’’اسرائیل کے خلاف مقدمے کی سماعت دیکھنے کے لیے لوگ رات سے بیٹھے ہوئے تھے‘‘

ایاز مورس  اتوار 19 مئ 2024
نیدرلینڈمیں مقیم نوجوان پاکستانی دانشور رمیزالرحمٰن کا عالمی عدالت میں صہیونی ریاست پرمقدمے کی کارروائی کااحوال بیان۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

نیدرلینڈمیں مقیم نوجوان پاکستانی دانشور رمیزالرحمٰن کا عالمی عدالت میں صہیونی ریاست پرمقدمے کی کارروائی کااحوال بیان۔ فوٹو: ایکسپریس ویب

کچھ مضامین آپ کے علم اور ذہانت کی علامت نہیں ہوتے ہیں بلکہ آپ کے کردار، سوچ، افکار اور بطور لکھاری آپ کے معیار کو تاریخ کے ترازو میں آپ کے وزن کو تولتے ہیں، جس کا فیصلہ صرف اور صرف وقت کرتا ہے۔

میں عام طور پر ایسے موضوعات پر نہیں لکھتا ہوں لیکن ایک لکھاری ہونے سے پہلے میں ایک انسان ہوں اور اُن کوششوں کی قدر کرتا ہوں جو عوامی جذبات اور انسانیت کی ترجمانی کرتی ہیں۔ اس لیے آج کے اس مضمون میں ایک ایسے نوجوان پاکستانی دانش ور سے ہونے والی گفتگو پیش کر رہا ہوں جو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف ساؤتھ افریقہ کی طرف سے عالمی عدالت میں اسرائیل پر مقدمے اور فیصلے کی کارروائی کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔

گذشتہ دنوں میں نے’’احفاظ ا لرحمٰن ایوارڈ برائے جرأت اور آزادی اظہار‘‘ 2024 کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ ایوارڈ سنیئر صحافی اور شاعر احفاظ الرحمٰن کی یاد میں سیاسی اور ثقافتی آزادی، تکثیریت اور تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف اور فروغ کے لیے ان غیرمعمولی شخصیات کو دیا جاتا ہے جو ان اقدار میں یقین رکھتی ہیں اور ان کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔ اس مرتبہ یہ ایوارڈ سنیئر صحافی ناصر زیدی کو دیا گیا۔ اس تقریب میں ہی میری ملاقات جناب احفاظ الرحمٰن کے صاحب زادے رمیزالرحمٰن سے ہوئی جو پیشے کے اعتبار سے پیٹنٹ اٹارنی اور کمپیوٹر سائنس داں ہیں اور نیدرلینڈ میں قیام پذیر ہیں اور ان دنوں کراچی آئے ہوئے تھے۔

رمیز نہ صرف وسیع المطالعہ نوجوان ہیں، ساتھ ہی وہ تحریروں کے ذریعے معاشی ناہم واریوں، عالمی سیاست اور ظلم واستحصال پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں اور عملی طور پر بھی اپنے آدرشوں کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی اہلیہ کے ساتھ اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرتے رہے ہیں بلکہ کچھ عرصہ قبل جب نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں غزہ کے حوالے سے مقدمے کی سماعت ہوئی تو انھیں یہ سماعت عینی شاہد کے طور پر دیکھنے کا موقع ملا۔ ہماری ان سے گفتگو کا بڑا حصہ اسی سماعت اور غزہ کی صورت حال پر عالمی ردعمل پر محیط ہے۔

رمیز الرحمٰن نے بتایا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا ہیڈ آفس ہیگ شہر میں ہے اور میں اس کے قریب رہتا ہوں جو بائسیکل کی 35 منٹ کی مسافت پر ہے۔

11جنوری کو پہلی سماعت پر مجھے پتا چلا کہ کورٹ 8 بجے کھلے گا مگر میں 6 بجے ہی پہنچ گیا۔ میں نے سوچا ابھی دو گھنٹے باقی ہیں تو مجھے وزیٹرز کی نشست مل جائے گی۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ وزیٹرز کی نشست تعداد میں صرف 14 ہیں۔ باقی تمام، اہم عہدوں پر فائز لوگوں اور اقوام متحدہ کے کمیشن وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ تو جب میں صبح 6 بجے پہنچا تو پتا چلا کہ لوگ رات سے بیٹھے ہوئے تھے اور میرے لیے کوئی جگہ نہیں بچی تھی۔ اس کے بعد دوسری سماعت اسرائیل کے دفاع کے بارے میں تھی جسے سننے کی مجھے کوئی خواہش نہیں تھی۔

26 جنوری کو میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ جب فیصلے کی تاریخ کا اعلان ہوگا تو میں ضرور شرکت کروں گا۔ یہ کیس آئی سی سی کی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخ ساز فیصلہ تھا۔ اس دفعہ میں تقریباً رات تین ساڑھے تین بجے پہنچ گیا۔ مجھ سے پہلے چار یا پانچ لوگ وہاں موجود تھے۔ ہم وہاں بیٹھے رہے۔ کئی ممالک اور مختلف شہروں سے لوگ آئے ہوئے تھے، خوش قسمتی سے مجھے ان 14 لوگوں میں جگہ مل گئی۔ پھر انہوں نے ہمیں کارڈ دیا، کارڈ لے کر ہم واپس آ گئے۔ انہوں نے کہا جب سماعت شروع ہوگی تب آپ اندر آسکتے ہیں۔ مقررہ وقت پر پہنچ گیا۔ چیف جج جنہیں چیف جسٹس کہہ سکتے ہیں نے بولنا شروع کیا۔ انہوں نے پہلے جملے ہی میں کہا کہ ’’7 اکتوبر کو جو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا وہ قابل مذمت ہے‘‘ تو میرا دل ڈوبنا شروع ہوگیا، میں نے کہا یہ تو اب فلسطین کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے، کیوںکہ انہوں نے اس سے شروع کردیا ہے۔ دھیرے دھیرے انہوں نے بات آگے بڑھائی، ’’لیکن اس کے بعد اسرائیل نے جو جوابی کاروائی کی، عمارتوں اور انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا۔‘‘ یہ سُن کر میرے کو دل کو تھوڑی تسلی ہوئی کہ یہ لگ رہا ہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔

میں کیوں سمجھ رہا تھا کہ شاید فیصلہ ہمارے حق میں نہ آئے؟ کیوںکہ اسرائیل اور فلسطین کے موضوع پر نام ور اسکالر سیاسی تجزیہ کار، نارمن فنکل اسٹین ( Finkelstein Norman) کا بھی موقف تھا کہ شاید فیصلہ فلسطین کے حق میں نہیں آئے گا، کیوںکہ وہ کہتے تھے کہ یہ ساری چیزیں سیاسی ہوتی ہیں۔ وہاں سے امریکا دباؤ ڈالے گا۔ تو یہ فیصلہ فلسطین کے حق میں نہیں آنے والا ہے۔ لیکن فیصلہ فلسطین کے حق میں آیا، بلکہ اور تقریباً غیرمتوقع فیصلہ آیا، صرف اسرائیل اور یوگنڈا کی جج صاحبہ نے مخالفت کی جن پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔

باقی 14 ساتھیوں کی طرح میر ے لیے یہ ایک منفرد اور جذباتی لمحات تھے، کیوںکہ جیسے ہی جج صاحبہ نے بتانا شروع کیا کہ فلسطینیوں کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے، تو اس وقت آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ جو بتا رہی تھیں وہ نہایت تکلف دہ تھا۔ انٹرنیشنل میڈیا وہاں موجود تھا۔ فلسطین کو انٹرنیشنل میڈیا میں صحیح طرح کور نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ عالمی میڈیا کی بے حسی اور منافقت ہے، جس کا ذکر نام ور صحافی ضرار کھوڑو نے ایک کانفرنس میں ’’عالمی میڈیا اور غزہ میں نسل کشی‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا۔

بہرحال ہمیں خوشی ہوئی، پھر ہم کورٹ سے باہر نکلے، فلسطین کے حمایتی کافی مایوس تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں سیز فائر کا حکم نہیں دیا گیا تو فائدہ کیا۔ میں نے اور دیگر چند لوگوں نے انھیں سمجھایا کہ جو سارے پروفیشنل میجرز ہیں، اگر آپ نے پڑھے ہیں تو وہ سیز فائر ہی ہیں، کیوںکہ وہ ان احکامات کی تکمیل کرنے کے لیے سیز فائر ہی کرنا پڑے گا، سیزفائر کے بغیر وہ آپ ساری چیزیں پوری کر ہی نہیں سکتے۔

عدالت انصاف کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’’اسرائیل کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے اختیار میں موجود تمام اقدامات کرے تاکہ غزہ میں نسل کشی کے مترادف واقعات سے بچا جا سکے اور نسل کشی پر اْکسانے والوں کو سزا دی جائے۔‘‘ واضح رہے کہ عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ’’اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی فوجیں غزہ میں نسل کشی نہ کریں اور مبینہ نسل کشی کے شواہد کو محفوظ رکھا جائے۔‘‘

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں 84 صفحات پر مشتمل ایک درخواست جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے مترادف ہیں کیوںکہ ان کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کے ایک اہم حصے کو تباہ کرنا ہے۔ بے شک اس فیصلے کے کئی ماہ بعد بھی اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ رکا نہیں، لیکن اس عدالتی فیصلے سے فلسطینیوں کی آواز عالمی سطح تک ضرور پہنچی ہے جو ایک بڑی کام یابی ہے۔

رمیزالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم فلسطینیوں کے حق میں پُرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن یورپ میں بہت سختی ہے، خاص طور پر نیدرلینڈ میں جہاں میں رہتا ہوں، وہاں تو سختی ہے ہی، لیکن اس سے کہیں زیادہ جرمنی میں ہے۔ آج کل تو حالات ایسے ہیں کہ ان اداروں کی فنڈنگ بند ہو رہی ہے جو اسرائیل کے خلاف ہیں یا ان اداروں کی جن کے ملازمین نے اپنے پرائیویٹ انسٹاگرام پوسٹ میں فلسطین کی حق میں کچھ کہہ دیا ہے۔

امریکا میں بہت بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ امریکا میں جو مظاہرے ہورہے ہیں، ان کی قیادت زیادہ تر یہودی طالب علم کررہے ہیں، جن میں کرسچین بھی شامل ہیں۔ معروف مفکر نوم چومسکی اسرائیل کے سب سے بڑے مخالف رہے ہیں، وہ بھی یہودی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ تاریخی طور پر دیکھیں، تو نارمن فنکل اسٹائن جو کہ اب تک اسرائیل کے سب سے بڑے ناقد رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل، خاص طور پر غزہ سے متعلق اُمور پر اُن سے بڑا اسکالر بھی پیدا نہیں ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رمیزالرحمٰن نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے فلسطین کے لیے اقوام متحدہ میں تقریریں تو کیں، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا ہے۔ ہمیں اب یہ معلوم ہوگیا ہے پاکستان، سعودی عرب اور امریکا کا ساتھی اور حمایتی ہے اور یہ دونوں ممالک، اسرائیل کے سب سے بڑے سپورٹر ہیں، تو ہماری حکومت ظاہر ہے، عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتی۔ پاکستان میں جو احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں وہ یورپ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے۔ یہاں تو ہر ہفتے، بلکہ روزانہ مظاہرے ہونے چاہیے تھے۔

اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو حکومت کی جانب سے بے حسی ہے، دوسرے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں میں اتنا شعور ہی نہیں ہے، کیونکہ ایک اس موضوع کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا ہے، سو میرا خیال ہے جو عام لوگ ہیں جو کہ ہیں تو مسلمان، لیکن ان کو اس بات سے خفا ہوتے ہیں کہ تم ہر چیز کو مسلمانوں اور اسلام سے جوڑ دیتے ہو، تو وہ لوگ بھی اس میں حصہ نہیں لیتے، جب کہ فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے یہ فلسطینیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ لیفٹ ونگ کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اس کے لیے مل کر آواز اُٹھانی چاہے۔

قارئین میں سمجھتا ہوں کہ غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ کا کیا پس منظر ہے۔ آپ کا رنگ، نسل، ذات، ملک اور مذہب کچھ بھی ہو بس آپ کے اندر انسانیت اور احساس کا جذبہ زندہ ہونا چاہیے۔ جنگ کسی بھی ملک اور خطے میں ہو وہ انسانیت کی بقاء اور دُنیا میں امن کے دیرپا قیام کے لیے شدید خطرہ ہے۔ اس لیے تمام ممالک، مذہبی راہ نماؤں اور اقوام متحدہ کو جنگ بندی اور دُنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔