو گئی یہی بات اعظم خان نے کہی، میکانزم کے مطابق اگر سائفر گم ہو جائے وزارتِ خارجہ کو رپورٹ کرنا ضروری ہے، محکمانہ انکوائری وزارت خارجہ کے اعلی افسران نے کرنی ہے جو نہیں ہوئی ، وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی ریمائنڈر نہیں آیا جو آنا چاہیے تھا ، 28 مارچ کو وزارت خارجہ کو وزیراعظم آفس نے بتا دیا تھا ، وزارت خارجہ نے فوری آئی بی کو مطلع کرنا تھا جو نہیں کیا گیا، اگر ان کا مرکزی الزام ہی کہیں نہیں کھڑا تو لاپرواہی کا چارج تو کھڑا ہی نہیں رہ سکتا، میرا پوائنٹ ہے ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ سائفر کاپی ہمارے حوالے کی گئی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ لاپرواہی یا جان بوجھ کا یہ چارج اعظم خان پر کیوں نہیں لگا ؟

سلمان صفدر نے جواب دیا کہ چارج ملزم پر لگتا ہے جب انہوں نے ملزم کو گواہ بنا دیا تو خود انہوں نے اپنا کیس خراب کر لیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا سائفر کی حفاظت اس لیے ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہ لے، کیا کسی نے وہ سائفر دیکھا ہے؟

وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ نہیں، حتی کہ میں نے بھی نہیں دیکھا، کسی گواہ نے بھی اُس کے متن سے متعلق کچھ نہیں کہا۔

وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ اعظم خان کو گواہ بنانے سے پہلے پروسیجر فالو نہیں کیا گیا ، اعظم خان ایف آئی آر میں نامزد ملزم تھا اس لئے بھی اس کے بیان کی حیثیت نہیں ، جب اعظم خان کا 164 کا بیان ہوا تو جرح کا حق نہیں دیا گیا، اعظم خان کو بغیر پروسیجر کے ملزم سے گواہ بنایا گیا ، معافی قبول کرکے گواہ بنانا یہ جو ہوا ایسی مثال نہیں ملتی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جو آپ کہہ رہے ہیں ہم اسے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کوئی ایسی چیز بتائیں جس کی بنیاد پر ہم آپکی یہ دلیل مان لیں؟ کیا اعظم خان کے غائب ہونے کے بعد واپس آ کر بیان دینے کا کوئی اثر ہوگا؟

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کا بیان تو قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ سلمان صفدر نے دلائل مکمل کیے۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے دلائل کے لیے تین چار دن کا وقت دینے کی استدعا کی۔

عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ آپ کل سے دلائل کا آغاز کردیں، اگر آپ کو لمبا وقت چاہیے تو ہم کل سزا معطل کر دیتے ہیں، آپ پھر جتنا مرضی ٹائم لے لیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔