فلسطین کے حق میں پہلی عالمی ادارہ جاتی آواز

ڈاکٹر فاروق عادل  پير 27 مئ 2024
farooq.adilbhuta@gmail.com

[email protected]

کشمیر کا ذکر ہوا تو اقبال تڑپ اٹھے اور انھوں نے سوال کیا ع
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر؟

فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے بدترین مظالم بلکہ نسل کشی کے بارے میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ سامنے آیا تو یہ مصرع زبان پر بے ساختہ آ گیا۔ کشمیر میں عوام کے حق خود ارادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ایسا لگتا ہے کہ اقبال نے دل نکال کر کاغذ پر رکھ دیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ کشمیر ہو یا فلسطین بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو، اقبال کا یہ ترانہ اسے صرف زبان نہیں دیتا بلکہ احتجاج کا جھنڈا بلند کرتا ہے۔ پہلے ایک نظر اس نظم پر

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر
سینہ ٔ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر
کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ دہقان پیر
آہ!یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر؟

اس حقیقت میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ فلسطین میں تاریخ کی بدترین خون ریزی اور نسل کشی کے بارے میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اس اعتبار سے تو حوصلہ افزا ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کے مراکز پر چھائی ہوئی بے حسی میں یہ امید کی کرن ہے۔ اس طرح کم از کم یہ تو ہوا کہ اسرائیل کی بہیمیت اور حیوانیت کے بارے میں قانون نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ یوں اب یہ ممکن نہیں رہے گا کہ کوئی طاقت منھ بھر کر اسرائیل کی حمایت کر سکے۔

اسرائیل کے ظالمانہ طرز عمل کے نتیجے میں امریکی جامعات کے طلبہ کے غیرت مندانہ احتجاج اور باضمیر امریکی رائے عامہ کی مخالفت کے بعد اتنا تو ہوا کہ واشنگٹن انتظامیہ دبا ؤمحسوس کرنے لگی ہے اور اس نے اسرائیل کو کسی حد تک اسلحے کی فراہمی روکی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اسرائیلی جارحیت کی کھلی حمایت اب امریکا اور اس جیسی طاقتوں کے لیے ممکن نہیں رہے گی۔

اس پہلو سے فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حوصلہ افزا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاروں طرف پھیلے ہوئے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ روشنی کی پہلی کرن ہے جس پر کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔

اس فیصلے کا ایک پہلو اور بھی ہے جس کا تعلق انسانیت کے خلاف جرائم کرنے والے ملک اور اس کے راہ نما نیتن یاہو کے خلاف اس کے گناہوں کی سزا بھی ضرور سنائی جانی چاہیے تھی۔ یہ سزا اگر سنا دی جاتی، نیتن یاہو اور اس کی قاتل انتظامیہ اور مجرمانہ طرز عمل رکھنے والی فوجی قیادت کو سزا سنائی جاتی، ان کی گرفتاری کا حکم ہوتا یا اس سے بڑھ کوئی سزا تجویز ہوتی تو اس فیصلے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی۔

اس فیصلے کی اہمیت خواہ علامتی ہی رہتی لیکن اس کے باوجود قانونی طور پر ہمیشہ کے لیے ثابت ہو جاتا کہ اسرائیل ایک مجرم ریاست ہے، انسانیت کے خلاف جس کے جرائم ثابت ،دہ اور تصدیق شدہ ہیں۔ یہ فیصلہ ان عالمی قوتوں پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتا جو کھلے یا چھپے کسی نہ کسی طرح اسرائیل کی پشت پناہی کرتی ہیں یا اس کے جرائم کی طرف اپنی آنکھیں بند رکھتی ہیں۔

اس فیصلے نے مسلم دنیا اور خاص طور پر فلسطینی عوام کے دوستوں اور اس سے محبت کرنے والی اقوام کے لیے کچھ کرنے کی ایک نئی کھڑکی کھولی ہے۔ جنوبی افریقہ عالمی عدالت انصاف میں یہ مقدمہ لے کر گیا تھا۔ اس کے علاوہ آئرلینڈ، ناروے اور اسپین نے اپنے طور پر ایک جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے وجود کو تسلیم کر لیا ہے۔ ان ملکوں کا یہ فیصلہ اگر چہ دو ریاستی حل کا دروازہ کھولتا ہے۔ یہ ایک ایسا حل ہے جسے فلسطینی عوام تسلیم نہیں کرتے۔

پاکستان نے بھی روز اول سے دو ریاستی حل کو مسترد کرتے ہوئے اس مؤقف کا ساتھ دینے کا ہمیشہ اعادہ کیا ہے جو فلسطینی عوام کو قبول ہو۔ یوں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اس قضیے کے بارے میں ہمارے تاریخی اور منصفانہ مؤقف کے خلاف ہے لیکن اس کے باوجود یہ امید کی ایک بڑی کرن ہے۔

اب کرنے کا کام یہ ہے کہ مسلم دنیا اور خاص طور پر قائدانہ کردار ادا کرنے والے اسلامی ممالک بڑی حکمت اور دانش مندی کے ساتھ ایک حکمت عملی تیار کر کے خاص طور پر ان چار ملکوں اور ان دیگر ممالک کے ساتھ رابطہ کریں جن کے ہاں فلسطین کے بارے میں ذرا سا نرم گوشہ بھی پایا جاتا ہے۔

اس حکمت عملی کا مقصد فلسطین کے حق میں ایک متحرک اورمؤثر بلاک کی تشکیل ہونا چاہیے جو علاقائی اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں کردار ادا کر سکے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد مسلم دنیا فوری طور پر متحرک ہو کر ان ملکوں اور اقوام سے رابطے کی حکمت عملی تیار کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔
سخن وران ملتان

ملتان کی شناخت ایک سے بڑھ کر ایک ہے لیکن حقیقت یہ ہے ملتان خود ایک شناخت ہے۔ اس حقیقت کے باوجود میرے نزدیک ملتان کا حوالہ رضی الدین رضی ہیں۔ رضی صاحب ہیں تو میرے ہم پیشہ یعنی صحافی ہیں لیکن ان کی پہلی اور بنیادی شناخت ادب ہے اور ادب میں شاعری ان کا بہترین انتخاب ہے اور انھوں نے غزل کے علاوہ نظم میں خوب طبع آزمائی کی ہے اور اس صنف میں نئے تجربات کیے ہیں۔ انھوں نے نظم میں انسانی محسوسات کو منفرد انداز میں بیان کیا ہے، جیسے ‘ ہر اسمندر’کے عنوان سے یہ مکالماتی نظم ہے

پوچھا
” ہرا سمندر گوپی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی ؟ ”
بولی
” میری آنکھوں میں ہے
تیری آنکھوں جتنا پانی”

ان ہی رضی صاحب نے ایک کارنامہ کر ڈالا ہے۔ یہ کارنامہ کیا ہے، شہر کے سخن وروں اور دانش وروں کا تذکرہ ہے جسے انھوں نے ‘ سخن وران ملتان’ کے عنوان سے قلم بند کیا ہے۔ کسی شہر کا ادب اور تخلیق کار ہی اس پہچان اور آبرو ہوتے ہیں۔ وہ شہر خوش قسمت ہوتے ہیں جن کے ادیبوں اور دانش وروں کی سرگرمیوں اور ان کی تخلیقات کا احوال مرتب ہو جائے۔

یہی تذکرے اور احوال ہوتے ہیں جنھیں کوئی محفوظ کر جائے تو شہر کی تاریخ کا رخ متعین ہو جاتا ہے اور بعد والوں معلوم ہوتا ہے کہ ان سے پہلے والوں نے کس جوکھم سے بلکہ خون جگر سے سینچ کر ادبی روایت پروان چڑھائی۔ سخن وران ملتان ایک ایسا ہی تذکرہ ہے جس میں دبستان ملتان کی ادبی بیٹھکوں کا احوال اور شہر کی قد آور ادبی شخصیات کی سرگرمیوں اور مزاج کی منظر کشی کی گئی ہے۔

اس تذکرے میں رضی الدین رضی صاحب نے ملتان کی پچاس قد آور ادبی شخصیات کے احوال قلم بند کیے ہیں۔ یہ تذکرے مختصر ہیں، جامع ہیں اور دل چسپ ہیں۔

رضی الدین رضی نے ملتان کی ادبی بیٹھک کے پہلے سال کا احوال لکھ کر ادبی مؤرخ کو نہ صرف مصدقہ مواد فراہم کر دیا ہے بلکہ پاکستان کے ادیبوں یہ راہ بھی دکھائی ہے کہ اپنے شہر کے ادبی مزاج کو کیسے محفوظ کرنا ہے اور شہر والوں کو بتانا ہے کہ شہروں کی زندگی اور پہچان سنگ و خشت نہیں، ادیب ہوتے ہیں اور ان کی تخلیقات ہوتی ہیں۔

رضی صاحب نے بسم اللہ کر دی ہے، اب ہم آئندہ برسوں کی کہانی کے منتظر ہیں۔ قوی امید ہے کہ رضی صاحب جلد یہ کارنامہ بھی کر گزریں گے، ان شااللہ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔