خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 36 افراد جاں بحق، 46 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

ویب ڈیسک  جمعـء 19 اپريل 2024
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

 پشاور: خیبرپختونخوا میں مسلسل جاری بارشوں کے نتیجے میں اب تک 36 افرادجاں بحق جبکہ 46 افراد زخمی ہوئے اور چھتیں اور دیواریں گرنے سے  2391 مکانات کو نقصان پہنچا۔

پی ڈی ایم اے نے خیبرپختونخوا میں تیز بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز بارشوں کے باعث ہونے والے حادثات کے نتیجے میں اب تک 36 افرادجاں بحق  اور 46 افراد زخمی ہوئے ہیں, جاں بحق افراد میں 20 بچے،  8 مرد اور 8 خواتین جبکہ زخمیوں میں 9 خواتین، 33 مرد اور 11 بچے شامل ہیں۔

مختلف اضلاع میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے مجموعی طور 2391 مکانات کو نقصان پہنچا جس میں 388 گھروں کو مکمل جبکہ 2003 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

تیز بارشوں کے باعث جانی و مالی حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع خیبر، دیر اپر و لوئر، چترال اپرولوئر، سوات، باجوڑ، شانگلہ، مانسہرہ، مہمند، مالاکنڈ، کرک، ٹانک، مردان، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، بونیر، ہنگو، بٹگرام، بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان،کوہاٹ، ڈی آئی خان اورکزئی میں  پیش آئے جہاں مسلسل بارش سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی ہدایت پر پی ڈی ایم نے حالیہ بارشوں میں متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کی مالی امداد اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 110 ملین روپے جاری کیے۔

ترجمان  پی ڈی ایم اے  کے مطابق  اتھارٹی کی جانب سے متاثرہ اضلاع سوات، چترال لوئر ،باجوڑ، کوہستان لوئر، پشاور، نوشہرہ، مہمند، دیر اپر، ٹانک اور ڈی آئی خان کو امدادی سامان فراہم کر دیا گیا، جس میں خیمے، چٹائیاں،کچن سیٹ،کمبل، بستر،ترپال، سولر لیمپس اور دیگر روزمرہ زندگی کی اشیاء شامل  ہیں۔

پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 20 اپریل تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

خیبر پختونخوا کے بیشتر دریاؤں میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور مسلسل بارش سے سیلاب کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے نے متوقع بارشوں کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو پہلے سے ہی الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے مراسلہ جاری کردیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔