جج کی دہری شہریت پر ایم کیو ایم، ن لیگ اور آئی پی پی اراکین قومی اسمبلی کی تنقید

ویب ڈیسک  جمعـء 17 مئ 2024
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان ، استحکام پاکستان پارٹی، ن لیگ کے اراکین قومی اسمبلی  نے  کہا ہے کہ اقامہ رکھنے پر ایک منتخب وزیراعظم کو تو گھر بھیج دیا گیا  تو ایک جج کیسے دہری شہریت رکھ سکتا ہے۔

اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے دشمن پاکستان کو لیبیا،عراق اور شام بنانا چاہتے ہیں، ملک میں خلفشار ہے افراتفری ہے ایک اقامہ رکھنے پر عدالت ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیتی ہے، جعلی ڈگریوں پر کئی ایم این ایز اور ایم پی ایزکو فارغ کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ دوہری شہریت سیاستدان نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتا ہے، پتہ چلا ہے کہ ایک جج صاحب بغیر کسی این او سی کے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی چلا رہے ہیں اس معاملے کی تفتیش ہونی چاہیے،۔

استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما  و رکن قومی اسمبلی عون چوہدری کا کہنا ہے کہایک ایسا بحران پیدا کیا جارہا ہے جس سے تاثر جائے عدلیہ میں  مداخلت ہے اور ماتحت عدالتوں پر اے سی آر خراب کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ کیا ادارے کی پگڑیاں اچھالنے والوں سے سوال ہوگا ؟آج کی پریس کانفرنس عدلیہ سے کچھ سوالات کرنے ہیں بطور رکن اسمبلی حقائق سامنے لانا چاہتا ہوں ملک کے حالات بہتر ہونے لگتے ہیں تو سازش شروع ہوجاتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ایک ایسا بحران پیدا کیا جارہا ہے جس سے تاثر جائے عدلیہ میں مداخلت ہے ،کیا ادارے کی پگڑیاں اچھالنے والوں سے سوال ہوگا ؟،عدلیہ سے سوال ہے ایسے کون لوگ ہیں جو عدلیہ اور اداروں کو اپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ آج میڈیا پر اداروں کا ٹرائل ہورہا ہے سوشل میڈیا پر اداروں کو بدنام کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہیے۔

عون چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اداروں کو کمزور کرنے کے لیے مہم چلائی جاتی ہے،وائٹ ہاوٴس میں منصوبے کے تحت پاکستان کی عدلیہ کے حوالے سے سوال کئے گئے سیاست دان اپنا احتساب کرا رہے ہیں، دوہری شہریت پر سیاست دانوں کو نااہل کیا گیا اور میاں نواز شریف کو اقامے پر گھر بھیج دیا گیادہری شہریت کا قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور مداخلت کی تحقیقات ہونی چاہیے، ایک  کمیشن بنا کر ثبوت سامنے لائیں تاکہ ملک میں بحران پیدا کرنے والوں کی نشاندہی ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس، سپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی

انہوں نے کہاکہ ماتحت عدالتوں کے تحفظات دور ہونے چاہیے،  پاکستان میں استحکام آنے کے لیے ہمیں کھڑا ہونا پڑے گاملک کی سالمیت کے لیے ہمیں سوچنا ہوگا،ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر کہتے ہیں ادارے کون ہوتے ہیں، مداخلت کرنے والے ہمارے دائیں بائیں دشمن ہے باڈر پر ہمارے جوان قربانی دے رہے ہیں ہمارے اثاثے ظاہر ہوتے ہیں اس ملک میں انصاف اور عدل قائم ہوگا تو ملک ترقی کرے گاشہداء کے خلاف مہم چلانے  والوں کے خلاف کاروائی کی جائے راتوں کو عدالتیں کھل سکتی ہیں اداروں کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو وہاں بھی انصاف کریں ملک کی نظرے عدالتوں پر ہے۔

عون چوہدری نے مزید کہا کہ کسی کیس میں تین دن  میں ضمانت مل جاتی کوئی سالوں جیل میں ہوتا ہے،قانون  سب کے لیے برابر ہونا چاہیے،  باہر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر فورسز پر اٹیک کرنے والوں کے خلاف قانون بننا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ بیوروکریٹ کو بلا کر عزت اچھالی جاتی ہے عزت ہم سب کی ہے۔

اُدھر ن لیگی رہنما و سابق وفاقی وزیر میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے اورتمام ذمہ داران کو اس کا حصہ بننا چاہیئے۔ نو مئی کے اصل ملزمان کو سزائیں ملنی چاہیئں اور بے گناہوں کو چھوڑ دیا جائے۔ لیکن انصاف ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ بہت سارے ججز دوسروں سے فیصلے لکھوا کر سنا دیتے ہیں، سقوط ڈھاکہ، سانحہ اے پی ایس، سانحہ ایبٹ آباد اور کارگل کی انکوائریاں ہوئی ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے۔   راولپنڈی پریس کلب میں ن لیگی رہنما میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان میں جن لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا آج ان ہی پر تہمت لگائی جا رہی ہے۔ایک فوجی ہونے کے ناطے مجھے یہ بات گراں گزرتی ہے۔نو مئی کا واقعہ ہم سب نے دیکھا میڈیا پر فوٹیج چلی جی ایچ کیو گیٹ سمیت دیگر تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔ ان واقعات نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کہتا ہے ہمیں پاکستان سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہمارے اپنے وہاں آ گئے ہیں۔ ہمارے حساس ادارے اتنا کام کرتے ہیں۔ سیلاب زلزلے میں ہر جگہ فوج کو ہی بلایا جاتا ہے پھر گالیاں بھی دی جاتی ہیں،اپنی افواج کے ہی خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے ، نو مئی کو جو حملے ہوئے جو کیس ہؤا ملٹری کورٹس میں کیس چلتا ہے۔ایک وکیل دیا جاتا ہے جو اسکا دفاع کرتا ہے۔جب انکے خلاف شہادت آ چکی تو انکے خلاف فیصلہ نہیں آ رہا، کیا جوڈیشری فیصلہ کرنا نہیں چاہتی جس کی جو جائز سزا بنتی ہے اسکو تو دیں۔

یہ بھی پڑھیں: پگڑیوں کو فٹبال بنانے کا کہہ کر کیا پراکسیز کے ذریعے ہمیں دھمکایا جارہا ہے؟ سپریم کورٹ

انہوں نے کہا کہ سب کو نہ دی جائے جو مرکزی لوگ ہیں انکو تو دی جا سکتی ہے۔ججز کی سلیکشن کا مسئلہ ہے، پہلے تو جائز لوگوں کو جج بنایا جاتا تھا، اٹھارویں ترمیم کے بعد معاملہ ججز کے پاس چلا گیا، ان لوگوں نے گروپ بنائے ہوئے ہیں، فیصلے اپنی مرضی کے کروائے جاتے ہیں جو سراسر نا انصافی ہے، بہت سارے وکلاء کتنے لوگوں کو ہٹا کر نیچے سے اٹھا کر سپریم کورٹ میں لے گئے، یہ بات پاکستان میں تباہی کا باعث بنے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کی جوڈیشری میں پاکستان آج کہاں کھڑا ہے، اسکی وجہ ججز کی سلیکشن ٹھیک نہیں ہے۔ججز نے اس سے قبل کبھی خط نہیں لکھا۔ خط لکھا نہیں گیا تو پہلے ہی لیک ہو گیا، کیا یہ پریشر اچانک آیا، نہیں یہ بہت سالوں کا پریشر ہے جو خط لکھتا ہے اس سے پوچھا جائے کہ یہ کیسے آیا۔جب پر دباؤ آنا شروع ہوا تو اس وقت آپ نے بات نہیں کی آپ کے اپنے خلاف بھی کیس ہے دہری شہریت کا۔ آپ نے زبانی اطہر من اللہ کو بتایا اس کا تحریری پروف ہونا چاہیے، اب آپ پریشر ڈال رہے ہیں جوڈیشری کو جوڈیشری کے طور پر چلائیں، آپ نے اتنے بڑے کیسز کے فیصلے کرنے ہیں، آپ چیف جسٹس آف پاکستان سے بات کرتے تو اسکا بہت اچھا نتیجہ نکلتا آپ خفیہ اداروں کیخلاف بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ ان کو بلا کر بات کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔