مشکل پچ پر سب سے بڑا مقابلہ

سلیم خالق  پير 10 جون 2024

’’بیگ زمین پر رکھ دیں کتا چیک کرے گا‘‘ سیکیورٹی اہلکار کے کہنے پر میں نے ایسا ہی کیا، پھر کتے نے لیپ ٹاپ بیگ کو سونگھنا شروع کیا،اس کے بعد اہلکار نے بیگ کو کھول کر تلاشی لی، یہاں سے آگے گیا تو پھر تلاشی کا عمل دہرایا گیا، اس سے قبل جس ٹیکسی میں اسٹیڈیم آیا اس کو بھی اچھی طرح جانچا گیا، میں نے پاکستان اور بھارت سمیت جنوبی ایشیائی ممالک کے سوا کسی اور ملک میں اتنی سخت سیکیورٹی نہیں دیکھی، پہلی بار امریکا میں ورلڈ کپ ہو رہا ہے،حکام کو دھمکیاں بھی ملی ہیں، اس لیے ایسے سخت انتظامات کیے گئے، آج کل کے دور بھی یہ ضروری بھی ہیں۔

آئی سی سی نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ جو صحافی میچ کیلیے ایکریڈیٹیڈ تھے انھیں پارکنگ ٹکٹ بھیج دیا، آپ اپنی کار،اوبر یا ٹیکسی کسی میں بھی آئیں وہ اسٹیکر اسکین کر کے اندر جانے کی اجازت ملتی رہتی، ہوٹل میں پاکستان ٹیم کی آنے کے بعد رونق بڑھ گئی ہے، لابی میں بھارتیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو اسٹیڈیم جانے کی تیاری کر رہے تھے، ویسے تو آئی سی سی کی پالیسی ہے کہ ٹیموں کا قیام فائیو اسٹار ہوٹلز میں ہو لیکن پہلے جو ہوٹل بک کرایا گیا وہ خاصا دور تھا اس لیے پی سی بی نے آئی سی سی سی سے کہہ کر لانگ آئی لینڈ کے ہوٹل میں بکنگ کروا لی،وہاں سے اسٹیڈیم 5 منٹ کے فاصلے پر واقع ہے، یہ ہوٹل شاید تھری اسٹار ہے البتہ دیکھنے میں فائیو اسٹار ہی لگتا ہے۔

اسٹیڈیم میں میڈیا پارکنگ سے چند قدم کے فاصلے پر مین بلڈنگ ہے، وہاں کا حال میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا، نساؤ کرکٹ اسٹیڈیم کسی عجوبے سے کم نہیں، چند ماہ قبل تک یہاں صرف میدان تھا اب زبردست اسٹیڈیم تیار ہو چکا، البتہ سب کچھ عارضی ہے،اسے کنٹینرز و دیگر کی مدد سے بنایا گیا، لوگ چلیں بھی تو سب کچھ ہلتا محسوس ہوتا ہے لیکن چونکہ ہم امریکا میں ہیں،اس لیے کوئی خوف نہیں یقینی طور پر یہاں اچھی طرح جانچ کے بعد ہی بلڈنگ کو کلیئرنس ملی ہوگی، میڈیا سینٹر تیسرے فلور پر ہے، لفٹ کی سہولت موجود نہیں، سیڑھیاں چڑھ کر جب اوپر پہنچا تو کئی صحافی دوستوں سے ملاقات ہوئی، اس بار پاکستان سے 30،35 صحافی کوریج کیلیے آئے ہوئے ہیں، میڈیا سینٹر خاصا وسیع ہے، ساتھ ہی کمنٹری باکس ہے۔

وہاں وسیم اکرم اور وقار یونس گپ شپ کرتے نظر آئے، برابر والے صوفے پر روی شاستری اکیلے بیٹھے گہری سوچ میں گم تھے، وسیم بھائی نے پاکستانی صحافیوں کی تعداد سے متاثر ہو کرکہا کہ ’’ ورلڈکپ جیسے ایونٹ میں ملکی میڈیا کی نمائندگی بھی ضروری ہے‘‘ اس دوران لوگ ٹو ڈبلیوز کے ساتھ تصاویر بنوانے آتے رہے، ان میں بھارتی صحافی بھی شامل تھے،دونوں نے کسی کو بھی انکار نہیں کیا، جب میں ہوٹل میں ہی تھا تو شاہد آفریدی سے بات ہوئی تھی،انھوں نے اسٹیڈیم میں ملاقات کا کہا تھا، مجھے ایک باکس میں وہ مل گئے ، ان سے ٹیم کی کارکردگی پر بھی گفتگو ہوئی،شاہد سدابہار شخصیت کے مالک ہیں، اب ریٹائر ہو چکے مگر ویسے ہی ہیرو جیسے لکس برقرار ہیں، شائقین کی بھی ان کے ساتھ محبت کم نہیں ہوئی ،وہ جہاں جائیں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔

وہاں نوجوت سنگھ سدھو بھی بیٹھے تھے میں ان سے  بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہ چونکہ مصروف نظر آئے اس لیے ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا، اس ایریا میں کرکٹرز کی بہار آئی ہوئی تھی، رکی پونٹنگ، رمیز راجہ وہ دیگر بھی نظر آئے، کچھ دیر میں کھانا لگ گیا صحافیوں کی تعداد دیکھ کر مجھے کسی نے مشورہ دیا کہ کھانا کھا لو یہ نہ ہو ختم ہو جائے، میں بھی لائن میں لگ گیا، مجھ سے آگے سابق بھارتی کرکٹر آکاش چوپڑہ تھے، جب میرا نام آیا تو ساری ڈشز خالی ہو چکی تھیں، وہاں موجود ویٹر نے بتایا کہ زیادہ لوگ آ گئے اس لیے کھانا کم پڑ گیا، پاکستان میں اکثر شادیوں میں ایسا ہو جاتا ہے ،ایسے میں جلدی جلدی بریانی کی دیگیں منگوائی جاتی ہیں۔

آئی سی سی نے لنچ باکسز کا انتطام کرایا جس میں سینںڈویچز وغیرہ شامل تھیں، ٹیم کے میڈیا منیجر رضا راشد بھی میڈیا سینٹر آئے، وہ اپنا کام بہترین انداز میں کر رہے ہیں، کرکٹرز کے ساتھ صحافیوں میں بھی یکساں مقبول ہیں، جب پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی جیتی تب بھی رضا ہی میڈیا منیجر تھے،دیکھتے ہیں اس بار بھی لکی ثابت ہوتے ہیں یا نہیں، میچ کے دوران اسٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا،ان میں سے بیشتر بھارتی تھے، وہ اپنی ٹیم کی شرٹس پہنے اور جھنڈے تھامے موجود تھے، گوکہ پاکستانی شائقین کم تھے مگر انھوں نے بھی سبز ہلالی پرچم لہرا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا، بیشتر گرین شرٹس پہنے نظر آئے ، شلوار قمیض میں ملبوس ایک بزرگ نے روایتی پگڑی باندھی ہوئی تھی۔

اسٹیڈیم کے ساؤنڈ سسٹم پر پاکستانی اور بھارتی گانے بھی چلتے رہے جس سے کراؤڈ میں مزید جوش بھر جاتا، نساؤ اسٹیڈیم کی ڈراپ ان پچ پر ویسے ہی خاصی تنقید ہو رہی ہے، آج بارش نے کام مزید خراب کر دیا، تاخیر سے آغاز کے بعد کھیل روکنا بھی پڑا، البتہ بعد میں دھوپ بھی نکل آئی،بھارتی ٹیم  کی بیٹنگ ناکام رہی، واضح طور پر کھلاڑی پچ سے ناخوش تھے۔

شائقین چوکوں چھکوں کی برسات کا خواب دیکھ کر آئے تھے مگر ایسا ہو نہ سکا، پاکستانی بولرز نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب بھی کوئی وکٹ گرتی کم تعداد میں موجود پاکستانیوں کی آوازیں بھی بلند ہو جاتیں، بھارتی ٹیم جب 119 رنز پر ڈھیر ہوئی تو بیشتر پاکستانی صحافیوں کا یہی کہنا تھا کہ بھارت کو شکست دینے کا ایسا موقع پھر کبھی شاید ہی دوبارہ ملے، بولرز خصوصا نسیم شاہ اور حارث رؤف اور محمد عامر نے بادلوں کی موجودگی میں ٹاس جیتنے کا بھرپور فائدہ اٹھایا، گوکہ چند کیچز ڈراپ ہوئے لیکن مجموعی طور پر فیلڈنگ بھی بہتر ہی رہی، ابھی پاکستان کی بیٹنگ شروع ہونے والی ہے، باقی باتیں انشا ء اللہ کل کرتے ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔