وقت بدل رہا ہے۔۔۔ آپ بھی بدل جائیے!

مبشرہ خالد  منگل 23 اپريل 2024
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

میں اگر آج سے پندرہ، بیس سال پیچھے چلی جاؤں، تو انٹرنیٹ کی فراہمی کارڈ سے ممکن تھی اور نیٹ کا استعمال محدود تھا، مگر آج گھر گھر میں نیٹ ڈیوائس موجود ہے اور چوبیس گھنٹے نیٹ کی فراہمی ہے اس لیے بچے ہو یا بڑے اپنے ضرورت کے تحت اسے استعمال کرتے ہیں چونکہ ہر چیز کے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں۔

بالکل اسی طرح نیٹ کی لامحدود فراہمی کی وجہ سے اب ان موضوعات پر بھی بات ہوتی ہے جن کے بارے میں پہلے کوئی بات نہیں کرتا تھا یا کم کرتا تھا۔ اس میں اچھی پرورش اور بری پرورش جیسے موضوع پر بھی بہت سی مختلف ویڈیو موجود ہیں اور اس موضوع پر اب زیادہ لکھا اور پڑھا جا رہا ہے۔

انھی صفحات پر اس موضوع پر تحریر ایک تحریر چھپی کہ ’لڑکوں کی بھی تربیت کرنی چاہیے‘ اور میں آج اسی موضوع پر مختلف انداز میں بات کرنا چاہوں گی۔ چوں کہ اب وہ وقت یقینی طور پر آچکا ہے کہ تربیت کا مرکز صرف لڑکیاں نہ ہوں، بلکہ لڑکے بھی ہوں۔ اس لیے کہ زندگی میں شادی کے بندھن میں بندھ کر ان دونوں کو ہی ایک گاڑی کے دو پہیے بن کر زندگی گزارنی ہوتی ہے۔

ہم جس معاشرہ کا حصہ ہیں، وہاں لڑکیوں کو پرایا دھن کہا جاتا ہے۔ اس لیے وہ بچپن سے سنتی ہیں ’’کل کو بیاہ کر دوسرے گھر جانا ہے، اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرو گی، ہانڈی روٹی پر توجہ دو!‘‘ اس لیے اگر کو ئی لڑکی گھرداری میں دل چسپی نہ لے، تب بھی ماؤں کی کوشش یہیں ہوتی ہے کہ کوئی جادو کی چھڑی گھما کر اس لڑکی کو گھر داری کی اہمیت کا احساس دلائیں، تاکہ وہ گھر کے کام کاج کرے۔

مگر اسی معاشرے میں لڑکوں کو گھر کا کو ئی کام سرانجام نہیں دینے کے لیے یہ نہیں کہا جاتا کہ وقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا، آج ماں اور بہن موجود ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم زندگی گزارنے کا طور طریقہ نہیں سیکھو، بلکہ الٹا ہماری مائیں کہتی ہیں لڑکیِ باورچی خانے میں نہیں آتے۔۔۔ اور تم رہنے دو، کمرا سمٹ جائے گا۔۔۔ تم کیوں کپڑے استری کروگے؟ یہ سب کام عورتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میں ان ماؤں سے کہنا چاہوں گی، آئیے مل کر تربیت کا انداز بدلیں اور اپنے بیٹوں کی زندگی ان کے لیے اور اپنے لیے آسان کریں۔

1) کمرا سمیٹنا

عمومی طور پر لڑکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ اپنے کپڑے، کتابیں اور دیگر استعمال کی چیزیں کمرے میں پھیلا کر رکھتے ہیں اور ماؤں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہیں کہ کمرا صاف کرتے ہوئے چیزیں سمیٹ کر رکھیں اور پھر جب چیزیں ادھر ادھر ہوجاتی ہیں تو پھر وہ اس پر چڑچڑے بھی ہوتے ہیں اور گھر میں چیخ پکار بھی کرتے ہیں۔ اس لیے چھوٹی عمر سے بیٹوں کویہ بات سمجھائیں کہ وہ چیزیں سمیٹ کر رکھیں، اور چیزوں کو اپنے ٹھکانے پر رکھنے کی عادت ڈالیں، تاکہ دوسروں کا کام بھی نہ بڑھے اور انھیں خود بھی سہولت رہے۔

2)کھانا پکانا

لڑکوں کا چائے بنانے اور انڈا تلنے سے بھی بے بہرا ہونا سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ بات بھی کہ لڑکوں کا کچن میں کوئی کام نہیں ہوتا، اس لیے وقت بے وقت، ضرورت پڑنے پر بھی کچھ نہیں کرنا، جیسا رویہ قطعی درست نہیں ہے۔ اس لیے اپنے بیٹوں کو یہ سمجھائیے کہ کچن میں آنا ان کی اناکو قطعی مجروح نہیں کرے گا، اس لیے وہ بھی آپ کی مدد کریں، تاکہ کل کو کبھی ایسا موقع ہو تو وہ سب کچھ خود کر سکے۔

3)کپڑے دھونا اور استری کرنا

آج کے مشینی دور میں ہر گھر میں کپڑے دھونے کے لیے مشین موجود ہے، اس کے باوجود لڑکوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ میلے کپڑے کمرے میں ڈال کر چلے جاتے ہیں، ایسے میں کم از کم یہ عادت ہونی چاہیے کہ میلے کپڑے ڈرم میں یا پھر مشین میں ڈالے اور اگر آپ کے گھر میں کپڑے استری کرنے ماسی نہیں آتی تو پھر تو یقینی طور پر چودہ، پندرہ سال کی عمر سے بیٹوں کو کپڑوں پر استری کرنی سکھائیے، تاکہ وہ اپنے کپڑے استری کرنے کے معاملے میں خود مختارہوں۔

(4الماری کی ترتیب

وہ مائیں جو بیٹوں کو لاڈ و پیار سے پالتی ہیں وہ ہی ان کی الماریاں اور دیگر چیزیں سیٹ کر کے رکھتی ہیں اور اگر وہ نہ کریں، تو الماری کا حال تو پھر نہ پوچھیے۔ اس لیے بہتر ہے بچپن سے چھوٹی الماریوں میں بیٹوںکا سامان رکھیے اور ان کو اس بات کا عادی بنائیے کہ وہ خود اپنی الماری سیٹ کریں اور آپ پر انحصار نہ کریں۔

(5چائے کی پیالی

اکثر و بیش تر یہاں ماسیوں سے برتن دھلوانے کا رواج ہے، مگر ہم پاکستانی چائے پینے کے اتنے شوقین ہیں کہ دن میں دو سے تین بار چائے بنتی ہی اور پھر لڑکے اپنی جھوٹی پیالی تک دھونا گوارا نہیں کرتے اس لیے یہ کام بھی مائیں اور بہنیں سرانجام دیتی ہیں۔ اس لیے ان کے پاس گھر کے کام ہی اتنے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے لیے وقت نہیں ہوتا اس لیے بہتر ہوگا کہ وہ بیٹوںکو کہیں کہ دن میں کسی بھی وقت وہ چائے کی کوئی پیالی استعمال کریں یاپھر کوئی اور برتن وہ اسے خود دھو کر رکھیں، تاکہ آپ کے لیے آسانی ہو اور انھیں بھی چھوٹے چھوٹے کاموں کو خود کرنے کی عادت ہو۔

کچھ باتیں سن کر یا پھر پڑھ کر عجیب محسوس ہوتی ہے کہ پاکستانی ماؤں کو اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ اپنی تربیت کا انداز بدل ڈالیں، مگر سچ تو یہ ہے کہ آج کے جدیدیت کے دور میں پوری دنیا میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور وہ قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، جو تبدییلیوںکو قبول کرتی ہیں۔ تبدیلی وقت کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے آپ بھی تبدیل ہوں، اپنی زندگی میں آسانی لائیے اور آنے والی کی زندگی میں جو آپ کے بیٹے کی زندگی کا حصہ بنے گی اس کی زندگی کو بھی سہل بنائیے، کیوں کہ شادی کا مطلب اپنی ذات کی قربانی نہیں، بلکہ ساتھ ہوتا ہے جو خوشیوں سے بھر پور ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔