قربانی کی فضیلت اور قربانی کے جانور کی خصوصیات

فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

عید الاضحٰی کے موقع پر اسلام میں قربانی کی بہت زیادہ فضیلت و عظمت ہے اور یہ قربانی ہر صاحبِ نصاب پر واجب ہے اور اس کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ ’’جو شخص استطاعت رکھنے (صاحبِ نصاب ہونے) کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ نہ آئے‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)۔ قربانی ایسی فضیلت والی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے۔

قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہو جاتا ہے اور قربانی کرنے والے کی نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر بال کے بدلے میں قربانی کرنے والے کو نیکی ملتی ہے یہ قربانی کے جانور پل صراط پر سواریاں ہوں گے، ہر عمل کا ایک وقت ہوتا ہے جیسے کہ رمضان کے مہینے میں روزے، حج کے ایام میں حج، نماز کے وقت میں نماز اسی طرح قربانی کے دنوں میں قربانی ایک بڑا مقبول عمل ہے۔

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک (قربانی کے دن) دس ذوالحجہ کو کوئی بھی نیک عمل (قربانی کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قیامت کے دن بندہ اپنی قربانی کے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہو گا۔ (اور یہ چیزیں ثواب عظیم کا ذریعہ بنیں گی) نیز فرمایا کہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت پا لیتا ہے۔ لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی، ابن ماجہ)۔

قربانی کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ مَیں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔ نبیوں کا خواب سچا ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھا اور ایسی بات اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیئے جانے کے مترادف مانی جاتی تھی۔ اس لئے انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں نے ایسا خواب دیکھا ہے، تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا! ابا جان! آپ کو جو حکم ہوا ہے۔

اس پر عمل کر یں آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے (سورہ الصٰفٰت رکوع:3)۔ علماء و فقہاء کے صحیح قول کے مطابق قربانی صرف ان جانوروں کی مشروع ہے جن پر’’بہیم الانعام‘‘کا اطلاق ہوتا ہے، اور بالاتفاق علماء، فقہاء اور مفسرین نے لکھا ہے۔ وہ چار قسم کے جانور ہیں، ان کی صراحت قرآن کریم میں بھی آئی ہوئی ہے: اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ’’اور ہر امت کیلئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں ۔ ‘‘ (الحج:34) اور سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے انعام کی تفصیلات کے ضمن میں بھی انہی چوپایہ جانوروں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے نر مادہ دونوں کو ملا کر آٹھ اصناف بتائے ہیں، گو کہ یہ بیان قربانی کے حوالہ سے نہیں تا ہم الانعام کی تفصیلات اس سے بخوبی سا منے آ جاتی ہیں۔

اس لئے مسلمانوں کو مذکورہ جانوروں میں سے جس کی قربانی میسر ہو کرنی چاہئے، جن مقامات پر گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے وہاں کے مسلمانوں کو اس کی قربانی سے احتراز کرنا چاہیے، مبادا تقرب الٰہی کے حصول کا یہ ذریعہ مسلمانوں کے لئے فتنہ نہ بن جائے، اللہ بڑا حکیم ہے، اس کا کوئی بھی حکم حکمت سے خالی نہیں، قربانی کے لئے ایک ہی صنف کے جانور کی تخصیص نہ کر کے چار اصناف کے جانوروں تک جو وسعت دی گئی ہے وہ بھی اسی حکمت الٰہی کا حصہ ہے، اگر ایک جانور میں کوئی دقت اور زحمت ہے تو دیگر متبادل موجود ہیں۔

بھینس کی قربانی کا مسئلہ مختلف فیہ ہے تاہم یہ بات قطعی ہے کہ کسی بھی نص میں بھینس کی قربانی کا ذکر وارد نہیں، البتہ جن علماء نے بھینس کی قربانی جائز قرار دی ہے انہوں نے اسے گائے کی ایک قسم قرار دیا ہے مگر یہ درست نہیں، اس لئے کہ گائے اور بھینس دونوں کے رنگ، روپ، مزاج اور دودھ کی تاثیر اور دوسری چیزوں میں بڑا نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے بھینس کی قربانی کو درست نہیں مانا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ بہیمۃالانعام کا اطلاق بھینس پر نہیں ہوتا، اس لئے اس کا کھانا تو جائز ہے مگر اس کی قربانی مشروع نہیں۔ اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ بھینس کی قربانی سے احتراز کیا جائے اور اگر استطاعت ہو تو بکرا، بکری، بھیڑ، گائے یا اونٹ ہی کی قربانی کی جائے۔

یہ مسئلہ بھی مختلف فیہ ہے، امام احمد بن حنبل، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہا اللہ کا خیال ہے کہ سب سے افضل قربانی اونٹ کی، پھر گائے کی، پھر دنبہ اور بکرے کی ہے۔ بشرطیکہ اونٹ اور گائے کی قربانی ایک شخص کی جانب سے ہو اور ان میں شرکت نہ ہو ۔ ان حضرات کا استدلال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے ہے جس میں نبی کریمﷺ نے جمعہ کے دن پہلے آنے والوں کی فضیلت اور ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا، پھر پہلی گھڑی میں مسجد آیا تو اسے ایک اونٹ کی قربانی کا ثواب ملے گا، اور جو دوسری گھڑی میں آیا اسے گائے کی قربانی کا ثواب دیا جائے گا، اور جو شخص اس کے بعد آیا اسے ایک دنبہ کی قربانی کا ثواب ملے گا پھر اسی طرح بعد میں آنے والوں کے ثواب کا ذکر ہے یہاں تک کہ خطیب خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھ جائے۔

(بخاری و مسلم) ۔ فضلیت اور زیادہ ثواب کے لئے مذکورہ حدیث میں جانوروں کی جس ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے اس پر قیاس کرتے ہوئے مذکورہ علما کا خیال ہے کہ قربانی میں بھی فضلیت کی یہی ترتیب ہو گی۔ بعض علماء نے دنبہ اور بعض نے ’’جذعہ ضان‘‘ کی قربانی کو افضل بتایا ہے، اس لئے کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپﷺ نے دو سینگ والے مینڈھوں (دنبوں) کی قربانی کی، نیز ایک روایت میں آپ کا یہ ارشاد بھی ذکر ہوا ہے کہ بھیڑ کا جزعہ قربانی کے لئے بہت اچھا ہے۔‘‘ یہ جامع ترمذی کی روایت ہے، اور امام ترمذی نے خود اسے ’’غریب‘‘ قرار دے کر اس کے ضعف کی جانب اشارہ فرما دیا ہے، نیز محققین علما کے نزدیک اس روایت کا مرفوع کے مقابلہ موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔

اونٹ اور گائے میں ایک سے زائد لوگ شریک ہو سکتے ہیں، اونٹ میں اور گائے میں سات لوگ شریک ہو سکتے ہیں، بڑے جانوروں کی قربانی اگر کوئی تنہا بغیر کسی اور کو شریک کئے کرے تو جائز ہی نہیں افضل ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہﷺ نے آل محمد کی جانب سے ایک گائے کی قربانی فرمائی۔ (صحیح ابن ماجہ: 3135، صحیح سنن ابی داؤد: 1536) احادیث کی روشنی میں بنیادی طور پر قربانی کے جانور میں دو امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے: جانور دانتا ہو یعنی اس کے نیچے کے دودھ والے کم از کم دو دانت خود سے گر چکے ہوں۔ ظاہری عیوب سے پاک، خوبصورت، تندرست اور صحت مند ہو۔

اس سلسلہ میں اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے جس میں آپ ﷺ نے قربانی کے جانور کے سلسلہ میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ قربانی میں صرف دانتا ہی ذبح کرو، الا یہ کہ دانتا ملنا تمہارے لئے مشکل ہو تو بھیڑ کا جذعہ (ایک سال کی عمر والا) ذبح کرو‘‘ (مسلم) حضرت ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانوروں کو موٹا کرتے تھے اور سارے مسلمان بھی انہیں موٹا کرتے تھے۔‘‘ (بخاری) حضرت عائشہؓ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو تگڑے، موٹے، سینگ والے، چتکبرے اور خصی شدہ دنبے (مینڈھے) خریدتے۔‘‘(صحیح ابن ما جہ: 3122، مسند احمد: 225) ان احادیث سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کا موٹا تگڑا ہونا افضل ہے۔

آدمی اپنے گھر پالے تو اسے کھلا پلا کر موٹا کرے اور اگر خریدے تو حسب حیثیت موٹا اور تگڑا خریدے۔ لیکن اگر پال رہا ہے تو دوسروں کا کھلا کر نہیں جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ گاؤں میں قربانی کے جانور آزاد گھومتے رہتے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ صحت مند اور موٹا تگڑا ہونے کے ساتھ اگر قربانی کا جانور خوبصورت بھی ہو تو افضل ہے، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ’’رسول اللہﷺ نے قربانی کے لئے سینگ والا مینڈھا لانے کو کہا جس کے ہاتھ، پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں۔‘‘(مسلم) ان صفات کا حامل دنبہ یا بکرا ظاہر ہے دیکھنے میں خوبصورت لگتا ہے۔

اسی طرح اوپر ذکر کی گئی حضرت عائشہ و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے اندر سینگ دار اور چتکبرے مینڈھوں کا ذکر بھی آیا ہے، اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ قربانی کے لئے جہاں تک ممکن ہو خوبصورت جانور ہی کا انتخاب کرنا افضل ہے، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: قربانی میں چار قسم کے عیوب والے جانور درست نہیں (1) ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو (2) ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو (3) ایسا واضح لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو (4) ایسا کمزور جس میں چربی نہ ہو (ابو داؤد، ترمذی، ابن ما جہ) ایک روایت میں ’’الکسیر‘‘ کے بجائے ’’العجفاء‘‘ کا ذکر ہے جس کے معنی بھی نہایت لاغر اور کمزور ہی کے ہوتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آنکھ اور کان خوب اچھی طرح دیکھ لیں اور کان کٹے، پھٹے یا چیرے اور دم کٹے جانور کی قربانی نہ کریں (ابوداؤد، ترمذی) دوسری حدیثوں میں ان جانوروں کی قربانی سے بھی ممانعت آئی ہے: جس جانور کے سرے سے کان ہی نہ ہوں یا وہ بہت کمزور ہو۔ جس جانور کی سینگ جڑ سے ٹوٹی ہوئی ہو۔ جس جانور کا کان یا سینگ نصف یا ایک چوتھائی سے زائد کٹا ہو۔ ایسا جانور جس کا کان آگے سے کٹا ہو اور آگے سے لٹک رہا ہو۔ ایسا جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو اور پیچھے سے لٹک رہا ہو۔ ایسا جانور جس کا کان لمبائی میں کٹا ہو۔ ایسا جانور جس کے کان میں گول سوراخ ہو یا اس کا کان چوڑائی میں کٹا ہو۔ دم کٹا جانور۔

قربانی کا وقت یوم النحر 10 ذی الحجہ کو نماز عید کی ادائیگی کے بعد شروع ہوتا ہے جو ایام تشریق کے آخری دن یعنی 13 ذی الحجہ قبل مغرب تک باقی رہتا ہے۔ جس شخص نے نماز عید سے قبل قربانی کر دی اس کی قربانی درست نہ ہوگی، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ?نے فرمایا’’جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی اس نے اپنے کھانے کے لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد قربانی کا جانور ذبح کیا تو اس کی قربانی پوری ہوگی اور اس نے مسلمانوں کی سنت طریقہ کو پالیا۔‘‘ (بخاری و مسلم) احادیث کی روشنی میں عید الاضحی کا دن چھوڑ کر قربانی کے تین ایام مزید ہیں، احادیث کی رو شنی میں یہی بات راجح اور قوی ہے، چنانچہ اس تعلق سے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بہت واضح ہے جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا:’’یعنی ایام تشریق کے تمام دن قربانی کے ہیں۔‘‘ (مسند احمد: 82/4،ابن حبان: 3854، السنن الکبری: 239/5، صحیح الجامع الصغیر: 4537) اور ایام تشریق بالا تفاق 11، 12 اور 13 ذی الحجہ کو کہا جاتا ہے۔

چاہے قربانی کا جانور ہو یا عام ذبیحہ مسنون یہ ہے کہ چھری خوب تیز کر لی جائے تاکہ جانور آسانی سے ذبح ہو جائے، حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہئے کہ تم میں سے ہر شخص اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے ‘‘ ۔ (سنن ابو داؤد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قدرے ایک طویل حدیث مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے قربانی کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھری مانگی، اور فرمایا اسے پتھر پر تیز کر دو‘‘ (مسلم) حضور اقدسﷺ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی فرمائی (مشکوٰۃ) حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عید کے دن قربانی کا جانور (خریدنے) کے لئے رقم خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے یہاں اور چیزوں میں خرچ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔

(طبرانی) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: ’’اللہ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون پہنچتا ہے بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘ (پارہ17، سورۃ الحج آیت 37) قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عظیم الشان عمل کی یاد گار ہے یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی رضا جوئی کے لئے تھا اور قربانی کی اصل روح اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کر دے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی جذبے اوراپنی رضا کے لئے قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔