پنجاب میں 52 غیر رجسٹرڈ شیلٹر ہومز موجود، یتیم بچوں کا مستقبل سوالیہ نشان

آصف محمود  ہفتہ 20 اپريل 2024
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

 لاہور: پنجاب میں یتیم، لاوارث اور بے سہارا بچوں کی پرورش کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر 76 شیلٹرہوم کام کر رہے ہیں، غیر سرکاری شیلٹر ہومز میں کتنے بچے مقیم ہیں اور یہ بچے کہاں سے لائے گئے کسی بھی سرکاری ادارے کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نجی شیلٹر ہومز کی بڑی تعداد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے اس کی وجہ سے ان شیلٹر  ہومز میں پرورش پانے والے سیکڑوں بچوں کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

چائلڈ پرویکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے گزشتہ دنوں لاہور کے علاقہ گجومتہ میں ایک یتیم خانہ سے 32 کم سن بچوں کو ریسکیوکیا تھا۔ ان بچوں میں 18 لڑکے جبکہ 14 لڑکیاں ہیں اور ان کی عمریں تین سے 12 سال تک ہیں، گھرانہ یتیم خانہ نامی اس شیلٹرہوم کو سربمہر اور اس کی سربراہ کو گرفتار کرلیا گیا تھا تاہم صوبے میں اب بھی کئی شیلٹرہوم ایسے ہیں جہاں بچوں کو برے حالات میں رکھا جاتا ہے۔

ایکسپریس ٹربیون کو حاصل شدہ دستاویزات اور معلومات کے مطابق پنجاب میں اس وقت 76 ادارے بچوں کو شیلٹر فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے 15 ادارے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور 9 ادارے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے زیرانتظام ہیں جبکہ 52 غیرسرکاری این جی اوز ہیں جو بچوں کی تعلیم وتربیت کے ساتھ ان کو قیام کی سہولت بھی فراہم کررہی ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے تمام 52 این جی اوز کو نوٹس جاری کیے کہ وہ خود کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے پاس رجسٹرڈ کروائیں اور تفصیلات فراہم کریں کہ ان کے پاس کتنے بچے زیرکفالت ہیں، ان میں میل اور فی میل بچوں کی تعداد کتنی ہے ان بچوں کی عمریں اور دیگر کوائف فراہم کیے جائیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کو حاصل شدہ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک صرف 30 این جی او ز/ شیلٹر ہومز نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کروائیں۔ ان میں سے 27 درخواستیں این او سی کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو بھیجی گئیں لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ اسی طرح 19 این جی اوز/ شیلٹر ہومز کو نوٹس بھیجے جاچکے ہیں جبکہ اب تک صرف ایک این جی او کو لائسنس جاری ہوا ہے اور دو کے لائسنس جاری ہونے کا عمل زیرالتوا ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے پاس اب تک صرف ایک ادارہ رجسٹرڈ ہوسکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سوشل ویلفیئر کے یتیم اور لاوارث بچوں کے اپنے ادارے بھی چائلڈ پروٹیکشن ویلفیئر بیورو کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی رکن اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا ” بے سہارا اورعدم توجہی کا شکار بچوں کے ترمیمی ایکٹ 2017ء کی شق 20 اے کے تحت پنجاب میں لاوارث، بے سہارا اور یتیم بچوں کو قیام کی سہولت فراہم کرنے والی این جی اوز کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے پاس بھی رجسٹرڈ کروائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں کام کرنے والے تمام یتیم خانوں/شیلٹرہومز کو رجسٹریشن کروانے کے لیے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ متعدد اداروں نے درخواستیں جمع کروائی ہیں اور ان کی رجسٹریشن کا عمل پراسیس میں ہے۔

سارہ احمد نے کہا ایسے ادارے جو بچوں اور بچیوں کو شیلٹر فراہم کررہے ہیں ان کے خلاف شکایت ملنے کی صورت میں کارروائی کی جاسکتی ہے۔ جس طرح گجومتہ میں ایک غیرقانونی یتیم خانہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

 

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم، سرچ فارجسٹس کی پروگرام کوآرڈی نیٹر راشدہ قریشی نے ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے کہا یہ حیران کن ہے کہ کوئی ادارہ کسی قانونی اختیار کے بغیر کیسے بچوں کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض افراد نے بچوں کو شیلٹرفراہم کرنے کے کام کو کمائی اور ناجائزذرائع سے حاصل دولت کو چھپانے کا ذریعہ بنارکھا ہے، چائلڈپروٹیکشن بیورو جب خود اسپیشل عدالت سے بچوں کی کسٹڈی کی اجازت لیتا ہے تو کسی این جی او اور کسی فرد کو یہ اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے گھر میں بچوں کو رکھے۔

راشدہ قریشی کہتی ہیں یہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی ذمہ داری کہ وہ بچوں کو شیلٹر فراہم کرنے والے تمام اداروں کو رجسٹرڈ کرے، شیلٹرہومز کے لئے ایس او پیز بنائے جائیں کہ بچوں کو کس طرح کی رہائش، کھانا، تعلیم اور ہنر فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کئی ادارے ہیں جو بچوں کو بہترین شیلٹر اور سہولیات فراہم کر رہے ہیں ان اداروں کی رجسٹریشن کے لئے صرف کوآرڈی نیشن بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔