9 مئی کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا لازم ہے، فارمیشن کمانڈرز کانفرنس

ویب ڈیسک  جمعرات 30 مئ 2024
فوٹو : آئی ایس پی آر

فوٹو : آئی ایس پی آر

 اسلام آباد: فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء کا کہنا ہے کہ ملک  کے وسیع تر مفاد میں لازم ہے کہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت83ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے بھی شرکت کی۔ فورم کی شہداء کے ایصال و ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

فورم نے ملک کی حفاظت، سلامتی اور خود مختاری کے لیے مسلح افواج کے افسران و جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں سمیت شہداء کی عظیم قربانیوں کو زبردست خرا ج عقیدت پیش کیا۔

فورم کا کہنا تھا کہ قانون کی عمل داری کو قائم کرنے اور 9مئی کے مجرمان کے خلاف فوری اور شفاف عدالتی اور قانونی کارروائی کے بغیر ملک ایسے سازشی عناصر کے ہاتھوں ہمیشہ یرغمال رہے گا۔

شرکاء کو جیو اسٹریٹجک حالات، قومی سلامتی کے لیے اُبھرتے ہوئے چیلنجز اور ملٹی ڈومین خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا جبکہ پاک فوج کو جدید بنانے اور فیلڈ فارمیشنز کے لیے لاجسٹک سپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے نئی تکنیکی تخلیقات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

فورم نے افغانستان کی سرحد پار سے مسلسل خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے دہشتگردی کی منصوبہ بندی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کے دشمن پاکستان کے اندر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں۔‘‘

شرکاء نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی بیش بہا قربانیوں کا اعتراف کیا جبکہ دہشتگردی کو فیصلہ کن شکست دینے کے لیے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ فورم نے بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ بیرونی طور پر پروپیگنڈا کرنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

فورم نے کہا کہ پروپیگنڈا کرنے والوں کی پشت پناہی غیر ملکی سپانسرڈ پراکسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو امن اور ترقی سے دور رکھا جا سکے۔

فورم نے مشرقی سرحد پر موجودہ صورتحال اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے تازہ ترین واقعات کا جائزہ لیا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ فورم نے بھارت میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بڑھتے ہوئے فاشزم پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کی۔

فورم نے غزہ پٹی کے اندر رفح آپریشن اور دیگر تمام آپریشنز کو روکنے کے لیے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی حمایت کی۔

شرکاء کانفرنس نے کہا کہ ’’ریاستی اداروں بالخصوص افواج پاکستان کے خلاف جاری شدہ ڈیجیٹل دہشت گردی، مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے بیرونی سہولت کاروں کی مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے، اسکا مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستانی قوم میں مایوسی پیدا کرنا اور قومی اداروں بالخصوص افواج پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے۔ پاکستانی قوم جھوٹ اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے مذموم اور مکروہ عزائم سے پوری طرح باخبر ہے اور اِن ناپاک قوتوں کے مذموم ارادوں کو مکمل اور یقینی شکست دی جائے گی انشاء اللّٰہ۔

فورم نے پائیدار اقتصادی ترقی اور غیر قانونی سرگرمیوں بشمول اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کو روکنے، وَن ڈاکومنٹ رجیم، غیر قانونی غیر ملکی تارکین کی باعزت وطن واپسی سمیت قومی ڈیٹا بیس کی حفاظت کے لیے مختلف شعبوں میں حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کا عزم کیا۔

آرمی چیف نے مختلف مشقوں کے دوران فارمیشنز کی اعلیٰ و معیاری تربیت اور انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں افسران اور جوانوں کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔ آرمی چیف نے فارمیشنز کے بلند حوصلے اور ہمہ وقت آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہا۔

شرکاء کانفرنس نے حاضر سروس، ریٹائرڈ افسران اور جوانوں کی تربیت، انتظامیہ اور فلاح و بہبود کے لیے فوجی سطح پر کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ فورم نے یوم تکبیر پر پاکستان کی طرف سے حاصل کیے گئے اہم سنگ میل اور خطے پر اس کے مستحکم اثرات کو سراہا۔

کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ’’ملک کی سلامتی اور استحکام کو درپیش تمام خطرات کو قابل فخر قوم کی مکمل حمایت سے ناکام بنا دیا جائے گا۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔