قصوں کے میلے سے کچھ سوغاتیں

محمد علی عمران خان  اتوار 21 اپريل 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

 (حصہ سوم )

مرزا غالبؔ کے جواںمرگ لے پالک بیٹے زین العابدین خاں عارفؔ کی وفات کے بعد مرزا ان کے دونوں بیٹوں حسین علی خاں شاداںؔ اور باقر علی خاں کاملؔ کو اپنے پاس لے آئے۔ دونوں کو مرزا کی صحبت جو میسر آئی تو شعر و سخن کا ذوق بھی نکھرنے لگا۔ ان دنوں شہر دلی کے اجڑنے پر شہرآشوب کہنے کا چلن زوروں پر تھا۔

ایک روز مرزاغالبؔ آٹھ یا نو برس کے حسین علی خاں کو مخاطب کرکے کہنے لگے،’’شاداؔں! تو نے میرا نام ڈبو دیا، غالب ؔکا پوتا اور ایسا کوڑھ مغز کہ ایک شعر بھی نہیں کہتا!‘‘شاداں ؔنے جواب دیا،’’دادا جان! آپ فکر نہ کریں، ہم ضرور شعر کہیں گے۔ ‘‘ چند روز بعد مرزا غالبؔ کی زیرِسرپرستی مشاعرہ ہوا اور حسب ِروایت بیشتر شعراء نے دلی کی تباہی اور بربادی پر پُرسوز لہجے میں نظمیں پڑھیںِ۔ نتیجہ یہ کہ مشاعرے پر سوگ کی فضا چھاگئی اور اہالیان مشاعرہ پر افسردگی کا عالم طاری ہوگیا۔ اسی دوران غالبؔ نے اپنے ساتھ موجود شاداںؔ کو پڑھنے کا اشارہ کیا، مجمع کی آنکھیں اسی نور نظر پر لگ گئیں۔ شاداںؔ نے تسلیمات و آداب کے بعد مطلع پڑھا:

؎خوب ہوا! مٹ گیا جو نام و نشانِ دہلی

میری پاپوش بنے مرثیہ خوانِ دہلی

شعر کا پڑھنا تھا کہ مشاعرے میں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی، روتے ہوئے لوگ ہنس پڑھے، غالبؔ نے اپنے ہونہار پوتے کو گلے لگا کر پیار کیا۔

علامہ اقبالؔ۱۹۱۲ء میں لکھنؤ گئے تو میرانیس ؔکے نواسے پیارے صاحب رشید ؔلکھنوی سے بھی ملے۔ میر انیس ؔکے خانوادے کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے اردو شاعری میں روزمرہ اور محاورے کے ذریعے بیان کی سلاست اور الفاظ کی سادگی کو متعارف کروایا۔

پیارے صاحب کی فرمائش پر علامہ اقبالؔ نے انہیں اپنی مشہورِ زمانہ غزل،’’کبھی اے حقیقتِ منتطر نظر آ لباسِ مجاز میں‘‘سنائی۔ غزل سن کے پیارے صاحب ساکت ہو گئے، اور چند ثانیے توقف کے بعد بولے،’’اب کچھ اردو میں بھی ارشاد ہو؟‘‘ علامہ اقبالؔ کی اسی بھاری بھرکم لفاظی پر طنز کرتے ہوئے مزاحیہ شاعر سید اولاد حسین شاعرؔ لکھنوی اپنی ایک نظم میں موٹی عورت کا سراپا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مالوہ کی ایک کیری وہ بھی اونچی ڈال کی

چار کے کاندھوں پہ آجائے تو پوری پالکی

’’اتنی موٹی جتنی اردو حضرتِ اقبالؔ کی!!‘‘

اردو کے معروف ادیب علی رضا عابدی اپنی کتاب ’’جانے پہچانے‘‘ میں لکھتے ہیں،’’ایک مرتبہ کراچی سے کچھ دور ٹھٹھہ کے ایک گاؤں میں رات بِتانے کا اتفاق ہو۔ کھلے آسمان تلے سفید سفید، ٹھنڈی ٹھنڈی چادر والے بستر پر سر ٹکایا ہی تھا کہ پھر ہمیں اپنی خبر نہ رہی۔ صبح پو پھٹنے سے پہلے میرے بالوں میں کسی نے آہستہ سے انگلیاں پھیریں۔ میں گھبرا کے اٹھ بیٹھا۔ وہ بادِسحر تھی، جو زمین سے لگی لگی تیر رہی تھی، گنے کے کھیتوں میں سرسرا رہی تھی، کچھ ہی فاصلے پر موجود نہر میں ننگے پاؤں اتر رہی تھی، اور نہر کی لہروں کو یوں تھپتھپا رہی تھی جیسے وہ کسی شیرخوار بچے کے نرم رخسار ہوں۔

پورے ماحول پر ایک شیریں لطف کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ ہوا گنے سے بھرے کھیتوں کے پتوں سے ٹکرائی تو یوں سرسراہٹ سنائی دی جیسے کوئی ہلکی ہلکی سرگوشیاں کر رہا ہو، کومل کومل سی روشنی پھیلا چاہتی تھی، اِدھر درختوں نے ادھ کھلی آنکھوں سے بیدار ہونا شروع کیا، اُدھر افق نے انگڑائی لینا شروع کی، ماحول کا بیان دھیرے دھیرے لفطوں کی بجائے احساس کی زبان میں ڈھلتا جارہا تھا کہ میں نے قریب سوئے ہوئے اپنے دوست کو جگا یا اور کہا،’’اٹھو، سنو، قدرت اردو بول رہی ہے۔‘‘

قیصر عثمانی اپنی کتاب ’’یادوں کا سفر‘‘ میں لکھتے ہیں، کراچی میں آرزوؔ لکھنوی صاحب سے ملاقات کے لیے ان کے فلیٹ پر گیا تو وہاں ان کے شاگرد پرتوؔ لکھنوی، احسن رضوی اور دیگر صاحبان ذوق موجود تھے۔ دوران گفتگو میں نے ان دنوں فلم ’زینت‘ میں نخشب ؔجارچوی کی تحریر کردہ درج ذیل مشہور قوالی کا ذ کر کیا:

؎آہیں نہ بھریں شکوے نہ کیے کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا

ہم دل کو پکڑ کر بیٹھ گئے، ہاتھوں سے کلیجہ تھام لیا

آرزو ؔقوالی کا مطلع سن کر معنی خیز مسکرائے اور کہنے لگے، ’’زینت فلم‘‘ کی اس قوالی کے لیے نخشب ؔنے میری ایک غزل کے مطلع کا کس طرح ستیاناس کیا ہے اس کا آپ خود اندازہ لگا لیں۔ میری غزل کا مطلع ہے:

؎بیکاریٔ فرقت میں ہم نے ہاتھوں سے نہ کیا کیا کام لیا

اٹھے تو سنبھالے دل اٹھے، بیٹھے تو کلیجہ تھام لیا

لطائف الشعراء میں مفتی انتطام اللہ شہابی لکھتے ہیں ’’ایک روز اکبر کے وزیر عبدالرحیم خان خاناں کی سواری چلی جا رہی تھی کہ رستے میں ایک غریب نے، جو صورت سے خاندانی شریف معلوم ہوتا تھا، ایک سفید شیشی جس میں ایک بوند پانی موجود تھا، اسے خان خاناں کے سامنے جھکایا اور جب پانی گرنے کو ہوا تو شیشی کو سیدھا کر دیا۔

خان خاناں نے اسے حاضردربار ہونے کا کہا اور بعدازآں انعام و اکرام دے کر باعزت رخصت کیا۔ درباریوں نے ماجرا پوچھا کہ اسے رقم کیوں دی جب کہ اس نے تو ظاہراً مالی مدد کا سوال ہی نہیں کیا؟ جس پر خان خاناں بولے،’’تم نہیں سمجھے، یہ شرفاء کا طرزسوال تھا، اس کا مطالبہ تھا کہ ایک بوند آبرو بچ گئی ہے، اور وہ بھی اب گرا چاہتی ہے، سو مدد کیجیے۔‘‘

سید مقصود زاہدی اپنی کتاب ’’یادوں کے سائے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مولوی عبدالسلام ندوی کے حضور، میں نے علامہ اقبالؔ کا درج ذیل شعر پڑھا:

؎کافر بیدار دل پیشِ صنم

بہ ز دیندارے کہ خفت اندر حرم

( یعنی پتھر کے بتوں کے روبرو کا فر کا بیدار دل، حرم کے اندر سوئے ہوئے دین دار کے دل سے بہتر ہے) مولوی صاحب جانے مزاج کی کس ر و میں تھے کہ شعر کے بخیے ادھیڑنے شروع کر دیے۔

فرمانے لگے،’’اس شعر کے ظاہری محسن و مطالب تو قابل توجہ ہیں، مگر جن اصطلاحات کو شعر میں پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بالکل بعید ہیں۔ مثلاً بیدار دل انسان کبھی کافر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی سکونِ قلب کی خاطر اپنا سر پتھروں سے پھوڑتا ہے، نہ ہی اس کا دامنِ شعورصنم کدے سے آلودہ ہوسکتا ہے۔ اور جو حقیقی دین دار ہو وہ کبھی حرم میں غفلت کا شکار نہیں ہوسکتا، کیوںکہ اس کے تصور اور شعور میں ہمہ وقت روح ِ کبریا چھائی رہتی ہے اور وہ اپنے شعوری اور غیرشعوری لگاؤ کے سبب ہمہ وقت ایک ہی جہت کی طرف گام زن نظر آتا ہے، اور وہ جہت صرف ذات ِ باری یا روحِ کائنات سے قربت کا حصول ہوتا ہے۔ اقبال مرحوم نے اس شعر کافر و دین دار کی اصطلاحات کو جن معنوں میں استعمال کیا ہے اس کا ایک صاحبِ فکر کے ذہن پر بالکل الٹا اثر مرتب ہوتا ہے۔‘‘

کتاب حبیب جالب، شخصیت و شاعری کتاب کے مصنف نند کشور وکرم اپنی مذکورہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ فراق صاحب کے زمانۂ شاعری مین ایک ایسا دور بھی آیا کہ وہ لاشعوری طور پر میر تقی میر کے انداز شاعری سے بہت زیادہ متاثر رہنے لگے، یہاں تک کہ ان کے کلام پر میر صاحب کی چھاپ واضح نظر آنے لگی۔ ان کی دیکھا دیکھی دھیرے دھیرے میر پرستی کا یہ رجحان دیگر شعراء پر بھی اثرانداز ہونے لگا۔ اس دوران دلی میں فراق صاحب کی زیرصدارت ہونے والے آل انڈو پاک مشاعرے میں، حبیب جالب نے اپنی غزل کا مطلع پڑھا:

؎جس کی آنکھیں غزل ہر ادا شعر ہے                                                                                    وہ میری شاعری ہے مرا شعر ہے

چند اشعار پڑھنے کے بعد جالب نے فراق صاحب کو داد طلب انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا،’’فراق صاحب شعر دیکھیے گا! یہ کہہ کر درج ذیل شعر پڑھا:

؎اپنے انداز میں بات اپنی کہو

میر کا شعر تو میر کا شعر ہے!!

یادداشتوں پر مبنی کتاب’’مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا‘‘ میں خلیق انجم، جمیل جالبی کا خاکہ تحریر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں،’’معروف محقق اور مصنف جمیل جالبی صاحب میںایک بڑا ادیب بننے کے آثار بچپن ہی سے موجود تھے۔ طاہر مسعود کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جمیل صاحب بتاتے ہیں کہ مجھے اوائل عمری ہی سے مصنف بننے کا بڑا شوق تھا۔ دوپہر کو جب گھر کے سب لوگ سوجاتے تو میں غسل خانے میں چھپ کر کاپیوں کے اوراق پھاڑ کر ان پر نصابی کتب کا متن تحریر کرتا، پھر ان اوراق کو اکٹھا کرکے ایک کتاب بناتا اور کتاب پر بطور مصنف اپنا نام محمد جمیل خان لکھ دیتا۔ میرے اس عمل پر میرے والد تو خوش ہوتے مگر باقی سب گھر والے مجھے ڈانٹ ڈپٹ کرتے۔ یہی شوق بالآخر میری منزل مقصود بنا۔‘‘

ادباء اور شعراء کے خاکوں پر مبنی کتاب سرخاب میں عرفان جاوید، امجد اسلام امجد کا خاکہ تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک نجی محفل میں امجد صاحب نے ادب کی زوال پذیری کے تناظر میں احسان دانش کے ساتھ پیش آنے والا ایک حقیقی واقعہ کچھ اس طرح سنایا، ایک مرتبہ ایک اجنبی نوجوان اپنی ایک غزل میرے پاس برائے اصلاح لے کر آیا جس کا مطلع کچھ یوں تھا:

؎میں نہ سمجھا ہوں نہ سمجھوں گا نہ سمجھاؤ مجھے

بس خدا کے لیے آگے سے سرک جاؤ مجھے

میں نے کہا کہ مطلع کا مصرعہ اول تو ٹھیک ہے مگر مصرعہ ثانی میں ردیف مجھے کچھ برمحل معلوم نہیں ہوتا۔ اس پر اس نوجوان نے مجھے غضب ناک اور تاسف آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا، کمال ہے! آپ اتنے بڑے شاعر ہیں اور آپ کو یہ تک بھی معلوم نہیں کہ ردیف آخر میں ضرور آتی ہے۔

کتاب ’’فراق گوؔرکھپوری، یادوں کے جھروکوں میں‘‘ میں مطرب ؔنظامی لکھتے ہیں، ایک بار میں نے تیزی سے مقبول ہوتے ہوئے شاعر بشیر بدر کا ایک مشہور زمانہ شعر فراق ؔصاحب کو سنایا:

؎اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے

شعر سن کر فراقؔ صاحب بولے، معاف کیجیے گا! آپ نے کوئی شاہ کار شعر نہیں سنایا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے آج سے چالیس سال قبل بدایوں کے ایک شاعر نے یہ شعر یوں پڑھا تھا:

؎کفن باندھے ہوئے اس واسطے پھرتا ہوں میں سر سے

نہ جانے کس جگہ پر زندگی کی شام ہوجائے!!

بشیر صاحب موصوف نے مصرعہ ثانی پر ایک نیا مصرعہ لگا دیا ہے جب کہ دوسرے مصرعہ میں ’’زندگی کی گلی‘‘ نامی ترکیب متعارف کروائی ہے جو انگریزی زبان سے مستعار شدہ ہے۔ اردو میں اگر آپ ’’زندگی کی گلی‘‘ کہیں گے تو پھر اردو میں زندگی کا فٹ پاتھ، مین روڈ، اور چوراہا بھی ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں موت آنے کے لیے صرف گلی کا تعین کرلینا معنوی اور لفظی محل صرف کی بنا پر بھی غلط ہے، کیوںکہ موت کے لیے جس طرح وقت کا تعین نہیں کیا جاسکتا اسی طرح جگہ کو بھی متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اب دوسرا مصرعہ دیکھیے، ’’اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو‘‘، محبوب ہم سے بے اعتنائی کر سکتا ہے لیکن اپنی یادوں کو ہم سے اس لیے نہیں چھین سکتا کیوںکہ یادوں کا تعلق ہم سے ہے۔

لہٰذا جس کو ہم یاد کرتے ہیں وہ ہمیں بھلا تو سکتا ہے مگر ہمارے دل سے اپنی یادیں فراموش نہیں کر سکتا۔ اور جب یادیں فراموش نہیں کر سکتا تو اجالے فطری طور پر یادوں کے ساتھ رہیں گے، اب جو شئے لازم و ملزوم ہے ان میں سے کسی ایک شئے کا مانگنا یعنی فقط اجالے کی آرزو کرنا بذاتِ خود غلط ہے، یوں شعر کو تخیلی لباس سے آراستہ کرنے کے چکر میں معنوی طور پر شعر کو برہنہ کر دیا ہے۔

محمد باقر شمس اپنی کتاب ’’تاریخ لکھنؤ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ معروف شاعر منشی نوبت رائے نظر ؔلکھنوی نے اپنے جواں سال بیٹے کی وفات پر ایک شخصی مرثیہ تحریر کیا جو تاریخ ادب کا شاہ کار مانا جاتا ہے۔ اس کا آخری بند ہے:

؎ہزاروں ناز سے اس لخت ِ دل کو پالا تھا

کبھی نہ دھوپ میں باہر اسے نکالا تھا

اسی سے خانہ تاریک میں اجالا تھا

قمر تھا یہ تو نظرؔ اس قمر کا ہالہ تھا

مجھے بھی دفن کرو اس کے ساتھ تربت میں

یہ کس طرح سے اکیلا رہے گا غربت میں

اس بند کا ایک خاص اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ شاعر ہندو ہے، جس کے یہاں مردے جلائے جاتے ہیں، لہٰذا اسے کہنا چاہیے تھے کہ ’’مجھے بھی اس کے ساتھ جلا کر راکھ کر دو‘‘ مگر چوںکہ جلانے سے جسم راکھ ہو کر فنا ہوجاتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی دردوغم کا تصور بھی ختم ہوجاتا ہے، جب کہ دفنانے سے جسم محفوظ اور تا دیر باقی رہتا ہے، اس لیے جسمانی اتصال کی جو حسرت بیت کے آخری مصرعہ میں کی گئی ہے، اس کی عملی صورت ممکن ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں غم کے تسلسل اور اس کی ہمیشگی کا خیال بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔

تنویر احمد اپنی کتاب ’’یادیں یاد آتی ہیں‘‘ میں رقم طراز ہیں، جاسوسی ناول نگاری کے معروف نام ابنِ صفی نے ساتویں جماعت میں ایک کہانی ’’ناکام آرزو‘‘ کے نام سے لکھ کر عادل رشید کے زیرادارت بمبئی سے شائع ہونے والے رسالے کے لیے بھیجی۔ کہانی کی شان دار بنت اور الفاظ و تخیل کی پختگی سے دھوکا کھاکر رسالے کے مدیر نے بطور کہانی نویس ان کا تعارف اس طرح لکھا،’’نتیجۂ فکر: مصور جذبات، حضرت اسرارؔ ناروی۔‘‘ شائع شدہ کہانی جب ابن صفی کے اہل خانہ تک پہنچی تو گھر میں معصوم کہانی نویس کی شامت یوں آئی کہ انہیں اس طرح کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا،’’ارے او مصورِجذبات! ذرا ایک گلاس پانی لانا!‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔