حج بیت اللہ ؛عشقِ الٰہی کا حسین مظہر

لبیک اللھم لبیک ان الحمدوالنعمۃ لک والملک لاشریک لک ۔ فوٹو : فائل

لبیک اللھم لبیک ان الحمدوالنعمۃ لک والملک لاشریک لک ۔ فوٹو : فائل

اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیمؑ کوکئی انعامات عطا فرمائے اور ان میں سب سے بڑا انعام یہ دیا کہ عبادت حج کو حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے گھرانے کے نام منسوب کردیا۔

حضرت ابراہیم ؑ عاشق صادق تھے، حج بھی عاشقانہ عبادت ہے۔ ابتدا سے انتہا تک پوری عبادت عشق سے عبارت ہے۔ لوگ اپنے دل میں بیت اللہ کے طواف، وقوف عرفہ اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کی جستجو لے کر احرام باندھ کے نکل پڑتے ہیں۔ ہر سال انسانوں کا جم غفیر کئی ممالک سے ایک ہی مقا م پر اکھٹا ہوتا ہے۔

اس کی کیا وجہ ہے اور یہ بھی کہ وہاں کیوں مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ آخر اس عبادت حج کی کیا۔ اہمیت ہے؟ ان تمام باتوں پر غور کرنے کے لیے ہمیں کلام الٰہی ے رہنمائی لینی چاہیے۔ یہ عبادت بڑی محبوب ہے اس کی فضیلت اور شان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن میں ایک سورۃ نازل کی گئی اور یہ سورۃ قرآن مجید میں 17ویں پارے میں ہے۔ اس میں میرے پیارے رب نے حج کے احکام اور فضائل بیان کیے ہیں اور اس سورۃ کا نام ہی ’’سورۃ حج‘‘ رکھا گیا ہے، اس سورۃ کا آغاز اس آیت کریمہ سے ہوا ہے:

یایھاالناس اتقو ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم۔۔۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی ہول ناک شے ہے۔ اس دن تم دیکھو گے کہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیں گی، حالاںکہ ماں کی ممتا کو سب گوارا ہے۔ بچے کی جدائی گوارا نہیں لیکن اس روز مائیں اپنے بچوں کو دیکھیں گی بھی نہیں۔ قیامت کا زلزلہ اتنا شدید ہوگا کہ حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے۔ یہ ایسی تنگی کا دن ہوگا کہ لوگ نشے اور مدہوشی کے عالم میں ہوں گے۔ قیامت کا زلزلہ اتنا شدید ہوگا کہ اس کی دہشت سے لوگوں کا برا حال ہوگا اور لوگ حواس باختہ نظر آئیں گے۔ یہ سورۃ پڑھ کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

کاش کہ آج کا مسلمان اس سورۃ کو دل کی تڑپ کے ساتھ تلاوت کرتا۔ یہ سورۃ تو حج کے متعلق ہے لیکن ابتدائی آیات میں قیامت کا ذکر ہے۔ اب حج اور قیامت میں کیا جوڑ اور کیا ربط ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حج کی عباد ت عرفات کے میدان میں حاضری سے ادا ہوتی ہے۔ یہ ایک وسیع وعریض کھلا میدان ہے جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے ہر رنگ ہر نسل، ہر زبان ہر قوم، ہر عمر ، ہر شکل کے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ یہاں بڑے چھوٹے، شاہ وگدا میں کوئی امتیاز نہیں۔ سب کی ایک ہی حالت اور کیفیت ہوتی ہے۔ یہاں سب کا ایک ہی اعلان ہوتا ہے:

لبیک اللھم لبیک ان الحمدوالنعمۃ لک والملک لاشریک لک

لاکھوں فرزندان توحید آج سے ہزاروں برس پہلے دی گئی ندائے ابراہیم کا جواب دینے کے لیے یہاں اکھٹے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ تیرا کوئی شریک نہیں، تیری ذات تمام صفات کی مالک ہے، سب نعمتیں تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں، ملک بھی تیرا، حکومتیں بھی تیری۔ بس اس ایک اعلان کے لیے ساری خدائی یہاں مرکزی مقام پر اکھٹی ہوتی ہے۔

یہاں جمع ہونے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ کُل عالم اسلام کے مسلمان اجتماعی طور پر اللہ پاک کی الوہیت وعظمت اورکبریائی بیان کریں۔ دوسرا مقصد جو سورۃ حج کے آغاز میں ہے جس طرح میدان عرفات میں ہر رنگ، نسل قوم، زبان عقل وشکل کے مختلف انسان جمع ہیں اس اجتماع اور اس میدان سے میدان محشر اور آخرت کے اجتماع کی یاد تازہ کریں اور سوچیں کہ ایک دن وہ بڑا اجتماع بھی منعقد ہونے والا ہے جہاں اسی طرح دنیا بھر کی مختلف قوموں نسلوں اور مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے انسان ہوں گے۔

یہ اجتماع دراصل میدان محشر میں ہونے والے اجتماع کی یاد تازہ کرنے کے لیے منعقد ہوتا ہے تاکہ امت مصطفی (ﷺ) کے اعمال میں اخلاص پیدا ہو اور وہ دنیا ہی کے اندر اپنی اصلاح کرسکیں۔ اسی مقصد کے لیے سورۃ حج کے آغاز میں میدان محشر کا منظر بیان کیا گیا ہے اور یہی وہ ربط ہے جو سورۃ حج میں بیان کر کے قائم کیا گیا ہے۔

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حج کی وضع بالکل سفر آخرت کی سی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ حجاج کو اعمال حج ادا کرنے سے مرنے کے بعد پیش آنے والے واقعات یاد آجائیں۔ مثلاً شروع سفر میں بال بچوں سے رخصت ہوتے وقت سکرات موت کے وقت اہل وعیال سے رخصت ہونے کو یاد کرو، اپنے وطن یا ملک سے باہر نکلتے وقت یہ سمجھو کہ تم فانی دنیا سے باہر نکل رہے ہو، سواری کے جانور یا آج کل جدید سواری کو جنازے کی چارپائی تصور کرو، احرام کی چادر کو کفن کی چادر شمار کرو، میقات حج تک پہنچنے میں جنگ بیاباں قطع کرتے وقت عالم برزخ یعنی قبر کی گہرائیوں کا تصور رکھو، لبیک اللھم لبیک کو قبروں سے اٹھنے اور میدان محشر میں حاضری کی صدا سمجھو۔ غرضے کہ اسی طرح ہر ایک عمل میں عبرت اور ہر معاملے میں آخرت کی یاد دہانی ہے ۔

حج کا ایک اور مقصد یہ ہے کہ اس عبادت کے اندر اجتماعیت ہے۔ ہمارا دین ایک عالم گیر دین ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے شہر کی مرکزی مسجد میں نماز ادا کرے تو پچاس نمازوں کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح اگر اور اہم جگہ چلاگیا تو ثواب بڑھ جائے گا۔

یہاں تک کہ اگر مسجد اقصیٰ میں وہی نماز ادا  کیگئی تو اسے پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ملے گا اور بیت اللہ میں وہی نماز ادا کی گئی تو اسے ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ملے گا۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ نماز وہی ہے مگر ثواب میں زیادتی آتی گئی۔ اس بات سے یہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اندر جوں جوں مرکزیت اور اجتماعیت بڑھے گی اجروثواب میں کئی گنا اضافہ ہوتا جائے گا۔

حج بیت اللہ اور میدان عرفات میں مسلمانوں کی وحدت فکر اور وحدت عمل کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ اللہ پاک کے نزدیک مسلمانوں کے اجتماع اور اتحاد میں اتنی برکت ہے کہ وہ ذات رحیم سابقہ گناہ بھی بخش دیتی ہے۔ اتحاد میں برکت ہے، حج کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے کہ سرورکائنات ﷺ کی امت اتحاد کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے۔ اللہ پاک ہم سب کو حج بیت اللہ نصیب فرمائے (آمین)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔