امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو جنگی اسلحے کی فروخت پر پابندی ہٹانے کا امکان

ویب ڈیسک  اتوار 26 مئ 2024
سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت پر پابندی جوبائیڈن نے 2021 میں صدر منتخب ہونے کے بعدعائد کی تھی—فائل/فوٹو: رائٹرز

سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت پر پابندی جوبائیڈن نے 2021 میں صدر منتخب ہونے کے بعدعائد کی تھی—فائل/فوٹو: رائٹرز

  واشنگٹن: امریکا کی جانب سے آئندہ چند ہفتوں میں سعودی عرب پر جنگی اسلحے کی فروخت پر عائد پابندی ختم کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے پہلے ہی سعودی عرب کو عندیہ دیا گیا تھا کہ وہ پابندی ہٹانے کے لیے تیار ہے۔

معاملے سے جڑے عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو اس بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا۔

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے دو روز قبل بتایا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب جوہری توانائی، سیکیورٹی، دفاعی تعاون، ریاض اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے دوطرفہ معاملات پر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگی اسلحے کی فروخت پر عائد پابندی ہٹانے کا براہ راست تعلق ان مذاکرات سے نہیں ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کو امریکا اور سعودی عرب کے سرکاری اطلاعات کے دفاتر کی جانب سے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اسلحے کی خریداری میں امریکا کا سب سے بڑا خریدار ہے تاہم مذکورہ پابندیوں کی وجہ سے فروخت رکی ہوئی ہے جبکہ دہائیوں سے گزشتہ انتظامیہ نے مذکورہ اسلحے کی فراہمی جاری رکھی ہوئی تھی۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے 2021 میں منصب سنبھالنے کے بعد سعودی عرب کے خلاف سخت مؤقف اپنایا تھا، جس کی وجہ سے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی مہم تھی کیونکہ مذکورہ تنازع میں بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔

بائیڈن کو سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ریکارڈ پر بھی تحفظات تھے اور خاص طور پر 2018 میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی اور سیاسی مخالف جمال خاشقجی کے قتل پر امریکی صدر نے اسلحے کی فروخت پر پابندی سخت کردی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔