سندھ ہائی کورٹ : پی ٹی اے کو ایکس کی بندش کی معقول وجہ بتانے کا حکم

کورٹ رپورٹر  بدھ 17 اپريل 2024
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

  کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا ایپ ایکس کی بندش سے متعلق درخواستوں پر پی ٹی اے کو بند کرنے کی معقول وجہ بیان کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو سوشل میڈیا ایپ ایکس کی بندش سے متعلق درخواستوں پرر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل جعفری نے موقف دیا کہ ہماری درخواست پر پی ٹی اے نے جواب جمع کرایا ہے، انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ایکس کو 18 مارچ سے بند رکھا ہوا ہے وزرات داخلہ کی ہدایت پر ایسا کیا گیا ہے، تاہم پی ٹی اے نے وجوہات نہیں بتائیں۔

وکیل جعفری نے کہا کہ ہمیں وجوہات نہیں بتائی گئیں اور اب یہ اعتراف کررہے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے آپ کے سامنے صورتحال ہے، آپ نےحکم بھی دیا لیکن معاملہ حل نہیں ہوا، 22 مارچ  کو پی ٹی اے کے وکیل نے تحریری جواب جمع کرایا تھا کہ پہلے بندش تھی، جلد بحال کردیا جائے گا مگر پنڈی کے کمشنر نے دھاندلی کے الزامات لگائے اس کے بعد ایکس کو بند کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت کے پاس ایکس کی بندش کے سوا کوئی راستہ نہیں، وزارت داخلہ

 

ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ میرا ایکس بالکل ٹھیک چل رہا ہے کل تک استعمال کیا۔ چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ اس حوالے سے حلف  نامہ جمع کرادیں کہ ایکس اور انٹرنیٹ بالکل صحیح چل رہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرا خیال ہے کہ وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کا جواب آجانے دیں اس کے بعد کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ایکس کے حوالے سے کیا کرنا چاہیے۔

درخواست گزار کی وکیل نے موقف دیا کہ ماضی میں ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ اور دیگر واقعات پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بندش مخصوص دنوں کیلئے بند کی جاتی تھی لیکن ایکس کی بندش کےمعاملے پرایسا کوئی جواز موجود نہیں۔

چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمیں شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم آرڈر کرتے ہیں لیکن اس پرعمل درآمد نہیں ہوتا یہاں سب کچھ آپ لوگوں اور وزارت داخلہ کے لوگوں کو پتا ہے لگتا ایسا ہی ہے نہ ججوں کو کچھ پتا ہے صحیح غلط کیا ہے نہ صحافیوں کو نہ ہی وکلاء کو، نیشنل انٹرسٹ کا پتا ہے، سب کچھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پتا ہے ہم پھر بھی آپ کو موقع دے رہے ہیں اس پر واضح جواب جمع کرائیں کیوں بندش ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا معمولی سا معاملہ ہے سب دنیا آپ کی باتوں پر ہنستی ہے اس پر آپ اداروں سے ڈائریکشن لے لیں اور مناسب جواب جمع کرائیں، پہلے جو جواب جمع کرایا گیا ہے اس حوالے سے تو اسے دوبارہ دیکھ لیں کوئی تبدیلی کرنی ہے تو وہ بھی دیکھ جمع کرائیں۔

درخواست گزار کے وکیل جعفری نے موقف اپنایا کہ لوگ اب وی پی این سرور سے سوشل میڈیا چلا رہے ہیں اب اس سے پی ٹی اے کو بھی مالی نقصان ہورہا ہے ایکس کے ذریعے سے آپ حکومتی سربراہان، کسی بھی حوالے سے لاکھوں لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں تو نارمل موبائل فون استعمال کرتا ہوں فون پر بات کرلی یا پھر میسج کردیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ اگر کوئی متنازع مواد ڈال رہا ہے تو اسے بلاک کرنے کے ساتھ جرمانے کا اختیار جرمانے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس ہے۔

چیف جسٹس نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ متنازع مواد بلاک کرنے کا اختیار نہیں رکھتے؟ پی ٹی اے کے وکیل نے موقف دیا کہ ہم وزارت داخلہ کے کہنے پر بلاک کرنے سمیت مواد ہٹانے کا اختیار رکھتے ہیں براہ راست نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ صرف برازیل میں ایکس مکمل بند ہے باقی پوری دنیا میں چل رہا ہے، بھارت نے جب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے دوران ایکس بند کیا تو عدالتوں نے اسے کھلوادیا، ہم کراچی میں اسے نہیں کھلواسکتے۔

چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے سوال کیا حساس اداروں کی بات کریں اگر ان کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو کیا فوری بندش کا ری ایکشن آتا ہے؟ درخواست گزار وکیل نے موقف دیا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے اور متنازع بیان اور مواد پوسٹ کرنے والے کے خلاف 24 گھنٹوں میں کارروائی کی جاتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آئی ایس آئی، ایم آئی کبھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی یہ تو منسٹری کا فیصلہ ہوتا ہے۔ عدالت نے ایک ہفتے میں ٹوئٹر ایکس کی بندش سے متعلق جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے حکم دیا کہ 20 مارچ کو عدالت میں جمع کرائے گئے جواب کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ عدالت نے پی ٹی اے کو سوشل میڈیا ایپ ایکس بندش کی معقول وجہ بیان کرتے ہوئے جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 9 مئی تک ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔